حضرت عثمان غنیؓ انتہائی بیدار مغز تھے، چنانچہ اپنے محکمہ اطلاعات کے ذریعہ سے ان بلوائیوں کے بارے میں تحقیقات کرتے ہیں۔ آپ نے ان دو مسلمانوں کو ان کی صفوں میں داخل کر دیا جن کو اس سے قبل خلیفہ کی طرف سے سزا مل چکی تھی تاکہ ان بلوائیوں کو اطمینان رہے، اور ان کے بارے میں شک و شبہ نہ کریں۔ حضرت عثمان غنیؓ نے ان دو آدمیوں کو روانہ کیا جس میں ایک مخزومی اور دوسرے زہری تھے۔ آپ نے ان سے کہا: جاؤ دیکھو یہ کیا ارادہ رکھتے ہیں، اور ان کی پوری تفصیلات اکٹھی کرو، واضح رہے کہ ان دونوں کو حضرت عثمان غنیؓ کی طرف سے تادیبی سزا مل چکی تھی لیکن اب حق کے لیے یہ ڈٹ گئے تھے اور اپنے اندر اس کی وجہ سے کینہ و بغض نہیں رکھا تھا۔
جب بلوائیوں نے ان دونوں کو دیکھا تو ان پر اعتماد کر لیا اور اپنے پورے ارادے کی تفصیل ان دونوں سے بیان کر دی، ان دونوں نے ان سے دریافت کیا کہ مدینہ والوں میں سے کون تمہارے ساتھ ہیں؟ انہوں نے کہا: تین اشخاص۔ ان دونوں نے کہا: کیا ان کے علاوہ اور کوئی؟ انہوں نے کہا: اور کوئی نہیں۔ ان دونوں نے ان سے کہا: تم کیسے کرنا چاہتے ہو؟ ان لوگوں نے ان دونوں سے اپنی سازش اور مجوزہ منصوبہ کی پوری تفصیل بیان کر دی، اور کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ کے سامنے وہ باتیں پیش کریں جو ہم نے لوگوں کے ذہن و دماغ میں بٹھا رکھی ہیں اور پھر جب ہم واپس ہوں تو لوگوں سے کہیں کہ ہم نے حضرت عثمان غنیؓ کے سامنے ان باتوں کو پیش کیا تو نہ تو وہ نکلے اور نہ ان باتوں سے تائب ہوئے، پھر ہم حج کے بہانے مدینہ واپس آئیں اور ان کا محاصرہ کر کے ان کو معزول کر دیں اور اگر نہ مانیں تو ان کو قتل کر دیں۔ یہ دونوں آدمی ساری معلومات حاصل کر کے حضرت عثمان غنیؓ کے پاس واپس پہنچے اور انہیں مطلع کیا۔ تفصیلات سن کر حضرت عثمان غنیؓ ہنس پڑے اور فرمایا: اے اللہ! تو انہیں سلامت رکھ! اگر تو نے ان کو سلامت نہ رکھا تو بدبختی کا شکار ہو جائیں گے۔ پھر حضرت عثمان غنیؓ نے کوفیوں اور بصریوں کو بلوایا اور اعلان کرایا ’’الصلاۃ جامعۃ‘‘ یہ لوگ آپ کے پاس منبر سے قریب تھے، اور صحابہ کرامؓ اعلان سن کر مسجد میں جمع ہو گئے اور ان کو گھیر لیا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد مدینہ والوں کو ان کے سلسلہ میں معلوم شدہ تفصیلات بتلائیں کہ یہ کس لیے آئے ہیں، اور ان کے ارادے کیا ہیں، اور بتلایا کہ یہ لو گ آپ کے خلاف خروج کرنے کے لیے اپنے اعتراضات کو مؤکد، اور پھر خلیفہ کی برطرفی یا قتل چاہتے ہیں اور پھر وہ دونوں اشخاص جن سے سبائیوں نے اپنی تفصیلات بیان کی تھیں کھڑے ہوئے اور لوگوں کے سامنے شہادت دی۔ تمام مسلمانوں نے یک زبان ہو کر کہا: امیر المؤمنین! انہیں قتل کر دیجیے کیوں کہ یہ امیر المؤمنین کے خلاف خروج کرنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنا چاہتے ہیں۔
حضرت عثمان غنیؓ نے صحابہ کرامؓ کے اس مطالبہ کو رد کر دیا، کیوں کہ یہ لوگ بظاہر مسلمان، اور ان کی رعیت میں سے تھے، آپ یہ پسند نہیں کر سکتے تھے کہ لوگ یہ کہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے مخالف مسلمانوں کو قتل کر دیا، اس لیے سیدنا عثمان غنیؓ نے اس مطالبہ کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا:
’’ہم انہیں قتل نہیں کریں گے بلکہ ان سے درگزر کریں گے، اور اپنی طاقت بھر ان کی رہنمائی کریں گے کسی بھی مسلمان کو ہم قتل نہیں کریں گے، اِلا یہ کہ وہ ایسی حد کا ارتکاب کرے جو قتل کو واجب کرتی ہو یا کوئی مرتد اور کافر ہو جائے۔‘‘
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 354، 355)