امہات المؤمنین اور بعض صحابیات رضی اللہ عنہن کا موقف
علی محمد الصلابی1: ام المؤمنین ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما:
ان واقعات کے اندر ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا موقف، پر خطر مواقف میں سے تھا، اس قدر پر خطر تھا کہ قریب تھا کہ آپ کو قتل کر دیا جاتا چنانچہ جب حضرت عثمان غنیؓ کا محاصرہ کر لیا گیا اور آپ پر پانی بند کر دیا گیا تو حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے پڑوسی حضرت عمرو بن حزم انصاریؓ کے بیٹے کو حضرت علیؓ کے پاس بھیجا کہ ان لوگوں نے ہم پر پانی بند کر دیا ہے اگر آپ لوگ پانی بھیج سکتے ہیں تو بھیجیں اور اسی طرح آپ نے طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما اور ام المومنین عائشہ اور دیگر ازواج مطہراتؓ کو یہ پیغام بھیجا۔ سب سے پہلے علی اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہما نے اس پر لبیک کہا۔
(دورالمرأۃ السیاسی: أسماء محمد: صفحہ 340)
ابن عساکر کا بیان ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہؓ، حضرت عثمانؓ کا بےحد خیال رکھتی تھیں اور یہ ایک طبعی و فطری چیز تھی کہ دونوں کا تعلق اموی سلسلہ نسب سے تھا۔ حضرت ام حبیبہؓ خچر پر سوار ہو کر پہنچیں۔ باغیوں نے ان کے خچر کے چہرے پر مارا۔ ام المؤمنینؓ نے فرمایا: ان (عثمانؓ) کے پاس بنو امیہ کی وصیتیں ہیں لہٰذا میں نے مناسب سمجھا کہ ان سے مل کر اس سلسلہ میں تفصیلات معلوم کر لوں تاکہ یتیموں اور بیواؤں کا مال ضائع نہ ہو۔ باغیوں نے کہا: تو جھوٹی ہے اور ان کی طرف بڑھے اور خچر کی رسی تلوار سے کاٹ دی۔ خچر بدک کر بھاگا، قریب تھا کہ ام حبیبہؓ اس سے گر کر مر جاتیں لیکن لوگ دوڑے اور آپؓ کو گرنے سے بچا لیا اور آپ کو آپ کے گھر پہنچا دیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 401بحوالہ المرأۃ السیاسی: صفحہ 340)
بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ام المؤمنین ام حبیبہؓ نے اپنے غلام ابن الجراح کو حضرت عثمان غنیؓ کی خدمت میں محاصرہ کے وقت مقرر کر دیا تھا اور وہ شہادت کے وقت وہاں موجود تھے۔
(تاریخ المدینۃ: جلد 2 صفحہ 298)
2: ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا:
ام المؤمنین صفیہؓ نے بھی وہی کیا جو ام المومنین ام حبیبہؓ نے کیا چنانچہ کنانہ بن عدی العبشمی سے روایت ہے کہ میں ام المومنین صفیہؓ کو لے کر جا رہا تھا تاکہ وہ سیدنا عثمان غنیؓ کی طرف سے دفاع کریں، راستہ میں اشترنخعی ملا، اس نے آپ کے خچر کے چہرے پر ضرب لگائی اور وہ بدک پڑا اور ام المومنینؓ گرنے لگیں۔
ام المومنینؓ نے فرمایا: مجھے چھوڑو یہ مجھے رسوا نہیں کر سکتا۔ پھر آپؓ نے اپنے گھر سے حضرت عثمان غنیؓ کے گھر پر ایک لکڑی رکھ دی اور اس کے ذریعہ سے کھانا اور پانی پہنچاتی رہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 237، الطبقات: ابن سعد: جلد 8 صفحہ 128)
3: ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا:
ام المؤمنین ام حبیبہؓ کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا اس کا لوگوں پر بڑا گہرا اثر ہوا چنانچہ ام المؤمنین عائشہؓ باغیوں پر غیظ و غضب میں بھری ہوئی مدینہ سے نکل پڑیں، اس موقع پر حضرت مروان بن الحکمؓ پہنچے اور عرض کیا ام المؤمنین! اگر آپ مدینہ میں رہتیں تو لوگ ان (عثمانؓ) کا خیال رکھتے۔ فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ میرے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے جو ام حبیبہؓ کے ساتھ کیا گیا ہے پھر مجھے ان سے بچانے والا کوئی نہ ہو؟ نہیں اللہ کی قسم! میں یہ عار برداشت نہیں کر سکتی۔
