Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خامہ انگشت بدنداں کہ؟


ماہِ محرم میں ایک حیاء باختہ و فتنہ پرور گروہ نے دو مرتبہ سنیوں کے خلاف اپنے سینوں میں رکھے بغض و کینہ کے آتش بگولے سرِ عام آشکارا کئے، جھوٹ و فریب اور دجل کے دبیز پردے میں تعصب و عناد کی گرد سے اٹا چہرہ رخ بے نقاب کی طرح عیاں ہو گیا بالآخر رافضیوں(شیعوں) نے ایک بار پھر اپنے مکروہ و شرمناک فعل سے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ سنیوں کی نفرت و عداوت ان کے رگ و پے میں بس گھول رہی ہے اور خبردار کر دیا کہ حضرت حسینؓ سے بے وفائی کرنے والے کسی سنی مسلمان کے وفادار و خیرخواہ نہیں، ان پر اعتماد و بھروسہ کرنے والے الم نصیب ہمیشہ زوال کے تیرہ بخت موسموں میں گِھر جاتے ہیں، اور اس بے ننگ و نام نہاد سیاست میں اپنوں کی دل شکنی کر کے یہود کی ذریت کو اپنا ہم دم بنانے والے اربابِ فکر و نظر بے ہنری و بے تدبیری کی راہ کے شکار ہیں۔

مسجد باب الرحمت کی بے حرمتی اور جامعہ فاروق کے کراچی کے طلبہ پر اندھا دھند فائرنگ کے بعد طالبِ علم کی بہیمانہ شہادت (جس کو شیعوں نے اغواء کر کے چاکوؤں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا) ایسے واقعات ہیں جو رافضیوں(شیعوں)کے مکروہ و متعفن زہن کے بھر پُور عکاس ہیں یہ کوئی پہلا اور آخری واقعہ نہیں جسے بھول و نسیاں کی پوٹلی میں رکھ کر مٹی پاؤ کے تاریک گھڑے میں دفن کر دیا جائے شیعیت نے ہر دور میں مسلمانوں اور شعائرِ اسلام کو اپنی سنگ باری کا ہدف بنایا ہے پیغمبرِ انقلابﷺ کے وفاداروں کا نام سن کر انگاروں پر لوٹنے والی یہ قوم ہر دور میں اپنی تمام تر فتنہ سامانیوں کے ساتھ مسلمانوں کی ترقی و عروج کی راہ میں رکاوٹ بنی ہے، ان کی ظلم و بربریت اور زندگی کی شرمناک داستانیں آج بھی تاریخ کا ایک تاریک باب ہیں جسے دیکھ کر چڑھتے سورج کی طرح اس امر کا یقین ہو جاتا ہے کہ گستاخ فرقہ کسی دین و مذہب کا نام نہیں یہود کا وہ خود کاشتہ زہریلا پودا ہے جس کا بیج فقط اسلام کا نقصان پہنچانے کے لیے بویا گیا ہے تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کی عظمت و شوکت 28 لاکھ مربع میل پر اسلام کا جھنڈا لہرانے والے خلیفہ ثانی حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والا ابولولؤ فیروز رافضی (شیعہ) تھا، پیکر شرم و حیاء، سخاوت کے بے تاج بادشاہ رسول اللہﷺ کے دُہرے داماد اور خلیفہ ثالث حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کو شہادت کا جام پلانے والے بلوائی رافضی تھے، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے توابین رافضی تھے، پھر انتقامِ حسینؓ کے نام پر 70 ہزار مسلمانوں کو تہہ و تیغ کرنے والا "مختار الثقفی" بغداد کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہانے والا وزیر ابنِ علقمی رافضی تھا، تاتاریوں کو اکسا کر بغداد میں 16 لاکھ مسلمانوں کی گردنیں تن سے جدا کرنے والا "نصیر الدین طوسی" رافضی تھا، سنی امراء کو قتل کر کے صلاح الدین ایوبی رحمۃاللہ کے خلاف سازشیں کرنے والے فاطمینِ مصر رافضی تھے، فاتح یورپ بایزید یلدرم کو ظلم و ستم کی چکی میں پیسنے والا شاہ تیمور لنگ رافضی تھا، بنگال کا جعفر اور دقن کا صادق رافضی تھے، دہلی کی جامع مسجد میں لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والا شاہ دورانی رافضی تھا، ایرانی انقلاب کی آڑ میں نہتے سنیوں کو قتل کرنے والا خمینی ملعون جسے سب جانتے ہیں رافضی تھا ملکِ پاکستان میں علماء، طلباء، وکلاء، سیاست دان اور سنی تاجروں کو شہید کرنے، مدارس مساجد اور قرآن کی بے حرمتی کرنے والے یہی شیعہ دہشت گرد ہیں یہ سب وہ تاریخی حقائق ہیں جن سے آنکھیں چرانا خود فریبی اور جھٹلانا بے ضمیری کے سوا کچھ نہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ روم فارس جیسی سپر پاور حکومتوں کے پرخچے اڑانے والے مسلمان کیوں کر اس شر ذمہ قلیلہ کے ہاتھوں رسواء زمانہ ہوئے، چہار سو سنی قوم کا لہو کس طرح بہایا گیا؟ ان خونچکاں داستانوں اور المناک حقیقتوں اور دین کے دشمنوں کے اپنے ہنر آزمانے کے اسباب کیا تھے؟ ہماری عسکری کمزوری یا افرادی قلت؟

