حضرت مولانا شمس الحق عظیم آبادی کا فتویٰ - فتاویٰ جات |…

حضرت مولانا شمس الحق عظیم آبادی کا فتویٰ


صفحہ 2 از 2

اور فرمایا: فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ اَنۡدَادًا وَّاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ۞

(سورۃ البقرہ: آیت 22)

ترجمہ: پس نہ ٹھہراؤ اللہ تعالیٰ کے ساجھی اور تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی نہیں ہے۔

اور فرمايا: وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡـئًـا‌ الخ۔ 

(سورۃ النساء: آیت 36)

ترجمہ: اور عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی اور مت ٹھہراؤ اس کے ساتھ شریک۔

اور فرمایا: اَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمۡلِكُ لَـكُمۡ ضَرًّا وَّلَا نَفۡعًا ‌الخ۔

(سورۃ المائدہ: آیت 76)

ترجمہ: تم لوگ ایسی چیز کو پوجتے ہو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو مالک نہیں تمہارے نفع اور نقصان کا۔

اور فرمایا: وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ‌ وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

(سورۃ الانعام: آیت 17)

ترجمہ: اور اگر پہنچا دے اللہ تعالیٰ تجھ کو کچھ مصیبت نہیں دور کرنے والا اس کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور اگر پہنچائے اللہ تعالیٰ بھلائی پس وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اور فرمايا: وَمَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِيَـعۡبُدُوۡۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا‌ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ سُبۡحٰنَهٗ الخ۔

(سورۃ التوبہ: آیت 31)

ترجمہ: اور حکم ہوا تھا کہ بندگی کریں ایک اللہ تعالیٰ کی نہیں کوئی قابلِ عبادت کے مگر وہی۔

*الغرض:* ہزاروں آیتیں ہیں جن سے ثابت ہے کہ شدائد اور مصیبتوں کے وقت اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنا چاہیئے اور اسی سے استعانت وعدہ و مدد طلب روزی و اولاد و صحت امراض کرنا چاہیئے، اور اس کے سوائے کسی کو خواہ انبیاء کرام علیہم السلام و اولیاء کرام، و قطب ہوں علمِ غیب حاصل نہیں کہ شدائد کے وقت جب وہ پکارے جائیں تو وہ سنیں اور مدد کریں، اوران کو ذرا بھی اختیار حاصل نہیں کہ کسی کو کچھ نفع نقصان پہنچائیں۔

تعزیہ پرستوں و قبر پرستوں نے خالق و مخلوق کو برابر کر دیا، بلکہ مخلوق سے زیادہ ڈرنے لگے اور اللہ تعالیٰ کی کچھ قدر نہیں پہچانتے۔

اور اگر فرضاً کوئی شخص تعزیہ وغیرہ بہ نیت پرستش و عبادت و تعظیم لغیر اللہ کے نہ بنائے بلکہ اپنے زعم فاسد میں ماتمِ حضرت حسینؓ قرار دے یا صرف بنابر رسم و رواج و طمع دنیاوی کے بنائے تب بھی گناہ کبیرہ ہونے سے خالی نہیں اور بنابر رسم و رواج کے تعریہ بنانا یہ بھی معصیت میں داخل ہے، کیونکہ یہ فعل اس کا معین علی الشرک ہے، اور پابندی رسم و رواج کی درباب امورِ شرکیہ کے خود شرک ہے۔ اور وہ داخل ہے اس آیت کریم میں: وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّبِعُوۡا مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا بَلۡ نَـتَّبِعُ مَآ اَلۡفَيۡنَا عَلَيۡهِ اٰبَآءَنَا الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 170)

ترجمہ: اور جب کہا جاتا ہے واسطے ان کے پیروی کرو اس چیز کی کہ اتارا اللہ تعالیٰ نے کہتے ہیں بلکہ ہم پیروی کریں گے ہم اس چیز کی کہ پایا ہم نے اوپر اس کے باپوں اپنے کو۔

پس تعزیہ پرستوں کو لازم و واجب ہے کہ تعزیہ بنانے اور تعزیہ کی پرستش سے توبہ کرے اور عذابِ آخرت اپنی گردن میں نہ لیں، اور جو آدمی بعد توبہ کرنے کے پھر مرتکب اس کا ہوا اور تعزیہ پرستی شروع کی اس شخص کا وہی حکم ہے جو کہ اوپر بیان ہوا اور وہ انہیں صورتوں میں داخل ہوا۔ (العیاذ باللہ)

اور جو لوگ اپنے کو سنی کہتے ہیں ان کو تعزیہ پرستوں کے ساتھ اٹھنا و محبت رکھنا گناہ ہے، اور جائز نہیں کہ ان کے جلسے میں شریک ہوں، اور نہ ان کی دعوتیں کریں بلکہ ان کی اس فعلِ شنیعہ پر مزاحمت کریں ورنہ انہی تعزیہ پرستوں کے ساتھ یہ بھی قیامت میں اٹھائے جاویں گے۔

حضرت ابو سعیدؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا مت ساتھ کر کسی کا سوائے مؤمن کے اور مت کھلا اپنا کھانا مگر پرہیز گار کو۔

یعنی بدکاروں کی دعوت نہ کرے اور ان کی صحبت میں نہ بیٹھے نہ ان کے ساتھ خلط ملط رکھے ورنہ ان کی عادتیں اس میں بھی اثر کریں گی۔

علامہ خطابیؒ لکھتے ہیں کہ بدکاروں کی دعوت نہ کرے کیونکہ حضورِ اکرمﷺ نے بدکاروں کے ساتھ رہنے کو اور میل جول رکھنے کو اور ان کے ساتھ کھانے پینے کو اس واسطے منع فرمایا کہ ان لوگوں سے دوستی و محبت نہ ہو جائے۔

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوگا تو دیکھ لے کہ کس سے دوستی کرتا ہے۔

یعنی سمجھ بوجھ کر دوستی کرے ایسا نہ ہو کہ مشرک یا بدعتی سے دوستی کرے، پھر اس کے ساتھ آپ بھی جہنم میں جائے۔

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا:جو آدمی کسی قوم کو دوست رکھتا ہے اس کے ساتھ قیامت میں اٹھایا جائے گا۔

حضرت جریرؓ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرمﷺ سے سنا ہے، آپﷺ فرماتے تھے جو شخص کسی قوم میں برے کام کیا کرتا ہو اور قوم والے باوجود قدرت کے اس کے کام نہ بگاڑیں تو اللہ تعالیٰ اپنا عذاب ان پر ان کی موت سے پہلے ہی پہنچاتا ہے۔

*حاصل کلام یہ ہے کہ!* ان مذکورہ بالا آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ مذکورہ بالا سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بدعتیوں اور بدکاروں کے ساتھ محبت و دوستی و کھانا پینا نہ رکھے اور نہ ان کے برے کاموں اور بدعتوں پر راضی ہو، اور نہ ان کی شرکت دے، ورنہ عذابِ الہٰی میں گرفتار ہوگا۔

(فتاویٰ مولانا شمس الحق عظیم آبادی: صفحہ، 186)


صفحہ 2 از 2