Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

باغیوں کا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو قتل کی دھمکی

  علی محمد الصلابی

حضرت عثمان غنیؓ اپنے گھر میں تھے اور باغی آپؓ کے گھر کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ ایک روز حضرت عثمان غنیؓ اپنے گھر کے دروازہ کے پاس آئے تو آپ نے باغیوں کی طرف سے قتل کی دھمکی سنی، حضرت عثمان غنیؓ دروازہ کے پاس سے ہٹ کر اندر گھر میں ان لوگوں کے پاس گئے جو آپ کے ساتھ گھر میں تھے۔ اس وقت آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا فرمایا: یہ لوگ ابھی مجھے قتل کی دھمکی دے رہے ہیں، لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنینؓ اللہ آپ کے لیے کافی ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: یہ لوگ مجھے کس بنیاد پر قتل کریں گے؟ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے:

لایحل دم امریٔ مسلم الا فی احدی ثلاث: رجل کفر بعد ایمانہ، او زنی بعد إحصانہ، اوقتل نفسا بغیر نفس۔

’’کسی مسلمان کا خون حلال نہیں الا یہ کہ تین باتوں میں سے کوئی ایک بات پائی جائے۔ ایمان کے بعد کافر ہو جائے یا شادی کے بعد زنا کر لے یا کسی جان کو بغیر بدلہ کے قتل کیا ہو۔‘‘

اللہ کی قسم میں کبھی زنا کے قریب نہیں گیا، نہ جاہلیت میں اور نہ حالت اسلام میں، اور جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دی ہے کبھی یہ تمنا نہیں کی کہ میرے لیے میرے دین کا بدل ہو، اور نہ کسی کو میں نے قتل کیا ہے، تو آخر یہ لوگ کیوں مجھے قتل کریں گے؟

(المسند: جلد 1 صفحہ 63 احمد شاکر نے کہا: اس کی سند صحیح ہے۔ صفحہ 452)

پھر حضرت عثمان غنیؓ محاصرہ کرنے والے باغیوں کی طرف متوجہ ہوئے، اور ان کے جوش بغاوت کو ٹھنڈا کرنا چاہا اور امام وقت کے خلاف بغاوت سے ان کا رخ موڑنا چاہا، اس سلسلہ میں آپ نے ان کے اعتراضات کی تردید اور حقائق کا اظہار کرنا چاہا، شاید دھوکا کھائے ہوئے لوگوں کو ہوش آجائے اور رشد و ہدایت کی طرف پلٹ آئیں۔ آپ نے ان سے کہا کہ ایک شخص کو میرے پاس بھیجو میں اس سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، ان باغیوں نے ایک نوجوان کو اپنے میں سے بھیج دیا جس کا نام صعصعہ بن صوحان تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اس سے کہا کہ وہ ان کے خلاف جو ان کے اعتراضات ہیں وہ پیش کرے۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 150)