Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو منصب خلافت سے عدم تنازل پر ابھارتے ہیں

  علی محمد الصلابی

محاصرہ کے دوران میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے کہا: دیکھ رہے ہو یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ یہ لوگ کہہ رہے ہیں خلافت سے دست بردار ہو جاؤ اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے آپ سے کہا: اگر آپ خلافت سے دست بردار ہو جائیں تو کیا آپ ہمیشہ ہمیشہ دنیا میں زندہ رہیں گے؟ حضرت عثمان غنیؓ نے کہا: نہیں، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر آپ خلافت سے دست بردار نہ ہوں تو کیا یہ لوگ آپ کو قتل سے زیادہ کچھ کر سکتے ہیں؟ حضرت عثمان غنیؓ نے کہا: نہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا یہ لوگ آپ کے لیے جنت یا جہنم کے مالک ہیں؟ حضرت عثمانؓ نے کہا: نہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو آپ اس قمیص کو نہ اتاریں جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہنایا ہے، ورنہ یہ سنت قرار پا جائے گی کہ جب بھی لوگ اپنے خلیفہ یا امام کو ناپسند کریں گے اس کو قتل کر دیں گے۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 473، اسنادہ صحیح)

اللہ تعالیٰ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے راضی ہو آپ کس قدر دور اندیش تھے۔ آپ نہیں چاہتے تھے کہ امیر المؤمنین عثمان بن عفانؓ، خلفاء کے لیے سنت سیئہ جاری کریں۔ حضرت عثمان غنیؓ ایسا کبھی نہیں کر سکتے تھے۔ اگر امیر المؤمنین ان سبائی باغیوں کے مطالبہ پر خلافت سے تنازل اختیار کر لیتے تو خلفاء اقتدار پسندوں اور خود غرضوں کے ہاتھ میں کھلونا بن جاتے، اور ایسی صورت میں خلیفہ کا وقار مجروح ہو جاتا، اور لوگوں کے دلوں میں اس کی ہیبت ختم ہو جاتی۔ امیر المؤمنین عثمانؓ نے عبداللہ بن عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے مشورہ سے اپنے بعد آنے والے خلفاء کے لیے سنت حسنہ جاری کر دی۔ صبر و احتساب سے کام لیا، نہ تو خلافت سے دست بردار ہوئے اور نہ ہی مسلمانوں کا خون بہایا۔

(الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 179)

وہ باغی جو امت کے مٹھی بھر افراد تھے، اور نہ ان کا تعلق اصحاب حل و عقد سے تھا، نہ وہ علمائے امت اور فقہائے شریعت سے تعلق رکھتے تھے، ان کے مطالبات کو تسلیم کر لینا انتہائی خطرناک ثابت ہوتا، اس کے خطرناک نتائج قومی تحریک، ہیبت خلافت اور راعی و رعیت کے تعلق پر پڑتے، ان برے آثار و نتائج کی قیمت یہ تھی کہ خلیفہ اپنی زندگی قربان کر دے۔ آپ اپنے انجام کو جانتے تھے اور اسے قبول کرنے کے لیے تیار تھے، اگرچہ یہ عمل نفس پر انتہائی گراں تھا لیکن آپ نے اپنے شخصی مصالح پر امت کے مصالح کو ترجیح دی جس سے آپ کی قوت و عزیمت اور شجاعت و پختہ ارادہ و عزم ظاہر ہوتا ہے، اور ان اتہامات کی آپ نے تردید فرما دی جو ان صفات عالیہ میں ضعف و کمزوری کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ آپ فتنہ کو کچلنے کی پوری طاقت رکھتے تھے لیکن آپ نے مفاسد و مصالح کا اندازہ لگایا تو فتنہ کو کچلنے کے مفاسد سے اعراض فرمایا۔ اس سے ’’عقاد‘‘ کی غلطی نمایاں ہوتی ہے جس کا کہنا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ کا قتل، بازاری لوگوں کی غنڈہ گردی کا نتیجہ تھا، جس کو کوئی کچلنے والا نہیں ملا۔

(ذوالنورین عثمان بن عفان: صفحہ 122)

اس سے حضرت عثمان غنیؓ کی شخصیت اور شجاعت پر حرف آتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بازاری لوگوں کی غنڈہ گردی تھی لیکن اس کو نہ کچلنا حضرت عثمان غنیؓ کی منقبت ہے، کیوں کہ اس میں اللہ کی راہ میں قربانی کا جذبہ نمایاں ہوتا ہے نیز آپ کے پیشِ نظر امت کے لیے مصالح کا حصول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل تھا۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 149)