Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اقسامِ کفر


کیا کافروں سے تجارت کر سکتے ہیں؟؟

[عوام سب سے زیادہ پریشان جس سوال سے ہے کہ جب رسولﷺ نے کافروں سے تجارت کی تو ہم شیعہ کے ساتھ کیوں نہیں کر سکتے؟ اس کا تحقیقی و مدلل جواب]

                   اقسامِ کفر

"ایک عظیم غلط فہمی جس سے مفتیانِ عظام و علماءِ کرام بھی اپنی لاعلمی کی وجہ سے عوام کو درست مسئلہ بتانے سے قاصر ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام حرام کام کی مرتکب ہو رہی ہے۔ نجانے علماء کرام اس چیز کا علم نہیں رکھتے یا جان بوجھ کر کسی سازش کے تحت یہ حقیقت نہیں بتاتے جس سے عوام گمراہ اور اپنا ایمان تباہ کر رہی ہے۔ آئیے دینِ اسلام کے اس سب سے بڑے مسئلہ کو سمجھتے ہیں۔

یاد رہے کافروں کی کئی اقسام ہیں سب کے لیے حکم الگ الگ ہے۔

 ایمان کیا ہے:

وہ تمام چیزیں جو نبی کریمﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں، جو قطعیت (آیات قرآنیہ یا احادیث متواترہ سے ثابت ہو) کے ساتھ نبی کریمﷺ سے ثابت ہیں، ان کی دل سے تصدیق کرنا اور زبان سے اس کا اقرار کرنا یہ ایمان کہلاتا ہے۔

(فتاویٰ شامی جلد 4 صفحہ 221)

 کفر کیا ہے

جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے ان میں سے کسی ایک چیز کو نہ ماننا یا اس میں شک کرنے کا نام کفر ہے۔ (عقائد اسلام: صفحہ187)

            کافروں کے دو طبقے ہیں

                      پہلا طبقہ

اس طبقے میں کافر کی وہ دو قسمیں بتائی جائیں گی جو امت مسلمہ میں داخل ہی نہیں ہوئے، داخل نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے نبی کا کلمہ پڑھا ہی نہیں۔

  اب یہ کلمہ نہ پڑھنے والے پھر دو اقسام پر ہیں۔

 اول قسم:

ایسے کافر جنہوں نے اپنے آپ کو گزشتہ کسی آسمانی کتاب کی طرف منسوب کیا۔ ایسے کافر کا نام غیر مسلم اہل کتاب ہے۔ جیسے یہودی، عیسائی وغیرہ انہوں نے اپنے آپ کو تورات اور انجیل کی طرف منسوب کیا اگرچہ اب وہ ثابت نہیں ہیں تحریف شدہ ہیں۔

 ان کا حکم:

 یہ کافروں میں سے سب سے زیادہ رعایت یافتہ طبقہ ہے ان کے ساتھ بہت نرمی اور بہت حسن سلوک کی تاکید کی گئی ہے ان کے ساتھ یکطرفہ نکاح اور ان کا ذبیحہ بھی حلال ہے، معاملات بھی جائز ہیں۔

اَلۡیَوۡمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ  وَ طَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمۡ وَ طَعَامُکُمۡ حِلٌّ لَّہُمۡ وَ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ مُحۡصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ وَلَا مُتَّخِذِیۡۤ اَخۡدَانٍ  وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُہٗ  وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ۞ (سورۃ المائدہ: آیت 5)

ترجمہ: آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں، اور جن لوگوں کو (تم سے پہلے) کتاب دی گئی تھی، ان کا کھانا بھی تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے نیز مؤمنوں میں سے پاک دامن عورتیں بھی اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی جبکہ تم نے ان کو نکاح کی حفاظت میں لانے کے لیے ان کے مہر دے دئیے ہوں، نہ تو (بغیر نکاح کے) صرف ہوس نکالنا مقصود ہو اور نہ خفیہ آشنائی پیدا کرنا۔ اور جو شخص ایمان سے انکار کرے اس کا سارا کیا دھرا غارت ہوجائے گا اور آخرت میں اس کا شمار خسارہ اٹھانے والوں میں ہوگا۔

