Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتنوں کے ساتھ نمٹنے کے سلسلہ میں عثمانی ضوابط

  علی محمد الصلابی

فتنوں کے ساتھ نمٹنے کے سلسلہ میں جو بھی حضرت عثمان غنیؓ کے طرز عمل پر غور کرے گا وہ ایسے بعض ضوابط کو مستنبط کر سکتا ہے جو فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلمانوں کے لیے ممد و معاون ثابت ہوں، وہ بعض ضوابط درج ذیل ہیں:

تحقیق و جستجو:

آپ نے تحقیقاتی کمیشن بٹھائے، مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں اور صوبوں کو روانہ کیا، صوبوں کے باشندگان کی باتیں سنیں اور سبائیوں کی صفوں میں اپنے آدمی گھسا کر ان کی حقیقت کا پتہ چلایا اور ان کے خلاف احکام جاری کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لیا۔

عدل و انصاف کو لازم پکڑنا:

اس کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے صوبوں کے باشندگان کے نام خطوط ارسال کیے، اور ان سے مطالبہ کیا کہ اگر کسی کو کسی والی کی طرف سے مارا گیا ہو یا برا بھلا کہا گیا ہو تو وہ موسم حج میں حاضر ہو اور اپنا حق وصول کر لے، خواہ اس کا تعلق خلیفہ سے ہو یا کسی عامل و والی سے۔

 (تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 349)

حلم و بردباری:

کوفہ والوں نے جب حضرت سعید بن العاصؓ کی معزولی اور حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی تقرری کا مطالبہ پیش کیا تو آپ نے ان کو خط تحریر کرتے ہوئے فرمایا:

’'میں تمہارے لیے اپنی عزت بچھا دوں گا اور اپنا صبر خرچ کروں گا اور اپنی طاقت بھر تمہاری بھلائی چاہوں گا۔ تم جو پسند کرو مجھ سے طلب کرو بشرطیکہ اللہ کی نافرمانی اس میں نہ ہو، میں تمھیں دوں گا اور جس چیز کو تم ناپسند کرو بشرطیکہ اللہ کی نافرمانی نہ ہو میں تمھیں اس سے معاف کروں گا۔‘‘

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 343)