باغیوں پر حجت قائم کرنا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

باغیوں پر حجت قائم کرنا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سبائیوں کو دعوت دی کہ وہ اپنے اعتراضات اور جو غلطیاں اور زیادتیاں محسوس کرتے ہیں پیش کریں، اور یہ اجلاس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور دیگر مسلمانوں کے سامنے مسجد میں منعقد ہوا۔ سبائیوں نے اپنی بات رکھی اور اپنے زعم کے مطابق ان غلطیوں کو پیش کیا جس کا ارتکاب حضرت عثمان غنیؓ نے کیا تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اس کی وضاحت کی اور اپنے دلائل پیش کیے اور انصاف پسند مسلمان اس صراحت و احتساب اور وضاحت کو سماعت کر رہے تھے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے ان کے ایک ایک اعتراض کو پیش کر کے اس کی حقیقت واضح کی اور اپنے عمل و ترجیحات کا دفاع کیا اور مسجد میں بیٹھے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت پیش کی۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 154، 155)

 فرمایا: یہ کہتے ہیں کہ میں نے سفر میں قصر کی بجائے پوری نماز پڑھی جب کہ مجھ سے قبل نہ رسول اللہﷺ اور نہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے سفر میں پوری نماز پڑھی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ مکہ میں میرے اہل و عیال رہتے ہیں پس میں مکہ کے اندر اپنے اہل و عیال میں مقیم ہوتا ہوں، مسافر نہیں رہتا ہوں، کیا بات ایسی نہیں ہے؟ صحابہ نے کہا: ہاں ضرور بات ایسی ہی ہے۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ میں نے چراگاہیں خاص کر لی ہیں، اور مسلمانوں پر تنگی پیدا کر دی ہے، اور وسیع زمین کو میں نے اپنے اونٹوں کو چرنے کے لیے خاص کر لیا ہے۔ حالاں کہ مجھ سے قبل بھی زکوٰۃ و جہاد کے اونٹوں کے چرنے کے لیے چراگاہیں خاص کی گئی ہیں۔ رسول اللہﷺ اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے چراگاہیں خاص کی ہیں، اور جب زکوٰۃ و جہاد کے اونٹ زیادہ ہوئے تو میں نے چراگاہوں میں اضافہ کیا ہے، پھر بھی میں نے مسلم فقراء کے جانوروں کو اس میں چرنے پر پابندی نہیں عائد کی ہے اور میں نے اپنے جانوروں کے لیے کوئی چراگاہ مخصوص نہیں کی ہے۔ جب سے میں نے زمام خلافت سنبھالی اس وقت میرے پاس سب سے زیادہ اونٹ اور بکریاں تھیں، میں نے سب خرچ کر دیا اس وقت میرے پاس نہ کوئی بکری ہے نہ اونٹنی، صرف میرے پاس دو اونٹ ہیں جن کو حج کے لیے چھوڑ رکھا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ صحابہ کرامؓ نے کہا: ہاں ضرور بات ایسی ہی ہے۔

• ان کا کہنا ہے کہ میں نے قرآن کا صرف ایک نسخہ باقی رکھا، باقی کو نذر آتش کر دیا، اور لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کر دیا۔ خبردار قرآن اللہ کا کلام ہے وہ اللہ کے پاس سے نازل ہوا ہے، وہ ایک ہے، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ لوگوں کو ایک قرآن پر جمع کر دیا، انہیں اس کے بارے میں اختلاف کرنے سے روک دیا ہے، اور میں نے اپنے اس فعل میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے فعل کی اتباع کی ہے جب کہ آپ نے قرآن جمع کرایا تھا، کیا بات ایسی نہیں ہے؟ صحابہؓ نے کہا، ضرور بات ایسی ہی ہے۔

• ان لوگوں کا کہنا ہے کہ میں نے حکم بن العاص کو مدینہ واپس بلا لیا ہے جب کہ رسول اللہﷺ نے انہیں طائف کی طرف جلا وطن کر دیا تھا۔ لیکن حکم بن العاص مکی ہیں، وہ مدینہ کے رہنے والے نہیں، رسول اللہﷺ نے ان کو مکہ سے طائف روانہ کیا تھا اور آپ نے ہی جب ان سے خوش ہو گئے تو مکہ واپس بلا لیا تھا کیا بات ایسی نہیں ہے؟ صحابہؓ نے کہا: ہاں ضرور بات ایسی ہی ہے۔

• ان لوگوں کا کہنا ہے کہ میں نے نوخیز عمر والوں کو عامل اور کم سن نوجوانوں کو والی مقرر کیا ہے، میں نے صرف فاضل باصلاحیت اور پسندیدہ لوگوں کو ہی والی مقرر کیا ہے، یہ لوگ انہی کی رعایا میں سے ہیں، ان سے ان سے متعلق پوچھ لو، یاد رہے کہ مجھ سے پہلے والوں نے ان سے نوخیز اور کم سن لوگوں کو ولایت سونپی تھی۔ رسول اللہﷺ نے اسامہ بن زیدکو ولایت بخشی حالاں کہ وہ ان سے کم سن تھے جن کو میں نے والی مقرر کیا ہے۔ لوگوں نے اس سے سخت بات رسول اللہﷺ سے کہی تھی جو لوگوں نے مجھ سے کہی ہے، کیا بات ایسی نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں ضرور بات ایسی ہی ہے، یقیناً یہ لوگ لوگوں پر ایسا عیب لگاتے ہیں جس کی تفسیر و توضیح نہیں کرتے۔

• ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب میں نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو مال فے دیا تو اس کو مالِ غنیمت کے خمس کا خمس دیا جس کی مقدار ایک لاکھ تھی، یہ اس وقت ہوا جب افریقہ (تونس) پر اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی، یہ اس کے جہاد کا بدلہ تھا۔ میں نے اس سے کہہ رکھا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھوں پر افریقہ فتح فرمائے گا تو میں اس سے حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کے خمس کا خمس تجھ کو دوں گا، اور مجھ سے قبل ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ایسا کر چکے ہیں، اس کے باوجود جب مجاہدین کے لشکر نے مجھ سے کہا کہ ہم اس کو ناپسند کرتے ہیں کہ آپ ان کو خمس کا خمس دیں حالاں کہ انہیں اعتراض اور انکار کا کوئی حق نہیں، تو میں نے عبداللہ بن سعد سے اس کو واپس لے لیا اور اسے مجاہدین کے لشکر پر تقسیم کر دیا، اس میں سے ابن سعد نے کچھ بھی نہیں لیا، کیا بات ایسی نہیں ہے؟ صحابہ نے کہا: ہاں ضرور بات ایسی ہی ہے۔

صفحہ 1 از 2