Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

محرم کے جلوس اور کفار کے مجلسوں میں شرکت کا حکم


ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو ایک ولیمہ میں مدعو کیا، جب وہاں پہنچے تو لہو و لعب کی آواز سنی تو وہاں داخل نہیں ہوئے۔ اس وقت عرض کیا گیا، کیوں لوٹ گئے؟ فرمایا میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے، فرمایا جس شخص نے جس قوم کی تعداد بڑھائی وہ انہیں میں شمار ہو گا۔

اور فردوس میں دہلمی نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے اور عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ نے کتاب الزهد و الرقاق میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور مطلب حدیث مذکور کا یہ ہے کہ جو کوئی کسی قوم کی تکثیر کسی فعل میں کرتا ہے، تو وہ اس قوم میں بحیثیت اس فعل کے دنیا و آخرت میں شمار اور محشور ہوتا ہے۔ مثلاً ہولی کے میلے میں جس نے شرکت و تکثیر کی تو اگر نفس فعل میں ملوث ہوا کہ مکثر فعل کفر کا ہے، وہ کفر ہے، اور اگر استحسان اس فعل کا کیا تو بھی کافر ہوا، کہ تحسین کفر بھی کفر ہوتی ہے۔ اور ان دونوں صورتوں میں عقیدہ اسلامیہ باطنیہ کا اعتبار نہ ہو گا، بلکہ عند اللہ بھی کافر ہو گا، جیسے زنار ڈالنا با وصف صحت و عقیدہ کے کفر لکھا ہے، کتب عقائد و فتاویٰ فقہ میں یہ روایت موجود ہے۔ اور جو شخص تماشاہی دیکھا اور تحسین و تلوث بافعال اشرار، اس سے سرزد نہیں ہوا، تو تکثیر فقط ہجوم کی ہے تو اہلِ ہجوم میں داخل ہوا۔ اور مکثر اُن لوگوں کا بنا فاسق و فاجر ہو اب فَلاَ تَقْعُد بَعدَ الذِّكْرىٰ مَعَ القَوْمِ الظّٰلمِين (سورۃ الانعام: آیت 68) کے خلاف کیا، اور مکثر ان لوگوں کا ہوا ہے نہ کہ فعل کفر کا۔ بہرحال جس قوم میں تکثیر کیا ہے، اس ہی قوم کا بعض بنا اور اس ہی قوم میں داخل ہوا۔ تماشائی مکثر اہلِ تماشا ہے، بفعل کفر کا۔

رسول اللہﷺ کا کلام جوامع الکلم ہوتا ہے۔ ہر قسم کی رعایت اور معانی اس میں مجتمع ہوتے ہیں۔ اب کچھ حاجت نہیں کہ تغلیظ پر حمل کریں، بلکہ معنی حقیقی سب شقوں پر موجود ہیں۔

قال في الفتاوى العالمكيرية ناقلاً عن البحر و يكفر بخروجه الى نيروز المجوس لموافقته معهم فيما يفعلون في ذلك اليوم انتهى فقط محصله والله تعالىٰ اعلم

اسی طرح محرم کی بھیڑ بھاڑ میں جو حائکین جاتے ہیں، وہ بھی تحت مصداق حدیث مذکور داخل ہیں۔ (باقیات فتاویٰ رشیدیہ: صفحہ 444)