کیا سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں سے مدد طلب کی؟
علی محمد الصلابیطبری کی روایت کے مطابق سیف بن عمر کا خیال ہے کہ جب حضرت عثمان غنیؓ کا محاصرہ کر لیا گیا تو آپ نے اپنے گورنروں کو خط لکھ کر ان سے مدد طلب کی، چنانچہ حضرت معاویہؓ نے حضرت حبیب بن مسلمہ فہریؓ کی قیادت میں ایک لشکر روانہ کیا، اسی طرح حضرت عبداللہ بن سعدؓ نے مصر سے کیا، اور کوفہ سے قعقاع بن عمروؓ اپنی فوج لے کر نکلے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 379، 380)
لیکن یہ خیال فتنہ سے نمٹنے میں حضرت عثمان غنیؓ کے منہج سے میل نہیں کھاتا۔ آپ عافیت اور قتال سے اعراض کو ترجیح دیتے تھے۔ آپ کو یہ یقین تھا کہ میں قتل ہوں گا اور اسی طرح آپ نے دفاع کرنے والے اکابر صحابہؓ اور ان کی اولاد کو واپس کر دیا، بلکہ اپنے غلام و موالی کو سختی کے ساتھ قتال سے منع کر دیا بلکہ جو اپنا ہاتھ روک لے اس کی آزادی کا اعلان کر دیا۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ نے گورنروں سے مدد طلب نہیں کی اور سیف بن عمر کا یہ زعم صحیح نہیں۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ جس طرح صحابہ کی ایک جماعت بغیر طلب کیے دفاع کے لیے آگے بڑھی باوجودیکہ آپ ان کو بار بار روکتے رہے، اسی طرح اسلامی لشکر کی بہت بڑی تعداد صوبوں سے خلیفہ مظلوم کے دفاع میں خود سے اور اپنے امراء کے حکم سے آگے بڑھی ہو۔ یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ حضرت معاویہؓ جیسے لوگ جو حضرت عثمان غنیؓ کے قریبی تھے، ان حالات میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے۔ یہ بھی تسلیم کر لینا ممکن ہی نہیں کہ مصر میں آپ کے ہم نوا معاویہ بن خدیج اور مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہما جیسے سورما آپ کے قتل کا بیٹھ کر تماشا دیکھیں لہٰذا یہ عین ممکن اور یقینی ہے کہ صوبوں سے اسلامی لشکر خلیفہ کے مطالبہ کے بغیر حرکت میں آیا ہو اور مدینہ کی طرف روانہ ہوا ہو۔
(الدولۃ الاسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 278، 279)