مدینہ پر فسادیوں کا قبضہ
علی محمد الصلابیصوبوں سے فسادیوں کی آمد:
فسادی آپس میں حضرت عثمان غنیؓ پر حملہ کرنے، اور خلافت سے معزول کرنے، بصورت دیگر قتل سے متعلق عملی منصوبہ کو بروئے کار لانے پر متفق ہوئے، اور یہ رائے پاس کی کہ وہ اپنے تینوں مراکز کوفہ، بصرہ اور مصر سے موسم حج میں روانہ ہوں، حجاج کے ساتھ حاجیوں کی شکل میں نکلیں اور ایک دوسرے سے یہ اعلان و اظہار کریں کہ وہ حج کے لیے جا رہے ہیں، اور جب مدینہ پہنچ جائیں تو حجاج کا ساتھ چھوڑ دیں، وہ مناسک حج کی ادائیگی کے لیے مکہ چلے جائیں، اور مدینہ والوں کے حج میں مشغول ہونے سے مدینہ خالی ہو گا، اس موقع کو غنیمت سمجھیں اور عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر لیں تاکہ ان کو معزول یا قتل کیا جا سکے۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 138)
شوال 35ھ میں فسادی مدینہ کے قریب پہنچ گئے۔
(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 159)
مصر سے باغی چار فرقوں میں نکلے، ہر فرقہ کا ایک امیر تھا، اور پھر ان چاروں امراء پر ایک امیر تھا اور ان کے ساتھ ان کا شیطان عبداللہ بن سبا تھا چاروں فرقوں کے امراء یہ تھے: عبدالرحمٰن بن عدیس بلوی، کنانہ بن بشر تجیبی، سودان بن حمران سکونی، قتیرہ بن فلان سکونی اور ان کا امیر الامراء غافقی بن حرب عکی تھا، اور ان سب کی تعداد ایک ہزار تھی۔
اسی طرح کوفہ سے باغی ایک ہزار کی تعداد میں نکلے، یہ چار فرقوں پر مشتمل تھے۔ ان فرقوں کے امراء یہ تھے: زید بن صوحان عبدی، اشترنخعی، زیاد بن نضرحارثی، عبداللہ بن اصم اور ان کوفی باغیوں کا امیر الامراء عمرو بن اصم تھا۔
اور بصرہ سے باغی ایک ہزار کی تعداد میں نکلے، یہ بھی چار فرقوں پر مشتمل تھے اور ان فرقوں کے امراء یہ تھے: حکیم بن جبلہ عبدی، ذریح بن عباد عبدی، بشر بن شریح قیسی، ابن محرش بن عبدالحنفی، اور ان بصری باغیوں کا امیر الامراء حرقوص بن زہیر سعدی تھا۔
عبداللہ بن سبا ان باغیوں کے ساتھ شاداں و فرحاں تھا، اس کو اپنے یہودی و شیطانی منصوبہ کی کامیابی کا مکمل یقین تھا۔ مصر کے باغی حضرت علی بن ابی طالبؓ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے جب کہ کوفی باغی زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے، اور بصری باغی طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 357)
اور اس طرح وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف و انتشار برپا کرنا چاہتے تھے۔ امام آجری رحمۃاللہ کی یہی تحقیق ہے، فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے علی بن ابی طالب، طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہم کو ان باغیوں سے محفوظ رکھا، ان لوگوں نے انہیں خلیفہ بنانے کی بات اس لیے کی تھی تاکہ لوگوں کو دھوکا دیں، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین افتراق پیدا کر دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
(استشہاد عثمان و وقعۃ الجمل: خالد الغیث: صفحہ 118)
ان باغیوں کے مدینہ پہنچنے سے قبل حضرت عثمان غنیؓ کو ان کی آمد کی خبر پہنچ گئی، اس وقت آپ مدینہ سے باہر ایک بستی میں تھے، جب باغیوں کو پتہ چلا کہ آپ وہاں موجود ہیں تو وہ لوگ اس بستی کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ ان سے ملے۔ روایات نے اس بستی کی صراحت نہیں کی ہے کہ وہ کون سی بستی تھی۔ ان کی آمد چہار شنبہ ذوالقعدہ کی چاند رات کو ہوئی۔
(فتنۃ مقتل عثمان: دیکھیے۔محمد الغبان: جلد 1 صفحہ 128)
سب سے پہلے مصری پہنچے انہوں نے حضرت عثمان غنیؓ سے کہا: قرآن منگائیں آپ نے قرآن منگایا۔ان لوگوں نے کہا: ساتویں یعنی سورۂ یونس کھولیے، وہ لوگ سورہ یونس کو ساتویں کہتے تھے۔ آپ نے سورہ یونس کی تلاوت فرمائی جب اس آیت پر پہنچے:
قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ لَـكُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ فَجَعَلۡتُمۡ مِّنۡهُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا قُلۡ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَـكُمۡ اَمۡ عَلَى اللّٰهِ تَفۡتَرُوۡنَ ۞ (سورۃ يونس آیت 59)
ترجمہ: کہو کہ: بھلا بتاؤ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق نازل کیا تھا، تم نے اپنی طرف سے اس میں سے کسی کو حرام اور کسی کو حلال قرار دے دیا، ان سے پوچھو کہ: کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی تھی یا تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہو؟
ان لوگوں نے آپ سے کہا: رک جایے! بھلا بتلایے یہ چراگاہیں جو آپ نے مخصوص کر لی ہیں، کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے یا آپ اللہ پر افتراء باندھ رہے ہیں؟
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آگے چلو یہ آیت فلاں فلاں موقع پر نازل ہوئی ہے۔ رہا چراگاہوں کا مسئلہ تو مجھ سے قبل حضرت عمر فاروقؓ نے زکوٰۃ کے اونٹوں کے لیے چراگاہیں مخصوص کی تھیں، اور جب میں خلیفہ ہوا اور زکوٰۃ کے اونٹوں میں اضافہ ہوا تو میں نے چراگاہوں میں اسی اعتبار سے اضافہ کر دیا۔
اس طرح یہ باغی ہر ہر آیت پر آپ سے مواخذہ کرتے رہے، اور آپ انہیں وضاحت سے سمجھاتے رہے کہ یہ آیت فلاں فلاں موضوع کے تحت نازل ہوئی ہے۔ پھر ان لوگوں نے آپ سے عہد لیا، اور اپنی شرائط رکھیں اور امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ شرط رکھی کہ ان کی شرائط پوری کرنے کی صورت میں وہ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ نہیں کریں گے اور نہ مسلمانوں کی جماعت سے اختلاف کریں گے۔ پھر یہ سب راضی خوشی واپس ہو گئے۔
(فتنۃ مقتل عثمان: دیکھیے۔ محمد الغبان: جلد 1 صفحہ 128)