نوٹ: 

        اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں

جن پیغمبروں پر اللہ نے آسمانی کتابیں نازل فرمائی ہیں ان کے ماننے والوں اور ان کی نازل کردہ کتابوں کے ماننے والوں کو اہل کتاب کہتے ہیں۔ مگر آج کل کے یہود ونصاریٰ اکثر دہریہ ہوتے ہیں، نہ ان سب نبیوں کو مانتے ہیں جن پر آسمانی کتابیں آئی ہیں نہ ہی ان کتابوں کو مانتے اور عمل کرتے ہیں؛ اس لیے آج کل کے اہل کتاب کا ذبیحہ بھی درست نہیں اور ان کی لڑکیوں سے نکاح بھی درست نہیں۔

 دوسری قسم:

کافر کی دوسری قسم وہ ہے جنہوں نے کسی نبی کا کلمہ بھی نہیں پڑھا اور اپنے آپ کو کسی آسمانی کتاب کی طرف منسوب بھی نہیں کیا ان کفار کو غیر مسلم غیر اہل کتاب کہتے ہیں جس طرح ہندو، سکھ، مجوسی۔

 ان کا حکم:

ان کے ساتھ نکاح کرنا یا ذبیحہ کھانا جائز نہیں، لیکن ان کے ساتھ خوش اخلاقی، معاملات جائز ہیں دکاندار ہیں تو سامان لے لیں۔ ان کے ساتھ کاروبار/تجارت کر سکتے ہیں۔ 

اگر اسلامی حکومت ہو تو ان دو قسم کے کافروں کو ذمی کہا جاتا ہے ان کے بڑے حقوق ہیں جان مال کی حفاظت ہے اور ان کے ساتھ خوش اخلاقی، معاملات اور یہ ساری چیزیں جائز ہیں۔ کافروں کی یہ وہ دو قسمیں ہیں جو اسلام اور امت مسلمہ میں داخل ہی نہیں ہوئے۔ 

 یاد رہے رسول اللہﷺ نے پہلی قسم کے کافروں سے تجارت کی تھی اور دوسری قسم کے کافروں سے بھی تجارت، لین دین کر سکتے ہیں۔ جہاں تک قلبی تعلق اور دلی دوستی کی بات ہے تو یہ کسی غیر مسلم کے ساتھ رکھنا جائز نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَا یَتَّخِذِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ۞  (سورہ آل عمران: آیت 28)

ترجمہ: مومن لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا یارو مددگار نہ بنائیں۔

                    دوسرا طبقہ

 دوسرے طبقے میں کافروں کی وہ دو قسمیں بتائی جائیں گی جنہوں نے نبی کا کلمہ پڑھا پھر چھوڑ دیا یا پڑھتے رہے۔

 اول قسم:

وہ لوگ جنہوں نے نبی کا کلمہ پڑھا امت مسلمہ میں شامل ہوئے پھر انہوں نے امت مسلمہ کو چھوڑ دیا۔ ایسے کافر کو مرتد کہتے ہیں، نبی کا کلمہ پڑھا اسلام میں داخل ہوا پھر اسلام کو چھوڑ دیا اب اگرچہ اہل کتاب میں شامل ہو گیا، غیر اہل کتاب میں شامل ہو گیا اپنے آپ کو تورات کے ساتھ منسوب کرے یا انجیل کے ساتھ منسوب کرے یا نہ کرے جو بھی ہے اسلام میں داخل ہوا پھر اسلام کو چھوڑا اب اس کو مرتد کہا جائے گا۔

