Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا گورنروں سے مشورہ

  علی محمد الصلابی

امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ نے صوبوں کے گورنروں کو پیغام جاری کیا اور انہیں جلد از جلد دار الخلافہ مدینہ میں طلب کیا۔ وہ حضرت عبداللہ بن عامر، معاویہ بن ابی سفیان اور عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہم تھے، اور ان کے ساتھ مشورہ میں سعید بن العاص اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو بھی شامل کیا جو سابق گورنر تھے، آپ نے ان حضرات کے ساتھ خفیہ میٹنگ کی، اور دارالخلافہ مدینہ میں پہنچنے والی خبروں کی روشنی میں نیا لائحہ عمل تیار کیا گیا۔

(عثمان بن عفان الخلیفۃ الشاکر الصابر: صفحہ 212، معاویۃ بن ابی سفیان: صفحہ 126)

حضرت عثمان غنیؓ نے ان حضرات سے پوچھا: یہ کیسی شکایات مجھے پہنچ رہی ہیں اور یہ کیسی افواہیں پھیل رہی ہیں؟ یقیناً اللہ کی قسم مجھے خوف ہے کہ کہیں یہ تمہارے خلاف سچ ہو اور پھر اس کا وبال میرے سر ہو۔

ان حضرات نے جواب میں عرض کیا: کیا آپؓ نے تحقیقاتی کمیشن نہیں بھیجے؟ کیا لوگوں سے متعلق آپ کو خبر نہیں پہنچی؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ یہ لوگ اپنے مشن سے واپس ہوئے اور کسی نے کوئی شکایت نہیں کی؟ اللہ کی قسم یہ شکایات پہنچانے والے سچے نہیں، ہمیں اس کی کوئی اصل نہیں معلوم، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کی وجہ سے آپؓ کسی کی گرفت نہیں کر سکتے کہ وہ آپؓ کو کسی چیز کی ضمانت دے سکے، یہ صرف غلط پروپیگنڈہ ہے، اس پر اعتماد کرنا اور اس کی بنیاد پر کوئی کارروائی کرنا جائز نہیں۔

حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: تو اب تم لوگ مجھے مشورہ دو کہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

حضرت سعید بن العاصؓ نے کہا: یہ من گھڑت باتیں ہیں جو خفیہ طور سے پردے کے پیچھے گھڑی جاتی ہیں، اور پھر ناسمجھوں کے کان میں ڈال دی جاتی ہیں، اور وہ ان باتوں کو دوسروں تک پہنچا دیتے ہیں انجام کار مجلسوں اور محفلوں میں اس پر گفتگو شروع ہو جاتی ہے۔

حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: اس کا علاج کیا ہے؟

حضرت سعید بن العاصؓ نے کہا: اس طرح کے لوگوں کو طلب کیا جائے اور پھر جس جس سے یہ باتیں نکلتی ہیں انہیں قتل کر دیا جائے۔

حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! جب آپ لوگوں کو ان کے حقوق ادا کرتے ہیں تو ان سے بھی اپنے حقوق وصول کیجیے، یہ ان کو چھوڑ دینے سے بہتر ہے۔

حضرت معاویہؓ نے کہا: آپ نے مجھے ولایت سونپی تو میں ایسے لوگوں پر والی ہوں جن کی طرف سے آپ کے پاس خیر ہی کی خبریں پہنچتی ہیں، اور یہ دونوں حضرات (عبداللہ بن سعد و عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہما) اپنے اپنے صوبوں سے متعلق زیادہ جانتے ہیں۔

حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: ایسی صورت میں کیا مشورہ ہے؟

حضرت معاویہؓ نے کہا: حسن ادب۔

حضرت عثمان غنیؓ نے عمرو سے فرمایا: اے عمرو تمہاری کیا رائے ہے؟

حضرت عمرو بن العاصؓ نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ نرم پڑ گئے ہیں اور ان سے خوش اور راضی ہیں حالاں کہ جتنا حضرت عمر فاروقؓ ان کے ساتھ کرتے تھے اس سے زیادہ آپؓ کرتے ہیں۔ تو میری رائے ہے کہ آپؓ ان کے ساتھ اپنے دونوں ساتھیوں (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ) کا طریقہ اختیار کیجیے، سختی کی جگہ سختی کیجیے اور نرمی کے موقع پر نرمی کیجیے۔ ان لوگوں کے ساتھ سختی مناسب ہے جو لوگوں کو شر پہنچائیں اور نرمی ان لوگوں کے لیے مناسب ہے جو لوگوں کے خیر خواہ ہوں۔ آپ سب ہی کے ساتھ نرمی برتتے ہیں۔

