صحابیات کا مؤقف
علی محمد الصلابیاسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا:
حضرت اسماء بنت عمیسؓ نے بھی وہی کوشش کی جو کوشش ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کی تھی، آپ نے اپنے دونوں بیٹوں محمد بن ابی بکر اور محمد بن جعفر کو بلایا اور فرمایا: چراغ خود کو کھاتا ہے اور لوگوں کو روشنی دیتا ہے لہٰذا تم دونوں اس امر میں گناہ کے مرتکب نہ ہو، تم لوگ ایسے شخص کو تکلیف پہنچا رہے ہو جس نے تم دونوں کے بارے میں کوئی گناہ نہیں کیا ہے۔ آج جس امر کی تم کوشش کر رہے ہو، یہ کل دوسروں کے لیے ہے۔ لہٰذا تم اس سے بچو کہ تمہارا عمل تمہارے لیے کل کے دن حسرت کا سبب بنے، لیکن وہ دونوں مصر رہے اور غصہ ہو کر یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ عثمان نے جو ہمارے ساتھ کیا ہے ہم اس کو نہیں بھول سکتے اور وہ یہ کہتی رہیں: انہوں نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے کیا انہوں نے تمھیں اللہ کا پابند نہیں بنایا ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 202)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ گفتگو لیلیٰ بنت اسماء اور ان کے دونوں بھائیوں کے درمیان ہوئی تھی۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 202)
یہاں حضرت اسماءؓ اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ جب باغی مدینہ پہنچے اور حضرت عثمان غنیؓ نے ان کے اعتراضات کے جوابات دیے اور ان پر حجت قائم کر دی تو ان لوگوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ اپنے شہروں کو واپس جا رہے ہیں، لیکن پھر راستہ سے واپس آگئے اور یہ دعویٰ کیا کہ حضرت عثمان غنیؓ نے ان کے کچھ لوگوں کو قتل کرنے کے لیے پیغامبر روانہ کیے ہیں اور ان کے دعویٰ کے مطابق انہی لوگوں میں سے محمد بن ابی بکر بھی تھے۔
(دورالمرأۃ السیاسی: صفحہ 343)
شاید اسی بہتان کی طرف محمد بن ابی بکر نے اپنے اس قول میں اشارہ کیا ہے:
’’عثمان نے جو ہمارے ساتھ کیا ہے ہم اس کو نہیں بھول سکتے۔‘‘
حضرت عثمان غنیؓ نے اس خط سے انکار کیا اور فرمایا کہ یا تو تم اس پر دو گواہ پیش کرو ورنہ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے نہ اس کو تحریر کیا ہے اور نہ تحریر کرنے کا حکم دیا ہے۔ انسان کی طرف سے جعلی خط لکھے جا سکتے ہیں اس کی تحریر اور مہر کی نقالی بھی کی جا سکتی ہے۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 120)
اس وقت مسلمانوں کے حالات کو بگاڑنے اور حضرت عثمان غنیؓ کو مسند خلافت سے ہٹانے کی جو خفیہ تدبیر چل رہی تھی حضرت اسماءؓ اس سے بخوبی واقف تھیں۔ اپنے دونوں بچوں کے سلسلہ میں آپ کا موقف اور معاملہ کے اس طرح واضح ہونے کی وجہ سے آپ ماں کی مامتا سے متاثر نہیں ہوئیں اور حق کے ساتھ ڈٹی رہیں، اسی کا ساتھ دیا، بلاشبہ اس موقف کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا ہے یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت کی واضح تصویر ہے۔
(دورالمرأۃ السیاسی: صفحہ 344)
صعبۃ بنت حضرمي رضی اللہ عنہا:
جب محاصرہ شدت اختیار کر گیا تو صعبہ بنت حضرمی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت عثمان غنیؓ سے گفتگو کریں اور انہیں اپنے آپ کو بغیر مدافعت کیے ہوئے باغیوں کے حوالہ کرنے سے روکیں، چنانچہ وہ نکلیں اور اپنے بیٹے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: حضرت عثمان غنیؓ پر محاصرہ سخت ہو گیا ہے اگر تم ان سے بات کرتے انہیں اس سے روک لیتے تو اچھا ہوتا۔
(دورالمرأۃ السیاسی: صفحہ 345)
اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت صعبہؓ حضرت عثمان غنیؓ پر کس قدر مشفق تھیں اور کس قدر خطرہ محسوس کر رہی تھیں اور ام عبداللہ بنت رافع کو اس واقعہ کا کس قدر اہتمام تھا۔ (ایضاً)
انہی نے صعبہ بنت حضرمی سے روایت کی ہے۔ (ایضاً)
مسلم خواتین کا یہ عام موقف تھا، یہ موقف انتہائی اعتدال پر قائم تھا اور مسئلہ میں بہت سارے ابہام و غموض کے باوجود اس سے متعلق صحیح رائے قائم کرنے پر قادر تھا بہرحال تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہی موقف تھا۔
(دورالمرأۃ السیاسی: صفحہ 345۔346)