Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جامعہ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ حاصل پور روڈ بہاولپور کا فتویٰ


حضرت مولانا علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے شیعیت کی تکفیر اور ان کی مذہبی، ملی، شرعی، معاشرتی اور سیاسی حیثیت کے تعیین پر جو فتویٰ دیا ہے بندہ اس سے من و عن اتفاق کرتا ہے اور اس کی حرف با حرف تصدیق کرتا ہے اور اس کے عین حق ہونے کی گواہی دیتا ہے۔

موجودہ دور میں کسی بھی مصلحت یا مفاد کے پیشِ نظر شیعہ سمیت کسی بھی غیر مسلم فرقہ سے اتحاد و تعلقات اور مشترکہ جد و جہد کے عنوان سے سعی لا حاصل کو قرآن و سنت آثارِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اکابرین و محققین علمائے امت کی متفقہ آراء فتاویٰ کی روشنی میں قطعی حرام اور ناجائز سمجھتا ہے شیعہ کو کسی بھی دینی اتحاد میں شامل کرنا انتہائی مذموم، ملعون اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔

شیعیت کی مکمل تاریخ، اسلام دشمنی اور کفر دوستی سے لبریز ہے، اس کے باوجود ان غدارانِ دین و ملت سے کسی خیر کی توقع رکھتے ہوئے انہیں کسی دینی اتحاد میں شامل کرنا ان کی شرارت گاہوں کو دینی درسگاہوں کے عنوان سے تعبیر کرنا اور اپنے مذہبی اجتماعات میں ان کو بطورِ مہمان یا بطورِ معاون شریک کرنا شرعاً ناجائز ہے اس فعلِ قبیح اور عملِ شنیع کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے۔

اور ستم بالائے ستم یہ کہ اپنے اس خالصتاً غیر شرعی فعل کو شرعی بنانے کی کوشش کرنا خود اپنے ایمان کو مشکوک کرنے والی بات ہے، موجودہ اتحاد ہو یا اس کے بعد کوئی اتحاد ہو اس میں شیعہ کو شامل کرنا غیر شرعی ہے اور یہ عمل کرنے والے خود اپنے بدعملی کے ذمہ دار ہیں نہ تو ان کے لیے کوئی شرعی حجت موجود ہے اور نہ ہی خود ان حضرات کا یہ عمل شرعی حجت بننے کے قابل ہے۔

اس لیے تمام عامۃ المسلمین کسی بھی ایسے اتحاد سے خود کو دور رکھیں اسی میں خیر ہے ورنہ شر میں ملوث ہونے کا قوی اندیشہ ہے اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ و مامون فرمائے۔ (فتاویٰ امام اہلِ سنت مع تاںٔیدِ علماءِ اہلِ سنت: صفحہ، 88)