حقیقت یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے شیعوں کو اپنی صفوں میں جگہ دی اعتماد و بھروسہ کا تمغہ ان کے سینوں پر سجایا ان کی ناز برداری اور تابعداری کو اپنی پالیسیوں کا تانا بانا بنایا اور ضرورت سے زیادہ رعایتیں دیں تب ان کے لیے مسلمانوں پر جبرِ نارواں کا راستہ کھل گیا اور ہم ذلت و خواری بے بسی اور لاچاری و بے چارگی کے بھنور میں غوطہ زن ہوئے۔

تاریخ سے عبرت لی جائے تو ماضی کی سرگزشت مستقبل میں کامیابیوں کا سامان اور تیرگی کے موسموں میں مشعلِ راہ بنتی ہے، منازل کے سنگ میل تراشی ہے آنے والی نسلوں کے لیے حکمت و نصیحت کا بیش بہا ذخیرہ چھوڑتی ہے، لیکن اس کی اٹل حقیقتوں سے اگر صرفِ نظر کیا جائے اس کے تلخ تجربات کو درخور اعتناء نہ لایا جائے تو پھر نامہربان موسموں کے جھکڑ میں حقیر تنکوں کی طرح لرزنا اور سنگریزوں کی طرح بے وقعتی کی گمنام وادیوں میں لڑھکنا ہی مقدر ٹھہرتا ہے۔

 آج ہمارے مذہبی رہنما اور اربابِ حل و عقد جن کو دیدہ بینا کہا جاتا ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حالات پر نظر ڈالتے ہی اس کے اسباب و محرکات کو جاننے کی قدرت رکھتے ہیں، دیوار پر نگاہ ڈال کر اس منظر کا پسِ منظر جان لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، آخر تاریخی حقائق، محرم الحرام میں رونما ہونے والے دلدوز واقعات اور اس کے پسِ منظر میں رافضیت کی متعصب اور رعونت آمیز صورت دیکھنے سے کیوں قاصر ہیں؟ تاریخی حقائق سے نظریں چرا کر کیوں اسباب و عوامل کو اختیار کر رہے ہیں؟ جس نے مسلم حکومتوں کے تخت و تاج کو تاراج کیا ہر فورم پر رافضیوں (شیعوں) کو دستِ راز بنا کر آستینوں میں سانپ کیوں پال رہے ہیں؟ دو فیصد کی اقلیت والے ان کالے کھٹملوں سے آخر کس چیز کی طمع ہے؟ آج تک ان کی کوکھ سے کس خیر نے جنم لیا؟ کہ ہم نے اپنوں کی ناراضگی اور مخالفت کے باوجود ان کی دل جوئی و دلداری کو گویا منشورِ حیات بنا لیا؟ کیوں اس ریگزار بےاماں کو اپنی رگوں کا لہو پلا رہے ہیں؟ ہم اس بات کا ادراک کیوں نہیں کرتے کہ شجرِ اتحاد کے سارے پھل ان کی جھولی میں گر رہے ہیں اور اس اتحاد نے یہ شیعیت کا مکروہ اور سازشی چہرہ سادہ لوح مسلمانوں سے چھپا رکھا ہے۔

