مجدد دین و ملت سیدنا پیر مہر علی شاہ گیلانی کا فتویٰ
جس شیعہ یا فرقہ میں یہ (شیعوں والے) اوصاف ہوں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ایسے شخص یا گمراہ فرقہ سے حسبِ اقتضائے حدیث "الحب للہ والبغض للہ" خلط ملط ہونا اور راہ و رسم رکھنا منع ہے۔
شیخینؓ (سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ) کو بُرا کہنے والا جمہور مسلمین کے نزدیک کافر ہے ایسے اشخاص سے برتاؤ کرنا اور اتحاد رکھنا بالکل ممنوع ہے شیعہ اور خوارج کبھی اہلِ سنت و الجماعت سے اتفاق کرنے کے حق میں نہیں بلکہ ان کو اپنے عقیدہ کے مطابق دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور صرف خود پر لفظ "مؤمن" کے اطلاق کو درست تصور کرتے ہیں۔
آج کل بعض خود غرض، شیعہ سنی کے اتحاد و اتفاق کا عالم اُٹھائے ہوئے ہے ہیں، کانفرنس اور جلسے کرتے ہیں اور ہمارے اکثر سنی ان مجالس میں شرکت کو حضرت حسینؓ کی وجہ سے باعثِ برکت و رحمت سمجھتے ہیں اُن پر واضح ہو کہ شیعہ اور خارجی ہرگز سنیوں کے بھائی نہیں بن سکتے، اور سنیوں کے خلاف ان کے دلوں میں زہر بھرا ہوا ہے، اسے وہ کبھی نکال نہیں سکتے، اب ذرا اتحاد پسند اور علم بردارانِ اخوت سنی حضرات اپنے کلیجے تھام کے بیٹھیں کہ ان کی باری ہے کیونکہ وہ شیعہ سنی بھائی بھائی کی رٹ لگاتے نہیں تھکتے اور اپنی محافل میں شیعہ کو اظہار اخوت کیلیے اہتماماً دعوت دیتے ہیں، خدا کرے کہ سنیوں کے حق میں شیعہ کا اندازِ فکر مثبت ہو جائے، ہمیں اس سے یقیناً بڑی خوشی ہوگی، مگر اب تو:
ہو چلی ختم انتظار میں عمر، کوئی نظر نہیں آتا
(فتویٰ امام اہلِ سنت مع تائيد علماءِ اہلِ سنت: صفحہ، 27)