فسادی حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں داخل ہونے سے روک دیتے ہیں
علی محمد الصلابییزید بن قیس اور اشترنخعی ایک ہزار فسادیوں کے ساتھ مدینہ کے راستہ میں جرعہ نامی مقام پر جا پہنچے، یہ لوگ وہاں ڈٹے ہوئے تھے۔ حضرت سعید بن العاصؓ مدینہ سے امیر المؤمنین عثمانؓ کے پاس سے واپس ہوتے ہوئے وہاں پہنچے۔ ان لوگوں نے آپ سے کہا: تم جہاں سے آئے ہو وہاں واپس چلے جاؤ، ہمیں تمہاری ضرورت نہیں اور ہم تمھیں کوفہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے، جاؤ عثمان کو خبر دے دو کہ ہم تمھیں بحیثیت والی نہیں چاہتے، اور ہم عثمانؓ سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہاری جگہ ابو موسیٰ اشعریؓ کو والی مقرر کر دیں۔ حضرت سعیدؓ نے ان سے کہا: مجھ سے یہ کہنے کے لیے تم ایک ہزار افراد ساتھ لے کر کیوں نکلے، تمہارے لیے صرف اتنا کافی تھا کہ ہم میں سے کسی ایک شخص کو اپنا یہ مطالبہ دے کر امیر المؤمنین کے پاس بھیج دیتے، اور کسی ایک شخص کو راستہ میں کھڑا کر دیتے تاکہ وہ مجھے اس کی اطلاع دے دیتا، کیا جنھیں عقل ہو وہ ایک شخص کے مقابلہ میں ایک ہزار نکل سکتے ہیں؟ (تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 338)
حضرت سعید بن العاصؓ نے دیکھا کہ حکمت کا تقاضا ہے کہ ان کے منہ نہ لگا جائے، اور فتنہ کی آگ نہ بھڑکائی جائے بلکہ اس کو ٹھنڈا کیا جائے یا کم از کم اس کو مؤخر رکھا جائے اور یہی رائے کوفہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری، عمرو بن حریث اور قعقاع بن عمرو تمیمی رضی اللہ عنہم کی تھی۔
(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 140)
حضرت سعید بن العاصؓ مدینہ واپس ہو گئے، اور حضرت عثمانؓ کو صورت حال سے مطلع کیا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے دریافت کیا کہ آخر ان لوگوں کا کیا مطالبہ ہے؟ کیا انہوں نے اطاعت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے؟ کیا خلیفہ کے خلاف خروج کیا ہے؟ اور عدم اطاعت کا اعلان کیا ہے؟ حضرت سعیدؓ نے کہا: نہیں! انہوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ بحیثیت والی مجھے نہیں چاہتے ہیں بلکہ میری جگہ دوسرا والی چاہتے ہیں۔ حضرت عثمان غنیؓ نے دریافت کیا: وہ کس کو بحیثیت والی چاہتے ہیں؟ حضرت سعیدؓ نے کہا: وہ ابو موسیٰ اشعری کو چاہتے ہیں۔ حضرت عثمان غنیؓ نے کہا: ٹھیک ہے ہم نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو والی مقرر کر دیا۔ اللہ کی قسم! ہم ان کے لیے کوئی عذر اور حجت نہیں چھوڑیں گے، اور جیسا ہم سے مطلوب ہے ہم ان پر صبر کریں گے یہاں تک کہ ہم ان کے حقیقی مقاصد کو جان لیں۔ پھر امیر المؤمنین عثمانؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو کوفہ پر بحیثیت والی تقرری سے متعلق خط تحریر کیا۔
(التاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 339)
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی تقرری سے متعلق حضرت عثمان غنیؓ کا خط پہنچنے سے قبل کوفہ کی مسجد میں رسول اللہﷺ کے بعض صحابہ کرامؓ موجود تھے، انہوں نے حالات کو کنٹرول کرنے اور عوام کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، اس لیے کہ سبائی عوام پر غالب تھے اور انہیں برانگیختہ کر رکھا تھا، وہ عقل و منطق کی بات سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔
کوفہ کی مسجد میں اس تمرد و عصیان اور فتنہ کے وقت اکابرینِ صحابہؓ میں سے دو شخصیات موجود تھیں: حذیفہ بن یمان اور ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہما۔ حضرت ابو موسیٰ مسعودؓ اس تمرد و عصیان، جرعہ کی طرف فسادیوں کے خروج، اور حضرت سعید بن العاصؓ کی برطرفی سے بہت نالاں تھے، کیوں کہ یہ پہلا موقع تھا کہ اس طرح کے حالات رونما ہوئے تھے۔ حضرت حذیفہؓ بڑے دور اندیش تھے، حالات کے ساتھ بڑی موضوعیت اور غور و فکر سے کام لیتے تھے۔ (الخلفاء الراشدون: 141)
حضرت ابومسعودؓ نے حذیفہؓ سے کہا: یہ لوگ جرعہ سے صحیح وسالم واپس نہ ہوں گے، خلیفہ ضرور ان کی تادیب کے لیے لشکر روانہ کریں گے اور پھر بہت خون بہے گا۔ حضرت حذیفہؓ نے ان کے جواب میں فرمایا: اللہ کی قسم! یہ لوگ کوفہ واپس ہوں گے اور کوئی جھڑپ اور جنگ نہ ہو گی، اور نہ خون بہے گا، اس وقت آپ جو یہ فتنہ مشاہدہ کر رہے ہیں، یہ میں نے رسول اللہﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں آپﷺ سے جانا ہے، آپﷺ نے اپنی وفات سے قبل اس فتنہ کے بارے میں خبر دی ہے جس کا آج ہم مشاہدہ کر رہے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے ہمیں خبر دی ہے کہ انسان صبح اسلام کی حالت میں کرے گا پھر شام کو اس کے ساتھ اسلام کا کوئی حصہ باقی نہ ہو گا، پھر مسلمانوں سے قتال کرے گا اور مرتد ہو گا اور اس کا دل الٹا ہوا ہو گا، پھر دوسرے دن اللہ اسے قتل کر دے گا اور یہ ابھی بعد میں ہو گا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 342)
حضرت حذیفہ بن یمانؓ فتن کے علم میں ماہر تھے، کوفہ میں سبائی فتنوں کے ساتھ آپ کا تعامل اس کے عین مطابق تھا، جو آپ نے رسول اللہﷺ سے سنا اور سیکھا تھا۔ آپ نے ان احادیث میں سے جو کچھ یاد کیا تھا اس کااستحضار کیا اور جو کچھ آپ کے گرد و اقع ہو رہا تھا اس کی حقیقت کو سمجھا، اسے ناممکن اور مستغرب نہیں جانا بلکہ حتیٰ الامکان اس کی اصلاح کی کوشش کی۔
(حذیفۃ بن الیمان: ابراہیم العلی: صفحہ 86، الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 141)