Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کفار کے میلوں میں بغرض تجارت جانا


سوال: کفار کے میلوں میں مثل گنگا دہر دوار وغیرہ میں جا کر مال فروخت کرنا درست ہے یا نہیں؟ اگر قرض دار ہو اور امید فروختگی مال کی ہو کہ قرض ادا ہو جائے گا تو کیا کرے؟

جواب: ہرگز جانا درست نہیں، گناہ کبیرہ ہے، اگرچہ قرض دار ہو اور امید فروخت مال اور نفع کی کثیر ہو، مطلقاً شرکت ایسے مواقع کی گناہ اور حرام ہے۔ (فتاویٰ رشیدیہ: جلد 2 صفحہ 337)