سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا لوگوں کو اپنے فضائل یاد دلانا
علی محمد الصلابیان لوگوں کی تردید کے بعد سیدنا عثمان غنیؓ نے لوگوں کو اپنا مقام و مرتبہ اور بعض فضائل یاد دلائے۔ پس جو لوگ ان فضائل کو جانتے تھے یا رسول اللہﷺ سے سنا تھا، ان سے اپیل کی کہ وہ دیگر لوگوں سے اس کو بیان کریں، چنانچہ آپ نے فرمایا: میں ان حضرات کو اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جو حراء کے دن رسول اللہﷺ کے ساتھ حاضر تھے، اور جب پہاڑ ہلنے لگا تھا تو کیا اللہ کے رسولﷺ نے قدم سے اس کو مارتے ہوئے نہیں فرمایا تھا: اے حراء تو ٹھہر جا! تیرے اوپر یا تو نبی ہے یا صدیق یا شہید، اور میں اس وقت آپ کے ساتھ تھا؟ تو لوگوں نے اس کی شہادت دی۔
پھر فرمایا: میں ان حضرات کو اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جو بیعتِ رضوان میں رسول اللہﷺ کے ساتھ حاضر تھے کہ کیا رسول اللہﷺ نے جب مجھے مشرکین کے پاس بھیج دیا، اور صحابہ کرامؓ سے بیعت لی تو آپ نے اپنے ایک ہاتھ کو میرا ہاتھ قرار نہیں دیا کہ یہ میرا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا ہاتھ ہے، اور پھر میری طرف سے بیعت کی؟ تو لوگوں نے اس کی بھی شہادت دی۔
پھر فرمایا: میں ان حضرات کو اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جو رسول اللہﷺ کے ساتھ حاضر تھے کیا رسول اللہﷺ نے نہیں فرمایا: جو اس گھر کو مسجد میں شامل کر کے اس کو وسیع کر دے اللہ اس کے عوض اس کو جنت میں گھر دے گا تو میں نے اس گھر کو اپنے مال سے خرید کر مسجد کی توسیع کر دی۔ لوگوں نے اس کی بھی شہادت دی۔
پھر فرمایا: میں ان حضرات کو اللہ کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں جو رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے، کیا بئر رومہ ایک یہودی کی ملکیت نہ تھا، جو اس کا پانی بیچتا تھا؟ اور رسول اللہﷺ نے فرمایا: کون ہے جو اس کنویں کو خرید کر اس کا پانی ہر راہ چلنے والے کے لیے عام کر دے؟ تو میں نے اپنے مال سے اس کو خرید کر اس کو عام کر دیا؟ لوگوں نے اس کی بھی شہادت دی۔
(المسند: جلد 1 صفحہ 59، علامہ احمد شاکر رحمۃاللہ نے کہا اس کی سند صحیح ہے، صفحہ 420)
ابو ثور فہمی سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان غنیؓ کے پاس گیا، اور ان کے پاس رہا، پھر وہاں سے نکلا تو دیکھا مصری لوٹ رہے ہیں، پھر میں حضرت عثمان غنیؓ کے پاس واپس گیا اور ان کو اس کی خبر دی۔ حضرت عثمان غنیؓ نے دریافت کیا: تم نے ان لوگوں کو کس حالت میں دیکھا؟ میں نے عرض کیا: میں نے ان کے چہروں میں برائی اور بدنیتی محسوس کیا، اور ابن عدیس بلوائیوں کا سرغنہ ہے، پھر ابن عدیس منبر رسولﷺ پر چڑھا، اور خطبہ دیا اور لوگوں کو جمعہ کی نماز پڑھائی، اور خطبہ کے دوران حضرت عثمان غنیؓ کی تنقیص و گستاخی کی، پھر میں حضرت عثمان غنیؓ کے پاس واپس گیا، اور جو کچھ اس نے خطبہ میں کہا تھا اس سے مطلع کیا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم ابن عدیس نے جھوٹ کہا اگر اس نے ایسی باتیں نہ کی ہوتیں تو میں بیان نہ کرتا۔ میں اسلام قبول کرنے والوں میں چوتھا فرد ہوں، رسول اللہﷺ نے اپنی بیٹی میری زوجیت میں دی، پھر جب اس کا انتقال ہو گیا تو دوسری بیٹی میری زوجیت میں دے دی۔ میں نے نہ تو جاہلیت میں اور نہ اسلام میں کبھی زنا اور چوری کا ارتکاب کیا، اور جب سے اسلام قبول کیا ہے نہ کبھی گانا گایا، نہ اس کی تمنا و خواہش کی، اور جب سے میں نے رسول اللہﷺ سے بیعت کی ہے اپنے ہاتھ سے کبھی اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا اور جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے جمعہ کو ایک غلام آزاد کرتا رہا ہوں الا یہ کہ کسی جمعہ کو غلام نہ ملے، تو دوسرے جمعہ کو اس کے عوض دو غلام آزاد کرتا ہوں۔
(المعرفۃ و التاریخ: جلد 2 صفحہ 488، خلافۃ عثمان بن عفان: السلمی: صفحہ 91)
جب حضرت عثمان غنیؓ نے دیکھا کہ باغی آپ کے قتل پر مصر ہیں تو آپ نے انہیں اس سے روکا، اور اس فعل بد کے انجام سے خبردار کیا، اور روشن دان سے ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: لوگو! مجھے قتل نہ کرو، مجھے رضا مند کر لو، اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو کبھی ایک ساتھ مل کر قتال نہ کر سکو گے، اور نہ کبھی دشمن سے جہاد کر سکو گے
اور تم آپس میں اختلاف کر کے اس طرح گتھم گتھا ہو گے، پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈال کر بتایا۔
(الطبقات: جلد 3 صفحہ 71) تاریخ ابن خیاط: صفحہ 171 اسنادہ صحیح)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: لوگو! مجھے قتل نہ کرو میں تمہارا والی اور مسلمان بھائی ہوں۔ اللہ کی قسم میں اپنی طاقت بھر اصلاح و بھلائی ہی چاہتا ہوں، خواہ صحیح کیا ہوں یا مجھ سے غلطی ہوئی ہو، اگر تم لوگوں نے مجھے قتل کر دیا تو کبھی ایک ساتھ مل کر نماز نہ پڑھ سکو گے، اور نہ مل کر دشمن سے جنگ کر سکو گے، اور مال غنیمت تمہارے درمیان تقسیم نہ ہو گا۔
(الطبقات: جلد 3 صفحہ 67ـ68، فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 156)
نیز فرمایا: اللہ کی قسم! اگر ان لوگوں نے مجھے قتل کر دیا تو میرے بعد آپس میں کبھی پیار و محبت سے نہ رہ سکیں گے اور میرے بعد کبھی دشمن سے قتال نہ کر سکیں گے۔
(تاریخ ابن خیاط: صفحہ 171، فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 157 اسنادہ حسن)
اور وہی ہوا جس سے آپ نے خبردار کیا تھا، آپ کے قتل کے بعد وہ سب کچھ ہوا جو آپ نے فرمایا تھا، اس سلسلہ میں حضرت حسن بصری رحمۃاللہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم اگر لوگ ایک ساتھ نماز پڑھتے ہیں تو ان کے دل مختلف ہوتے ہیں۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 157)