Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شیعوں کے ساتھ اتحاد کرنے کے لیے غلط استدلال كرنا


*میرے محترم دوستو!*

کفر کی غلامی، جہاد کی نفرت اور جینے کے شوق نے مسلمانوں کو اس قدر پست ہمت کر دیا کہ اصول و اقدار ہی الٹ گئیں آج مسلمانوں کی حالت یہ بن گئی کہ آج کے مسلمان ذلت کو عزت اور غلامی کو آزادی سمجھنے لگ گئے ہیں۔

آج جمہوری لوگ کافروں کی غلامی اور ان سے اتحاد کو صلح اور معاہدہ کہہ دیتے ہیں اور سیرت کے واقعات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر دلیل دیتے ہیں کہ حضورِ اکرمﷺ نے بھی یہودِ مدینہ سے معاہدہ کیا تھا واضح رہے کہ اسلافؒ نے معاہدے و صلح کی تعریف یہ بیان کی ہے۔

*احناف:*

ایک مدت تک قتال کے چھوڑنے پر صلح کرو۔

(بدائع الصنائع: الجزء، 7 صفحہ، 108)

*مالكیہ:*

حربی سے ایک مدت تک صلح کرنا جس میں وہ اسلام کے قانون کے ماتحت نہیں ہوں گے۔ (الشرح الكبير مع حاشیۃ الدسوفی: الجزء، 2 صفحہ، 206)

*شوافع:*

حربی کافروں سے ایک معین مدت تک کے لیے قتال چھوڑے رکھنے پر مصالحت کرنا کسی چیز کے بدلے یا بغیر بدلے کے خواہ ان میں سے کوئی اپنے دین کا اقرار کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔(مغنی المحتاج: الجزء، 6 صفحہ، 86)

*حنابلہ:*

اہلِ حرب سے ایک مدت تک قتال کو چھوڑ دینے پر معاملہ کرنا کسی چیز کے بدلے یا بغیر بدلے کے۔ 

(المغنی: الجزء، 9 صفحہ، 238)

*امام ابن قيم رحمۃاللہ:*

حربی کافروں سے ایک معین مدت تک کے لیے قتال چھوڑے رکھنے پر مصالحت کرنا کسی چیز کے بدلے یا بغیر بدلے کے۔ 

(الخلاصہ فی احكام اهل الذمۃ الجزء الاول)

اسی لیے فقہائے کرام نے صلح کو "موادعت" بھی کہا ہے، جس کے معنیٰ ہیں کچھ مدت کے لیے کافروں سے قتال چھوڑ دینا یا عارضی جنگ بندی کر لینا پھر ائمہ اربعہ رحمہم اللہ اس بات پر بھی متفق ہیں کہ یہ صلح ایک مخصوص مدت تک ہوگی نیز یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ تمام فقہائے کرام کے نزدیک صلح صرف اس صورت میں جائز ہے جب کہ اس میں اسلام کا کوئی فائدہ ہو، اس کے بغیر صلح جائز نہیں۔

*صورت مسئلہ:*

اب آپ اس صلح کو اپنے تصور میں لائیے جس کو فقہائے کرام بیان کر رہے ہیں کہ اسلامی لشکر کافروں کے ملک فتح کر کے وہاں اسلامی شریعت نافذ کرتے چلے جا رہے ہیں اب ایک مرحلہ پر خلیفہ وقت یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب مجاہدین کو کچھ وقت آرام کی ضرورت ہے یارسد و کمک کے لیے کچھ وقت تیاری کی ضرورت ہے یا اب جس کافر قوم پر حملہ آور ہوتا ہے اس کے اسلام لانے کی امید ہے، یا وہ جزیہ دینے پر تیار ہو جائیں گے، وغیرہ وغیرہ ایسے وقت میں کفار اپنی جان بچانے کے لیے صلح کی پیشکش کرتے ہیں تو خلیفہ وقت ان کو کہتا ہے کہ ہم تمہیں اس شرط پر کچھ وقت کے لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ تم ذلیل ہو کر ہمیں جزیہ دو گے لیکن تمہارے ملک میں ہمارا اسلامی قانون نافذ ہوگا، یا یہ صورت ہو سکتی ہے کہ خراج دو اور کچھ مدت کے لیے ہم تمہارے خلاف قتال کو ملتوی کر دیتے ہیں۔

یہ ہے وہ صلح جس کو فقہائے کرام نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے جب کہ آج جو صورتِ حال ہے وہ یہ ہے کہ شیعہ کو مسلمان سمجھنے لگ گئے ہیں ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں، ان کو اپنا قائد اور لیڈر تسلیم کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

*میرے محترم قارئین کرام!*

زرا آپ تصور کیجئے کہ کہاں اسلامی صلح اور معاہدہ اور کہاں آج شیعہ مرتدین سے اتحاد ان کافروں سے اتحاد کو صلح اور معاہدہ کہنا اسلامی اصطلاحات میں کھلی تحریف ہے۔