 ان کا حکم

 مرتد کا حکم یہ ہے کہ اسلامی حکومت اس کو قید کرے اگر عورت ہے تو اس کو ہمیشہ قید کیا جائے گا حتیٰ کہ وہ توبہ تائب ہو جائے، اگر مرد ہے تو اس کو قید کر کے تین دن کی مہلت دی جائے گی کہ اپنے شبہات کو پیش کرے اور کوشش کی جائے گی کہ اس کے شبہات کا جواب دے کر اس کو مطمئن کیا جائے، لیکن جب تین دن کے بعد بھی وہ مطمئن نہیں ہوتا تو حکومت اسلامیہ پر یہ لازم ہوگا کہ اب اس کو مزید زندہ رکھ کر کسی اور کو گمراہ ہونے کا موقع فراہم نہ کریں۔

 وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ  وَاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ۞ (سورۃ البقرة آیت 217)

ترجمہ: اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا دین چھوڑ دے، اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہوجائیں گے، ایسے لوگ دوزخ والے ہیں، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

حدیث مبارکہ میں ہے:

فقال ابن عباس انما قال رسول : من بدل دینہ فاقتلوہ“

(سنن نسائی جلد 2، صفحہ 169، مسند احمد جلد 1 صفحہ 323)

ترجمہ: ”حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ: ”جو شخص اسلام چھوڑ کر مرتد ہو جائے، اس کو قتل کر دو۔“

دوسری قسم

دوسرے طبقے میں کافر کی دوسری قسم وہ ہے جنہوں نے نبی کا کلمہ تو پڑھا، مسلمان کہلوایا، اور اسلام کا نام بھی نہ چھوڑا لیکن عقائد اسلامیہ چھوڑ دیے یعنی ہے تو کافر اور اپنے آپ کو کہتا مومن ہے، ہے تو کافر اور کہتا اپنے آپ کو مسلمان ہے۔ آسان الفاظ میں سمجھیں کہ ایسا شخص جو اپنے کفر پر پردہ ڈال کر اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے غلط عقائد پھیلاتا ہے اور اپنے غلط عقائد کو صحیح (اسلامی عقائد) قرار دیتا ہے۔ اس کافر کو زندیق کہتے ہیں۔

 اس کا حکم:

زندیق کا حکم بھی علمائے کرام نے اجمالاً مرتد والا ہی بتایا ہے، لیکن کچھ فرق ہے وہ سمجھ لیں مرتد کو تین دن کی مہلت تھی کہ توبہ کرے اس زندیق کو وہ تین دن کی مہلت بھی نہیں دی جائے گی۔ حکومت اسلامی پر یہ فرض ہوگا کہ ان کو مزید زندہ رکھ کر کسی اور کو گمراہ ہونے کا موقع فراہم نہ کرے۔

البحر الرائق میں ہے:

لا تقبل توبة الزندیق فی ظاھر المذھب وھو من لا یتدین بدین ․․․․ وفی الخانیة قالوا ان جاء الزندیق قبل ان یؤخذ فاقر انہ زندیق فتاب عن ذالک تقبل توبتہ وان اخذ ثم تاب لم تقبل توبتہ ویقتل۔

(جلد 5 صفحہ 136)

ترجمہ: ظاہر مذہب میں زندیق کی توبہ قابلِ قبول نہیں، اور زندیق وہ شخص ہے جو دین کا قائل نہ ہو، اور فتاویٰ قاضی میں ہے کہ اگر زندیق گرفتار ہونے سے پہلے خود آکر اقرار کرے کہ وہ زندیق ہے، پس اس سے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے، اور اگر گرفتار ہوا پھر توبہ کی تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، بلکہ اسے قتل کیا جائے گا۔

 شیعہ زندیق ہیں

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ شیعہ کو زندیق کے حکم میں تحریر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: 

او قال ان النبیﷺ خاتم النبوة ولٰکن معنی ھذا الکلام انہ لا یجوز ان یسمی بعدہ احد بالنبی واما معنی النبوة وھو کان الانسان مبعوثا من الله تعالٰی الی الخلق مفترض الطاعة معصومًا من الذنوب ومن البقاء علی الخطا فیما یری فھو موجود فی الأمة بعد فھو الزندیق۔

