مصری وفد کے قتل سے متعلق جعلی خط - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

مصری وفد کے قتل سے متعلق جعلی خط

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

6: یہ منحوس خط پہلا خط نہ تھا جس کو ان مجرمین نے گھڑا تھا بلکہ اس سے قبل بہت سے جعلی خطوط امہات المؤمنین کے ناموں سے گھڑے اور اسی طرح علی، طلحہ، زبیر رضی اللہ عنہم کے ناموں سے گھڑے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا گیا کہ انہوں نے لوگوں کے نام خطوط بھیج کر انہیں حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف بغاوت کرنے پر ابھارا ہے۔ ام المؤمنین اس کی نفی کرتی ہیں اور فرماتی ہیں: اس رب کی قسم! جس پر مومن ایمان رکھتے ہیں اور کافر کفر کرتے ہیں میں نے ایسی کوئی تحریر اب تک نہیں لکھی ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 334)

امام اعمش رحمۃاللہ فرماتے ہیں: صحابہ کا خیال تھا کہ یہ خط ان کی طرف سے گھڑا گیا تھا۔

(تاریخ خلیفۃ بن خیاط: صفحہ 169)

یہ باغی حضرت علیؓ کو متہم کرتے ہیں کہ انہوں نے ان کو خط لکھ کر مدینہ پر چڑھائی کرنے کی دعوت دی ہے۔ حضرت علیؓ اس سے انکار کرتے ہیں اور قسم کھا کر کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں نے تمھیں کوئی خط نہیں تحریر کیا ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335)

اسی طرح دیگر صحابہ کرامؓ کی طرف خطوط منسوب کیے جاتے ہیں کہ انہوں نے مختلف صوبہ والوں کو خطوط لکھے اور انہیں مدینہ پر چڑھائی کی دعوت دی کہ محمدﷺ کا دین فساد کا شکار ہے اور متروک ہو چکا ہے لہٰذا مدینہ میں جہاد کرنا دور کے حدود پر رباط سے بہتر ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335) 

امام ابن کثیر رحمۃاللہ اس خبر پر تعلیق چڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’یہ صحابہ پر کذب بیانی ہے۔ یہ جعلی خطوط ان کے نام سے گھڑے گئے تھے، علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کی طرف سے قاتلین عثمان کے نام جعلی تیار کیے گئے تھے۔ اسی طرح یہ خط بھی حضرت عثمان غنیؓ کی طرف سے جعلی تیار کیا گیا آپ نے نہ تو اس کا حکم دیا تھا اور نہ آپ کو اس کا علم تھا۔‘‘

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 5 صفحہ 175)

امام ابن کثیر رحمۃاللہ کے اس بیان کی تصدیق طبری اور خلیفہ بن خیاط کی ان صحیح روایات سے ہوتی ہے جس میں اکابرین صحابہ علی، عائشہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کی جانب سے ان خطوط سے لاعلمی اور تردید مذکور ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 335)

وہ مجرم ہاتھ جس نے یہ جعلی اور جھوٹے خطوط ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام سے تیار کیے وہ وہی ہاتھ ہیں جنھوں نے اول سے آخر تک فتنہ و بغاوت کی آگ بھڑکائی ہے، اور اس وسیع فساد کو مزین کر کے پیش کیا ہے اور انہی ہاتھوں نے حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف ان اباطیل کو رواج دیا کہ انہوں نے ایسا اور ایسا کیا ہے، لوگوں کے دلوں میں یہ بات ڈالی اور رذیل لوگوں نے اس کو قبول کر لیا اور پھر سیدنا عثمان غنیؓ کے نام سے یہ خط بھی گھڑ دیا تاکہ حضرت عثمان غنیؓ شہادت کی سعادت سے سرفراز ہوں۔ اس یہودی ابن سبا کی سبائی سازش میں صرف سیدنا عثمان شہید رضی اللہ عنہ ہی مظلوم نہ تھے، بلکہ ان سے قبل اسلام مظلوم قرار پایا۔ پھر یہ تحریف شدہ تاریخ اور مسلمان نسلیں جنھوں نے اپنی تاریخ کو تحریف شدہ پایا یہ سب مظلوم ہیں۔ اس خبیث یہودی اور اس کے حواری خواہشات اور شہوتوں میں ڈوبے ہوئے کینہ پرور پیروکاروں نے ان سب پر ظلم ڈھایا ہے۔ کیا اسلامی نسلوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ وہ اپنی صحیح تاریخ اور اپنے عظماء کی سیرت کو پہچانیں؟ بلکہ کیا اس دور میں لکھنے والے مؤلفین و مصنّفین اور مقالہ نگاروں کے لیے وقت نہیں آیا کہ اللہ سے ڈریں اور بغیر تحقیق و تدقیق کے نیک و پرہیزگار لوگوں کو متہم کرنے کی جرأت نہ کریں؟ تاکہ وہ بھی اس غلطی کے مرتکب نہ ہوں جس کے دوسرے مرتکب ہوئے ہیں۔

(عثمان بن عفان الخلیفۃ الشاکر الصابر: صفحہ (228۔229)


صفحہ 2 از 2