صعصعہ کے استدلال کی تردید پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا حجت قائم کرنا
علی محمد الصلابیصعصعہ نے کہا: ہمیں ہمارے گھروں سے ناحق نکالا گیا، ہمارا قصور صرف یہ تھا کہ ہم نے کہا تھا ہمارا رب اللہ ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اس سے کہا: آیات کی تلاوت کرو، اس نے قرآن سے استدلال کرتے ہوئے یہ آیت پڑھی:
اُذِنَ لِلَّذِيۡنَ يُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّهُمۡ ظُلِمُوۡا وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصۡرِهِمۡ لَـقَدِيۡرُ۞(سورۃ الحج آیت 39)
ترجمہ: جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلانے پر پوری طرح قادر ہے۔
حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: یہ آیت تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ میرے اور میرے ساتھیوں کے حق میں ہے، پھر حضرت عثمان غنیؓ نے اس آیت کی تلاوت کی جو صعصعہ نے پڑھی تھی، اور اس کے بعد کی آیات کی بھی تلاوت فرمائی جو اس کی تفسیر کرتی ہیں اور صعصعہ کے استدلال کے بطلان کو ظاہر کرتی ہیں:
اُذِنَ لِلَّذِيۡنَ يُقٰتَلُوۡنَ بِاَنَّهُمۡ ظُلِمُوۡا وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَـصۡرِهِمۡ لَـقَدِيۡرُ۞اۨلَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ بِغَيۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ يَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُوَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لَّهُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذۡكَرُ فِيۡهَا اسۡمُ اللّٰهِ كَثِيۡرًا وَلَيَنۡصُرَنَّ اللّٰهُ مَنۡ يَّنۡصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِىٌّ عَزِيۡزٌ۞ اَلَّذِيۡنَ اِنۡ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَنَهَوۡا عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الۡاُمُوۡرِ ۞ (سورۃ الحج آیت 39تا41)
ترجمہ: جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ اپنے دفاع میں لڑیں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے، اور یقین رکھو کہ اللہ ان کو فتح دلانے پر پوری طرح قادر ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں صرف اتنی بات پر اپنے گھروں سے ناحق نکالا گیا ہے کہ انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے۔ اور اگر اللہ لوگوں کے ایک گروہ (کے شر) کو دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور کلیسا اور عبادت گا ہیں اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے ذکر کیا جاتا ہے، سب مسمار کردی جاتیں۔ اور اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس (کے دین) کی مدد کریں گے۔ بلاشبہ اللہ بڑی قوت والا، بڑے اقتدار والا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوٰۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔
حضرت عثمان غنیؓ نے ان آیات کے شان نزول اور یہ جن کے بارے میں نازل ہوئی تھیں اور جن پر دلالت کرتی ہیں، ان سب کو بیان کرتے ہوئے لوگوں کو ان آیات کا صحیح مفہوم و مراد سمجھا دیا تاکہ بغیر معنیٰ و مراد سمجھے ہوئے قرآن پڑھ کر لوگوں کو التباس میں کوئی مبتلا نہ کر سکے اور اس کے معنیٰ و مراد کے خلاف استدلال نہ کرے۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 151)
اسی طرح حضرت عثمان غنیؓ نے جس چیز کی نفی کی وہ درحقیقت اس آیت جو صعصعہ نے پڑھی تھی کے بعد والی آیت پر عمل ہے۔ کیوں کہ یہ آیت کریمہ اس شخص کو حکم دیتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے زمین میں اقتدار عطا کیا ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے۔ حضرت عثمان غنیؓ خلیفہ تھے، آپ کی یہ ذمہ داری تھی اور جب ان لوگوں نے بعض مسلمانوں پر ظلم کیا اور فتنہ برپا کرنے کی کوشش کی، تو آپ نے ان کی نفی کر کے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کیا لہٰذا یہ بات ان کو اچھی نہ لگی اور عداوت پر اتر آئے۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 152)