ان مشوروں کو سننے کے بعد امیر المؤمنین عثمانؓ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: آپ حضرات نے جو مشورہ دیے، میں نے سب کو سنا، ہر امر کا ایک دروازہ ہے جہاں سے آیا جاتا ہے اور یہ امر جس کا اس امت پر خطرہ ہے ہو کر رہے گا۔ یقیناً اس کا وہ دروازہ جسے بند کر دیا جاتا ہے اس کو نرمی، توجہ اور موافقت کھول دے گی، الا یہ کہ اللہ کی حدود میں ہو، جس میں کوئی عیب نہیں لگا سکتا۔ پس اگر کسی شے نے اس کو بند کر دیا تو اللہ کی قسم وہ ضرور کھولا جائے گا، اور کسی کا میرے خلاف کوئی حق نہیں ہے۔ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ لوگوں کو خیر پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا ہوں اور نہ میں اپنے نفس کو ترجیح دیتا ہوں۔ اللہ کی قسم! فتنہ کی چکی چلنے والی ہے۔ عثمان کے لیے خوش خبری ہے اگر وہ مر گیا اور اس کو حرکت نہ دی، لوگوں کے ساتھ نرمی کرو، ان کے حقوق انہیں دو اور انہیں معاف کرو، اور جب اللہ کے حقوق پامال ہوں تو مداہنت نہ برتو۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 351) 

حضرت عثمان غنیؓ نے سختی اختیار کرنے کے سلسلہ میں اپنے بھائی حضرت عمرو بن العاصؓ کی رائے کی مخالفت ضرور کی، لیکن صاحبین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے طریقہ کی اتباع کی، مخالفت نہ کی۔ فتنہ کی چکی چلنے والی ہے، اور امیر المؤمنین کو یہ ہرگز پسند نہیں کہ وہ اس چکی کو چلانے والے بنیں، اس لیے فرمایا: ’’عثمان کے لیے خوش خبری ہے اگر وہ مر گیا اور اس کو حرکت نہ دی‘‘ سیدنا عثمان غنیؓ بالکل واضح اور صریح تھے، جس چیز میں کوئی نرمی نہیں وہ اللہ کی حدود ہیں، اس میں کسی طرح کی مداہنت روا نہیں، اور اس کے علاوہ امور میں تورفق و نرمی بہتر اور مغفرت و درگزر افضل ہے، اور تمام حقوق کی ادائیگی ضروری ہے۔

(عمرو بن العاص الامیر المجاہد: الغضبان: صفحہ 447)

ضعیف اور مجہول راویوں کی سند سے ایسی روایات بیان ہوتی ہیں جو امیر المؤمنین عثمان اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے تعلقات کو مسخ کرتی ہیں، یہ ناقابلِ اعتماد روایات عمرو بن العاصؓ کی صورت کو مسخ کرتی ہیں۔ یہ روایات حضرت عمرو بن العاصؓ کو سیدنا عثمانؓ کے قاتل کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں کہ انہوں نے امیر المؤمنینؓ کے قتل کا منصوبہ بنایا پھر وہی خون کا مطالبہ کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔

(عمرو بن العاص الامیر المجاہد: الغضبان: صفحہ 448)

یہ روایات مؤرخین اور محدثین دونوں کے نزدیک ضعیف اور ناقابل قبول ہیں۔

(عمرو بن العاص الامیر المجاہد: الغضبان: صفحہ 448) 

ضعیف اور مجہول راویوں کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرو بن العاصؓ نے حضرت عثمان غنیؓ سے کہا: آپ لوگوں پر بنو امیہ کی طرح سوار ہو گئے۔ آپ نے کہا اور انہوں نے کہا، آپ بھٹکے اور وہ بھٹکے۔ سیدھے رہیے یا پھر الگ ہو جایے۔ اگر اس کو نہیں مانتے تو عزم کیجیے اور آگے بڑھیے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 340)

اور اسی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے کہا: میری رائے ہے کہ آپؓ ان کو جنگوں میں جھونک دیں یہاں تک کہ لوگوں کو سر کھجانے کا بھی موقع نہ ملے اور آپؓ کے خلاف افواہ پھیلانے سے مشغول کر دیجیے۔

(ایضاً)

حضرت عثمان غنیؓ نے فتنہ و فساد برپا کرنے والوں پر سختی کرنے اور انہیں قید یا قتل کرنے سے منع کر دیا نیز ان کے ساتھ بھلائی اور نرمی کا معاملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

(خلافۃ عثمان: دیکھیے۔ السلمی: صفحہ 77)

اور اپنے گورنروں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اعمال پر واپس چلے جائیں اور فتنہ و فساد سے مقابلہ کے لیے اس اسلوب کو اختیار کریں جس کا انہوں نے اعلان کیا ہے۔ ہر بینا آدمی اس فتنہ کی آمد کو دیکھ رہا تھا۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 151)