سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا خط کوفہ میں خروج کرنے والوں کے نام
علی محمد الصلابیحضرت عثمان غنیؓ نے کوفہ میں خروج کرنے والوں کے نام خط تحریر کیا، اور اس کے اندر حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت سعید بن العاصؓ کی معزولی اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی تولیت سے متعلق ان کے مطالبہ کو پورا کرنے کی حکمت کو واضح کیا۔ یہ خط اہم ہدایات پر مشتمل ہے۔ ان فتنوں سے مقابلہ کے سلسلہ میں حضرت عثمان غنیؓ کے طریقہ کو واضح کرتا ہے، اور اشتعال انگیزی کو حتی الوسع مؤخر کرنے کی آپ کی کوشش کو بیان کرتا ہے۔ باوجودیکہ آپ کو اس بات کا یقینی علم تھا کہ یہ فتنے آنے والے ہیں اور آپ کے اندر ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں ہے۔ یہ آپ نے رسول اللہﷺ سے سنا اور سیکھا تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اس خط میں ان سے کہا: میں نے تم پر اس کو امیر بنایا ہے جس کو تم نے اختیار کیا ہے اور تم کو سعید سے نجات دے دی۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے اپنی عزت بچھا دوں گا اور اپنا صبر بھر پور خرچ کروں گا، اور اپنی طاقت بھر تمہاری بھلائی چاہوں گا، تم جو پسند کرو، مجھ سے طلب کرو بشرطیکہ اللہ کی نافرمانی اس میں نہ ہو میں تمہیں دوں گا اور جس چیز کو تم ناپسند کرو بشرطیکہ اللہ کی نافرمانی نہ ہو میں تمہیں اس سے معاف کر دوں گا، اور جو پسند کرو گے پورا کروں گا تاکہ تمہارے پاس میرے خلاف کوئی حجت نہ ہو۔ اسی طرح کے خطوط حضرت عثمان غنیؓ نے دیگر صوبوں کو بھی روانہ کیے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 343)
اللہ تعالیٰ امیر المؤمنین عثمانؓ سے راضی ہو جا، آپ کس قدر صالح اور انشراح صدر کے مالک تھے۔ سبائیوں اور حقادین خوارج نے کس قدر آپ پر ظلم ڈھایا، اور آپ پر کذب و افتراء باندھا۔
(الخلفاء الراشدون الخالدی: صفحہ 143)