(مسوّیٰ: جلد 2 صفحہ 130)

ترجمہ: یا کوئی شخص یوں کہے کہ نبی کریمﷺ بلاشبہ خاتم النبیین ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ آپﷺ کے بعد کسی کا نام نبی نہیں رکھا جائے گا، لیکن نبوّت کا مفہوم یعنی کسی انسان کا اللّٰه تعالیٰ کی جانب سے مخلوق کی طرف(امام) مبعوث ہونا، اس کی اطاعت کا فرض ہونا، اور اس کا گناہوں سے اور خطا پر قائم رہنے سے معصوم ہونا، آپﷺ کے بعد بھی اُمت میں موجود ہے، تو یہ شخص زندیق ہے۔

 زندیق کی توبہ

اگر زندیق توبہ کر لے تو مرتد کی طرح اس کی توبہ بھی قابلِ قبول ہو گی یا نہیں؟ 

 اس پر تمام اہلِ علم کا اتفاق ہے کہ زندیق کا معاملہ مرتد سے زیادہ سخت ہے، کیوں کہ زنادقہ جس طرح درِ پردہ اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے امت کو جو نقصان پہنچاتے ہیں مرتد اس قدر نہیں پہنچا سکتا، اس لیے مرتد کی توبہ تو بالاتفاق قابلِ قبول ہے، مگر زندیق کی توبہ قابلِ قبول نہیں۔

علامہ ابن الہمام رحمۃ اللہ نے فتح القدر میں لکھا ہے:

زندیق کی توبہ قبول نہ کی جائے، اسے قتل ہی کیا جائے گا اور اسی کو ظاہر المذہب قرار دیا ہے۔

(فتح القدیر: جلد 6 صفحہ 91)

  قارئین کرام توجہ فرمائیں:

آپ نے چاروں اقسام کے کافروں کا حکم پڑھا اس میں پہلی قسم کے جو کافر ہیں ان سے رسولﷺ نے لین دین، تجارت، معاملات کیے۔ دوسری قسم کے کافروں سے بھی معاملات کر سکتے ہیں۔ لیکن دوسرے طبقے میں جو کافر ہیں ان سے کسی قسم کا تعلق، لین دین تجارت، معاملات کرنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے، غیر مسلم کافر پڑوسی مثلاً یہودی، عیسائی، مجوسی، مشرک پڑوسی کے ساتھ ایک دائرے میں رہتے ہوئے اچھا برتاؤ کرنا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آ سکتے ہیں۔ لیکن مرتد و زندیق (شیعہ، قادیانی) پڑوسی کو یہ حقوق بھی حاصل نہیں ہیں۔

اب رسولﷺ نے اپنے دور میں یا صحابہ کرامؓ نے اپنے دور میں یا آج تک علماء جو معاملات اہل کتاب کے ساتھ کرتے رہے ہیں یا اللہ کے نبی نے اہل کتاب کے ساتھ جو معاملات کیے ان مرتدین اور زندیقوں (دوسرے طبقے کے کافروں) کو اُن پر قیاس(پہلے طبقے کی مثال دے کر دوسرے طبقے سے معاملات جائز قرار دینا) کرنا یہ بہت بڑی حماقت ہے، جہالت اور علمی خیانت ہے۔ جو علماء ان زندیقوں کے ساتھ معاملات جائز قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسولﷺ نے بھی کافروں سے تجارت کی وہ اپنی لاعلمی کی وجہ سے کہتے ہیں اور غلط بات بتاتے ہیں۔ لہٰذا عوام وخواص کو اس چیز کا اچھی طرح خیال رکھنا ضروری ہے ورنہ کل کو قادیانیوں سے بھی معاملات کو جائز قرار دیں گے۔ اور مسلمانوں میں گمراہی اور الحاد پھیلانے کا سبب بنیں گے۔