 المیہ سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمیں اس غلطی کا احساس تو درکنار ہم اسے اپنی حکمت و دانش کا اعجاز تصور کرتے ہیں، اپنی سیاست و تدبر کا سرمایہ افتخار کارنامہ سمجھ کر اس کے تحفظ کے لیے ہر افتاد کو قبول کرنے کا سمجھوتا کیے بیٹھے ہیں، کسی نے اگر اس خار زار سے دامن بچانے کا پرخلوص مشورہ دیا، تو اسے اپنی انا پر حملہ سمجھ کر، سمجھانے والے کو جنونی، جذباتی، شر پسند اور یہود کا ایجنٹ بنا کر اس بے ننگ و نام نہاد اتحاد کا دفاع کیا۔

اور امیرِ عزیمت، امام سنی انقلاب، مجددِ وقت، وکیلِ صحابہ کرامؓ، محافظِ پاکستان مولانا حق نواز جھنگوی شہید رحمۃاللہ نے جس اژدہے کو اپنی کاری ضربوں سے جان بلب کر دیا تھا،جو موت کی آخری سسکیاں لے رہا تھا ہمارے ہی ہم پیالہ و ہم نوالہ احباب نے اس کے زخموں پر مرہم رکھ کر اتحاد کا دودھ پلا کر پھر سے ایسا جانبر کیا کہ ہمارے ہی در و دیوار پر سفاک کہانیاں رقم کرنے لگا جس کی ایک ایک سطر تیز دہار تلوار کی طرح جگر پر پے پیہم وار کر رہی ہیں۔

*افسوس ناک المیہ:*

اے کاش! اپنے آپ کو علمائے حق کے جانشین کہنے والے ذی وقار علمائے کرام اس بات کو بھی سوچتے کہ جن علماء کو ہم اپنے آپ کے جانشین کہتے نہیں تھکتے وہ علماء تو قادیانیت کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لیے صرف اس بناء پر محنت کرتے رہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کی ختمِ نبوت کا انکار کیا اور مرزا قادیانی ملعون کو نبی مانا۔

*اے ذی وقار علمائے کرام:*

کیا آپ کے پاس اس سوال کا جواب ہے کہ قادیانیوں نے تو صرف ایک شخص (مرزا قادیانی) کو نبی مانا تو بدترین کافر ٹھہرے ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ان کے ساتھ اتحاد کو کفر کہا جائے اور گنبدِ خضراء میں دلِ مصطفیٰﷺ کو دکھانے کا سبب کہا جائے کیا شیعوں کا عقیدہ امامت ختمِ نبوت کا بدترین انکار نہیں؟ 

قادیانیوں نے تو صرف ایک شخص کو نبی مانا جبکہ شیعوں نے اپنے عقیدہ امامت کی آڑ میں 12 ائمہ کو نبی کا درجہ دیا بلکہ خود اپنی کتاب "اتحاد و یکجہتی" کے صفحہ، 51 پر یہاں تک بکواس تحریر کرتا ہے کہ: تمام انبیاء کرام حتیٰ کہ ختم المرسلین جو انسانوں کی اصلاح کے لیے آئے تھے، وہ اپنے زمانے میں کامیاب نہ ہوئے تھے۔ (معاذاللہ)

 اور شیعہ مصنف اپنی تفسیر "منہج الصادقین" کی جلد، 2 صفحہ، 493 پر بکواس کر کے لکھتا ہے کہ: جو شخص چار مرتبہ زنا کرے اس کو حضورِ اکرمﷺ کا درجہ ملتا ہے۔

 اگر قادیانیوں کے ساتھ اتحاد گنبدِ خضراء میں دلِ مصطفیٰﷺ کو دکھانے کا سبب بنتا ہے تو شیعہ کے ساتھ اتحاد گنبدِ خضراء میں دلِ مصطفیٰﷺ کو دُکھانے کا سبب کیوں نہیں بنتا؟

دارالعلوم دیوبند کے نام پر بڑی بڑی کانفرنسیں منعقد کرنے والے زی وقار علمائے کرام! دارالعلوم دیوبند کا شیعہ اثناء عشریوں کے متعلق ختمِ نبوت کے عالمی نمائندگان کے اجلاس میں کیا جانے والا فیصلہ ملاحظہ فرمائیں اور دیانت داری کے ساتھ فیصلہ دیں کہ علماء دیوبند سے فکری و نظریاتی طور پر بغاوت کس نے کی؟