Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مصری وفد کے قتل سے متعلق جعلی خط

  علی محمد الصلابی

اس مصالحت اور باغیوں کے راضی و خوشی واپس ہو جانے کے بعد فتنہ کی آگ بھڑکانے والوں کے سامنے واضح ہو گیا کہ اب ان کا منصوبہ ناکام ہو گیا اور ان کے مقاصد پورے نہ ہوئے، اس لیے ان لوگوں نے دوسرا منصوبہ تیار کیا تاکہ فتنہ کی آگ بھڑکا سکیں اور اس کو دوبارہ زندہ کر کے اس مصالحت کا صفایا کر دیں جو سیدنا عثمان غنیؓ اور وفود کے درمیان طے پائی ہے۔ اس حقیقت کا انکشاف اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ جب مصری واپس ہو رہے تھے، تو راستہ میں انہوں نے اونٹ پر ایک سوار کو دیکھا، جو کبھی ان کے ساتھ ہو لیتا ہے اور کبھی ان سے الگ ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ان سے بھاگ رہا ہے، گویا زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ مجھے پکڑ لو۔ آخر ان لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور اس کی تلاشی لی، اس کے پاس مصر کے گورنر کے نام حضرت عثمان غنیؓ کی طرف سے ایک خط ملا جس پر ان کی مہر ثبت تھی۔ ان لوگوں نے جب اس خط کو کھولا تو اس میں ان کو قتل کرنے یا سولی پر چڑھانے یا ہاتھ پیر کاٹ دینے کا حکم تھا۔ اس خط کو پڑھ کر یہ لوگ مدینہ واپس پہنچ گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 7 صفحہ 379)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس خط سے انکار کیا اور ان سے کہا: دو صورتیں ہیں یا تو دو مسلمانوں کی گواہی قائم کرو یا میں اس اللہ کی قسم کھاتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، نہ میں نے اس خط کو لکھا ہے اور نہ املاء کرایا ہے اور نہ اس سے متعلق مجھے ادنیٰ علم ہے، اور ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے کی طرف سے جعلی خط تحریر کیا جاتا ہے اور اس پر مہر کا نقش بھی لگا دیا جاتا ہے، لیکن ان لوگوں نے آپ کی تصدیق نہ کی۔

(فتنہ مقتل عثمان: جلد 5 صفحہ 132، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 191) 

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ خط جس کے بارے میں باغیوں کا زعم تھا کہ حضرت عثمان غنیؓ کی طرف سے ہے اور اس پر ان کی مہر ثبت ہے اور زکوٰۃ کے اونٹ پر ان کا غلام سوار ہو کر مصر کے گورنر حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کے نام لے جا رہا تھا جس کے اندر یہ فرمان تھا کہ ان باغیوں کو قتل کر دیا جائے یہ خط جعلی اور جھوٹ تھا، حضرت عثمان غنیؓ کے نام سے اس کو گھڑا گیا تھا، مختلف وجوہ سے اس کا جعلی ہونا ثابت ہوتا ہے:

1: اس جعلی خط کو لے جانے والا بار بار اس مصری قافلے کے ساتھ ہوتا اور دور بھاگتا رہا، وہ ایسا اس لیے کر رہا تھا تاکہ یہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس سے متعلق شک میں مبتلا ہوں، گویا کہ وہ اپنی زبان حال سے کہہ رہا تھا، میرے پاس تمہارے سلسلہ میں کوئی اہم چیز ہے اگر یہ خط حضرت عثمان غنیؓ کی طرف سے ہوتا تو وہ ان لوگوں سے خوف کھاتا اور ان سے دور رہتا، اور جلدی مصر کے گورنر تک پہنچنے کی کوشش کرتا تاکہ یہ فرمان ان کے سامنے پیش کر دے اور وہ اس کو نافذ کریں۔

