محاصرہ کا آغاز اور لیڈران فتنہ کے پیچھے نماز سے متعلق حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی رائے
علی محمد الصلابیصحیح روایات کے اندر، محاصرہ کے آغاز کی کیفیت اور اس کے وقوع کی تفصیل مذکور نہیں ہے۔ شاید محاصرہ سے قبل کے واقعات سے محاصرہ کے آغاز پر روشنی پڑتی ہو جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دن حضرت عثمان غنیؓ لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، دوران خطبہ میں اعین (اس کا پورا نام أعین بن ضبعیۃ بن ناجیۃ بن غفال التمیمی الحنظلی الذرمی ہے۔) نامی ایک شخص نے آپ کی بات کاٹتے ہوئے کہا: اے نعثل (حضرت عثمان غنیؓ کی تنقیص کے لیے سبائی باغیوں نے آپ کو یہ لقب دے رکھا تھا۔ نعثل کے معنی ’’بے وقوف بڈھا‘‘ کے ہیں۔) تم نے تو دین کو بدل ڈالا ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے دریافت کیا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ اعین ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: ’’بلکہ تو نے اے غلام!‘‘ لوگ اس کو پکڑنے کے لیے آگے بڑھے لیکن بنو لیث کے ایک شخص نے اس کو ان لوگوں سے بچا کر گھر میں داخل کر دیا۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 143، تاریخ دمشق ترجمۃ عثمان: صفحہ 247 اسنادہ حسن)
پھر باغیوں کی دوبارہ واپسی ہوئی، محاصرہ کے شدت اختیار کرنے سے قبل حضرت عثمان غنیؓ نماز کے لیے نکل سکتے تھے، اور کوئی بھی ان کے پاس آ سکتا تھا، لیکن پھر آپ کو فرض نماز کے لیے بھی نکلنے سے روک دیا گیا،
(تاریخ دمشق ترجمۃ عثمان: صفحہ (241۔342) اسنادہ حسن)
اور باغی لیڈران کا ایک شخص لوگوں کو نماز پڑھانے لگا، عبیداللہ بن عدی بن خیار نے اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں حرج محسوس کیا، انہوں نے حضرت عثمان غنیؓ سے اس سلسلہ میں مشورہ کیا تو آپ نے اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا مشورہ دیا، اور فرمایا: نماز سب سے بہترین چیز ہے جسے لوگ کرتے ہیں جب لوگ اچھائی کریں تو تم بھی ان کے ساتھ اچھائی کرو اور جب لوگ برائی کریں تو تم ان کی برائی سے بچو۔
(البخاری: کتاب الصلاۃ: صفحہ 192)
بعض ضعیف روایات میں آیا ہے کہ اس وقت لوگوں کو باغیوں کا امیر غافقی نماز پڑھاتا تھا۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 145)
اور واقدی نے جو یہ بیان کیا ہے کہ علی نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہما کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا اور وہ محاصرہ کے ابتدائی دنوں میں نماز پڑھاتے تھے اور پھر سیدنا علیؓ نے عید کی اور اس کے بعد کی نمازیں پڑھائیں یہ سب صحیح نہیں ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 444)
اس روایت کی سند میں شدت ضعف کے ساتھ ساتھ اگر نماز علی بن ابی طالب اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہما پڑھاتے ہوئے تو عبیداللہ بن عدی بن خیار ان دونوں کے پیچھے نماز پڑھانے میں حرج محسوس نہ کرتے۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 145)