Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قتال سے روکنے کے اسباب

  علی محمد الصلابی

فتنہ بغاوت کی روایات کی روشنی میں محققین کے سامنے پانچ اسباب نمایاں ہوتے ہیں:

1: رسول اللہﷺ کی اس وصیت پر عمل جو آپ کو چپکے سے کی تھی۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اس کو محاصرہ کے وقت بیان کیا تھا کہ ان کے ساتھ ایک معاہدہ ہے، وہ اس پر صبر کریں گے۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 605) اسنادہ صحیح)

2:  حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا تھا: میں رسول اللہﷺ کے بعد آپ کی امت میں سب سے پہلا خون بہانے والا نہیں ہو سکتا۔ یعنی آپ کو یہ بات ناپسند تھی کہ وہ رسول اللہﷺ کے بعد آپ کی امت میں سب سے پہلے مسلمانوں کا خون بہانے والے بنیں۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 167، المسند: جلد 1 صفحہ 396 احمد شاکر)

3: سیدنا عثمان غنیؓ کو یہ علم تھا کہ باغی صرف آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں اس کے علاوہ انہیں اور کچھ نہیں چاہیے، اس لیے آپ کو یہ بات ناپسند تھی کہ مومنوں کے ذریعہ سے اپنا بچاؤ کریں اور یہ بات آپ کو محبوب تھی کہ اپنی جان دے کر مومنوں کو بچا لیں۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 167، اس سلسلہ کی روایت میں ضعف ہے۔)

4: سیدنا عثمان غنیؓ کو یہ علم تھا کہ اس فتنہ میں قتل ہوں گے کیوں کہ رسول اللہﷺ نے حضرت عثمان غنیؓ کو جنت کی بشارت دیتے ہوئے اس کی خبر دی تھی کہ ان کو مصیبت و آزمائش لا حق ہو گی اور یہ کہ وہ حق پر ڈٹے ہوئے فتنہ میں قتل ہوں گے اور اس وقت حالات اس بات پر دلالت کر رہے تھے کہ وہ وقت قریب آ گیا ہے اور اس خواب سے اس کی مزید تاکید ہو گئی جو قتل کی رات آپ نے دیکھا تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے خواب میں رسول اللہﷺ کو دیکھا، آپ ان سے فرما رہے ہیں کل ہمارے پاس افطار کرنا، اس سے سیدنا عثمان غنیؓ سمجھ گئے کہ اب شہادت کا وقت قریب آچکا ہے۔

5: حضرت عبداللہ بن سلامؓ کے مشورہ پر عمل۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: قتال سے روکے رہیں، یہ اتمام حجت و دلیل سے زیادہ آپ کے لیے مفید ہے۔

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 71 اسنادہ حسن)

6: رسول اللہﷺ کی پیشین گوئی صحیح ثابت ہوئی کہ حضرت عثمان غنیؓ عنقریب شہید کیے جائیں گے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن حوالہؓ 

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 168 اسنادہ حسن او صحیح) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو تین چیزوں سے نجات پا گیا، وہ نجات پا گیا۔ تین بار آپ نے یہ بات دہرائی۔ میری موت، دجال، حق پر ثابت قدم خلیفہ کا قتل۔

(المسند: جلد 4 صفحہ 419ـ جلد 5 صفحہ 346، تحقیق احمد شاکر)

گزشتہ تفصیلات سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ کی فکر میں متانت و سنجیدگی تھی۔ مصیبت کی شدت صحیح فکر کے درمیان حائل نہ ہوئی اور باغیوں سے قتال سے متعلق اس مصالحانہ موقف کی تحدید کے لیے اسباب بکثرت موجود تھے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ نے جو موقف اختیار کیا اس میں حق بجانب تھے کیوں کہ رسول اللہﷺ سے بہ سند صحیح ثابت ہے کہ آپ نے اس فتنہ کے وقوع کی طرف اشارہ فرمایا تھا اور حضرت عثمان غنیؓ اور آپ کے ساتھیوں کے سلسلہ میں شہادت دی تھی کہ یہ اس میں حق پر ہوں گے۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 168، نیز ان احادیث)

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

تواتر سے یہ حقیقت معلوم ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ سب سے زیادہ قتل و خونریزی سے بچنے والے اور اپنی عزت و ناموس اور اپنی جان و خون کے سلسلہ میں سب سے زیادہ صبر کرنے والے تھے۔ باغیوں نے سیدنا عثمان غنیؓ کا محاصرہ کیا، آپ کو قتل کرنے کے لیے کوشاں رہے اور قتل کے سلسلہ میں ان کے ارادوں سے آپ واقف ہوئے۔ مسلمان حضرت عثمان غنیؓ کی نصرت و مدد کے لیے حاضر ہوئے، باغیوں کے ساتھ قتال کا مشورہ دیا، لیکن آپ لوگوں کو قتال سے روکتے ہی رہے اور اطاعت شعاروں کو یہی حکم دیتے رہے کہ وہ قتال نہ کریں آپ کو پیشکش کی گئی کہ آپ مکہ چلے جائیں تو آپ نے جواب دیا کہ میں حرم میں الحاد کرنے والا نہیں صحیحہ کو ملاحظہ فرمائیں جو اس کتاب میں حضرت عثمان غنیؓ کے فضائل اور شہادت سے متعلق بیان کی ہیں۔

ہو سکتا۔ سیدنا عثمان غنیؓ سے عرض کیا گیا کہ آپ شام چلے جائیں، فرمایا: میں دار ہجرت کو چھوڑ نہیں سکتا۔ آپ سے کہا گیا: تو اب ان سے قتال کیجیے۔ فرمایا: میں محمدﷺ کی امت میں آپ کے بعد سب سے پہلا تلوار اٹھانے والا نہیں ہو سکتا۔ حضرت عثمان غنیؓ کا قتل تک صبر کرتے رہنا مسلمانوں کے نزدیک آپ کے عظیم ترین فضائل میں سے ہے۔

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 202، 203)