2: عراقیوں کو اس کی اطلاع کیسے ملی، وہ تو مصریوں سے الگ ہو کر عراق جا رہے تھے، یہ جعلی خط مصریوں کو ملا تھا، دونوں کے مابین طویل فاصلہ تھا، عراقی مشرق میں جا رہے تھے اور مصری مغرب میں جا رہے تھے اس کے باوجود دونوں بیک وقت واپس ہو گئے، گویا کہ دونوں کے مابین وقت مقرر تھا یہ بات عقل میں نہیں آ سکتی الا یہ کہ جن لوگوں نے یہ خط گھڑا تھا اور اس کے لیے اجرت پر ایک سوار کو مقرر کیا تھا کہ وہ یہ کردار مصریوں کے سامنے ادا کرے انہی لوگوں نے ایک اور سوار کو اجرت پر مقرر کیا ہو کہ وہ عراقیوں کے پاس جائے اور انہیں خبر دے کہ مصری قافلہ نے ایک خط پکڑا ہے جو حضرت عثمان غنیؓ کی طرف سے مصری قافلہ کے قتل سے متعلق ہے اور یہی حجت حضرت علیؓ نے ان کے خلاف قائم کی تھی فرمایا: اے کوفہ والو! اے بصرہ والو! مصریوں کے ساتھ جو پیش آیا اس کی اطلاع تمھیں کیسے ملی؟ تم کئی منزلیں طے کر چکے تھے پھر ہماری طرف واپس مڑ گئے۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 359)

3: امیر المؤمنین عثمان بن عفانؓ حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرحؓ کو ان لوگوں کو قتل کرنے سے متعلق خط کیسے لکھ سکتے ہیں جب کہ باغیوں کے مصر سے روانہ ہونے کے فوراً بعد خلیفہ کو انہوں نے خط بھیج کر اجازت طلب کی تھی کہ وہ ان کے پاس آنا چاہتے ہیں، اور مصر پر محمد بن ابی حذیفہ نے قبضہ جما لیا تھا، ابن ابی سرحؓ وہاں سے نکل چکے تھے، آپ عریش و فلسطین ہوتے ہوئے عقبہ پہنچ چکے تھے، تو ایسی صورت میں حضرت عثمان غنیؓ ان کو خط کیسے لکھ سکتے ہیں جب کہ آپ کے پاس ان کا خط موجود تھا جس میں انہوں نے مدینہ آنے کی اجازت طلب کی تھی؟

4: باغیوں نے جب آپ کا محاصرہ کیا تو آپ نے انہیں قتل کرنے سے منع فرمایا، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دفاع کرنے سے بھی منع کر دیا، اور اپنے نفس کا دفاع کرنے کے لیے باغیوں سے قتال کا حکم نہیں دیا جیسا کہ ابھی اس کی تفصیل آئے گی، تو بھلا وہ لوگ جب توبہ و انابت ظاہر کرتے ہوئے واپس ہو چکے تھے ان کو قتل کرنے سے متعلق ایسا جعلی خط کیسے لکھ سکتے ہیں؟

5: باغیوں کے مدینہ سے واپس روانہ ہو جانے کے بعد حکیم بن جبلہ اور اشتر نخعی مدینہ میں رہ گئے تھے۔ اس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ انہی دونوں نے یہ خط گھڑا تھا کیوں کہ مدینہ میں ٹھہرنے کی انہیں کوئی ضرورت نہیں تھی، وہ صرف اسی طرح کے مقاصد کے پیش نظر رکے تھے، انہی دونوں کی اس سے مصلحتیں وابستہ تھیں۔

(عثمان بن عفان الخلیفۃ الشاکر الصابر: صفحہ 277)

 عین ممکن ہے کہ یہ عبداللہ بن سبا کی رہنمائی میں طے پایا ہو کیوں کہ اس خط سے حضرت عثمان غنیؓ کی کوئی مصلحت وابستہ نہ تھی، اور اسی طرح حضرت مروان بن الحکمؓ کی بھی کوئی مصلحت اس سے وابستہ نہ تھی جو لوگ اس سلسلہ میں حضرت مروانؓ کو متہم قرار دیتے ہیں وہ لوگ خلیفہ راشد عثمان غنیؓ کو غفلت کے ساتھ متہم کرتے ہیں، گویا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دیوان خلافت میں ان کے علم کے بغیر معاملات طے پا جاتے تھے، گویا اس طرح یہ لوگ ان باغی مجرموں کو بری قرار دیتے ہیں، اور پھر اگر حضرت مروانؓ نے یہ جعلی خط تحریر کیا ہوتا تو خط لے جانے والے کو یہ حکم دیتے کہ وہ باغیوں کے قافلہ سے بالکل دور رہے تاکہ وہ اس کو پکڑ نہ سکیں، ورنہ یہ ثابت ہو گا کہ وہ بھی باغیوں کے ساتھ شریک تھے اور یہ امر محال ہے۔ 