(ام المؤمنین عائشہؓ کی اس تعبیر سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ باغیوں نے ام حبیبہؓ کے ساتھ جو گستاخی کی تھی وہ انتہائی المناک تھی۔)
میں نہیں جانتی کہ ان لوگوں کا معاملہ کہاں تک پہنچتا ہے۔
(تاریخ الطبری : جلد 5 صفحہ 401)
اور آپ نے یہ سمجھا کہ ان کے مدینہ سے چلے جانے سے باغیوں کا یہ مجمع چھٹ جائے گا جیسا کہ آگے آنے والی روایت سے واضح ہوتا ہے۔
امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن نے مدینہ سے نکلنے کے لیے حج کی تیاری کی لیکن امہات المؤمنینؓ کا مدینہ سے نکلنا صرف فتنہ کے ملابسات سے بچنا اور محض نکل جانا ہی نہ تھا بلکہ سیدنا عثمانؓ کو ان بلوائیوں کے ہاتھوں سے بچانے کی ایک کوشش بھی تھی، انہی بلوائیوں میں ام المؤمنین عائشہؓ کے بھائی محمد بن ابی بکر بھی تھے، ام المؤمنینؓ نے بڑی کوشش کی کہ وہ اس کو بھی اپنے ساتھ حج پر لے جائیں، لیکن ہر چند کوشش کے باوجود اس نے انکار کیا۔ ام المومنینؓ کی یہ کوشش اور محمد بن ابی بکر کا انکار ملفت للنظر تھا کہ حنظلہ بن ربیع الکاتبؓ(یہ حنظلہ بن ربیع تمیمیؓ ہیں جو رسول اللہﷺ کے کاتب تھے وحی لکھا کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کا نام الکاتب پڑ گیا۔)
کو ام المومنین کے ساتھ جانے سے محمد بن ابی بکر کے انکار سے حیرانی ہوئی اور آپ نے اس انکار اور باغیوں کی متابعت کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے فرمایا: اے محمد! تجھ کو ام المؤمنین بلا رہی ہیں اور تو ان کی بات نہیں مانتا اور یہ عرب کے فاسد لوگ تجھے حرام کام کی طرف بلاتے ہیں اور ان کی بات مان رہا ہے۔ پھر بھی محمد نے انکار کیا۔ ام المؤمنین عائشہؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم اگر میری استطاعت ہوتی کہ میں وہ کام کروں جس سے اللہ تعالیٰ ان کی نقل و حرکت سے انہیں محروم کر دے تو میں ضرور کرتی۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 401)
ام المؤمنینؓ کا بھائی کے ساتھ پوری کوشش کے بعد یہ فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے اس طرح مدینہ سے نکل کر اس بات کی کوشش کی تھی کہ باغی عثمانؓ سے ہٹ جائیں اور رائے عامہ ان باغیوں کے خلاف ہو جائے۔ جس وقت سے حضرت عثمان غنیؓ نے مکہ جانے کا سوچا تھا اس وقت سے آپ کے پیش نظر یہی تھا۔ امام ابن العربیؒ نے اسی کو ثابت کیا ہے، فرماتے ہیں: مروی ہے کہ امہات المومنینؓ اور صحابہؓ کا مدینہ سے نکل جانا اس شور و ہنگامہ کو ختم کرنے کے لیے تھا کہ اس طرح لوگ اپنی ماؤں امہات المؤمنینؓ کی طرف رجوع ہوں گے، نبی کریمﷺ کی حرمت کا خیال رکھیں گے۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 156)
اور ان امہات المؤمنینؓ کی باتوں کو کان لگا کر سنیں گے جب کہ اکثر لوگ ہر چہار جانب سے ان کی باتوں کو سننے کے لیے آیا کرتے تھے۔
(دورالمرأۃ السیاسی: صفحہ 324)
یعنی ان کا مدینہ سے خروج، بلوائیوں کے اس مجمع کو منتشر کرنے کی ایک کوشش تھی کیوں کہ یہ بات معروف تھی کہ لوگ ان کی رائے و فتویٰ کی تلاش میں ہوتے ہیں اور امہات المؤمنینؓ کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ یہ لوگ اس حد کو پہنچ جائیں گے کہ خلیفہ کو قتل کر ڈالیں گے۔
(دورالمرأۃ السیاسی: صفحہ 343)