6: یہ منحوس خط پہلا خط نہ تھا جس کو ان مجرمین نے گھڑا تھا بلکہ اس سے قبل بہت سے جعلی خطوط امہات المؤمنین کے ناموں سے گھڑے اور اسی طرح علی، طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہم کے ناموں سے گھڑے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا گیا کہ انہوں نے لوگوں کے نام خطوط بھیج کر انہیں حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف بغاوت کرنے پر ابھارا ہے۔ ام المؤمنین اس کی نفی کرتی ہیں اور فرماتی ہیں: اس رب کی قسم! جس پر مومن ایمان رکھتے ہیں اور کافر کفر کرتے ہیں میں نے ایسی کوئی تحریر اب تک نہیں لکھی ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 334)

امام اعمش رحمۃاللہ فرماتے ہیں: صحابہ کا خیال تھا کہ یہ خط ان کی طرف سے گھڑا گیا تھا۔

(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 169)

یہ باغی حضرت علیؓ کو متہم کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کو خط لکھ کر مدینہ پر چڑھائی کرنے کی دعوت دی ہے۔ حضرت علیؓ اس سے انکار کرتے ہیں اور قسم کھا کر کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے تمھیں کوئی خط نہیں تحریر کیا ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335)

اسی طرح دیگر صحابہ کرامؓ کی طرف خطوط منسوب کیے جاتے ہیں کہ انہوں نے مختلف صوبہ والوں کو خطوط لکھے اور انہیں مدینہ پر چڑھائی کی دعوت دی کہ محمدﷺ کا دین فساد کا شکار ہے اور متروک ہو چکا ہے لہٰذا مدینہ میں جہاد کرنا دور کے حدود پر رباط سے بہتر ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335) 

امام ابن کثیر رحمۃاللہ اس خبر پر تعلیق چڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’یہ صحابہ پر کذب بیانی ہے۔ یہ جعلی خطوط ان کے نام سے گھڑے گئے تھے، علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کی طرف سے قاتلین عثمان کے نام جعلی تیار کیے گئے تھے۔ اسی طرح یہ خط بھی حضرت عثمان غنیؓ کی طرف سے جعلی تیار کیا گیا آپ نے نہ تو اس کا حکم دیا تھا اور نہ آپ کو اس کا علم تھا۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 175)

امام ابن کثیر رحمۃاللہ کے اس بیان کی تصدیق طبری اور خلیفہ بن خیاط کی ان صحیح روایات سے ہوتی ہے جس میں اکابرین صحابہ علی، عائشہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کی جانب سے ان خطوط سے لاعلمی اور تردید مذکور ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335)

وہ مجرم ہاتھ جس نے یہ جعلی اور جھوٹے خطوط ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام سے تیار کیے وہ وہی ہاتھ ہیں جنھوں نے اول سے آخر تک فتنہ و بغاوت کی آگ بھڑکائی ہے، اور اس وسیع فساد کو مزین کر کے پیش کیا ہے اور انہی ہاتھوں نے حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف ان اباطیل کو رواج دیا کہ انہوں نے ایسا اور ایسا کیا ہے، لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈالی اور رذیل لوگوں نے اس کو قبول کر لیا اور پھر سیدنا عثمان غنیؓ کے نام سے یہ خط بھی گھڑ دیا تاکہ حضرت عثمان غنیؓ شہادت کی سعادت سے سرفراز ہوں۔ اس یہودی ابن سبا کی سبائی سازش میں صرف سیدنا عثمان شہید رضی اللہ عنہ ہی مظلوم نہ تھے، بلکہ ان سے قبل اسلام مظلوم قرار پایا۔ پھر یہ تحریف شدہ تاریخ اور مسلمان نسلیں جنھوں نے اپنی تاریخ کو تحریف شدہ پایا یہ سب مظلوم ہیں۔ اس خبیث یہودی اور اس کے حواری خواہشات اور شہوتوں میں ڈوبے ہوئے کینہ پرور پیروکاروں نے ان سب پر ظلم ڈھایا ہے۔ کیا اسلامی نسلوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ وہ اپنی صحیح تاریخ اور اپنے عظماء کی سیرت کو پہچانیں؟ بلکہ کیا اس دور میں لکھنے والے مؤلفین و مصنّفین اور مقالہ نگاروں کے لیے وقت نہیں آیا کہ اللہ سے ڈریں اور بغیر تحقیق و تدقیق کے نیک و پرہیزگار لوگوں کو متہم کرنے کی جرأت نہ کریں؟ تاکہ وہ بھی اس غلطی کے مرتکب نہ ہوں جس کے دوسرے مرتکب ہوئے ہیں۔

(عثمان بن عفان الخلیفۃ الشاکر الصابر: صفحہ (228۔229)