Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا آخری خطاب

  علی محمد الصلابی

حضرت عثمان غنیؓ کا مسلمانوں کے ساتھ آخری عام اجتماع محاصرہ کے چند ہفتے بعد ہوا، آپ نے لوگوں کو بلایا، سب جمع ہو گئے، سبائی اور مدینہ کے لوگ سب ہی جمع ہوئے۔ لوگوں میں آگے آگے علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم تھے، جب سب آپ کے سامنے بیٹھ گئے تو آپ نے انہیں خطاب فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے تمھیں دنیا عطا کی ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے آخرت طلب کرو، اس نے اس لیے دنیا تمھیں نہیں دی ہے کہ تم اسی کے ہو کے رہ جاؤ، یقیناً دنیا فنا ہو جائے گی اور آخرت باقی رہے گی، یہ فانی دنیا تمھیں دھوکہ میں نہ ڈالے اور باقی رہنے والی آخرت سے غافل نہ کر دے۔ باقی رہنے والی چیز کو فانی پر ترجیح دو۔ یقیناً دنیا ختم ہونے والی ہے۔ سب کو اللہ کے پاس جانا ہے، اللہ سے تقویٰ اختیار کرو یقیناً تقویٰ ہی اللہ کی پکڑ اور اس کے انتقام سے بچاؤ اور ڈھال ہے۔ جماعت کو لازم پکڑو، ٹولیوں میں مت بٹو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاوَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَـكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ۞(سورۃ آل عمران آیت 103)

ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ۔

پھر آپ نے مسلمانوں سے فرمایا: مدینہ والو! میں تمھیں الوداع کہتے ہوئے اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ میرے بعد تم پر اچھی خلافت لائے۔ اللہ کی قسم! آج کے بعد میں کسی کے پاس نہیں جاؤں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں اپنا فیصلہ پورا کر دے۔ میں ان خوارج (باغیوں) کو اپنے دروازے کے پیچھے چھوڑ دوں گا، ان کا کوئی مطالبہ پورا نہیں کروں گا کہ وہ لوگ اسے تمہارے خلاف دین یا دنیا میں حجت بنا لیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی اس سلسلہ میں جو پسند کرتا ہے کرے گا۔ ‘‘

پھر حضرت عثمان غنیؓ نے مدینہ والوں کو اپنے گھروں کو واپس ہو جانے کا حکم دے دیا اور قسم دلائی، لوگ لوٹ گئے، حسن، محمد اور ابن زبیر اور ان جیسے نوجوان رہ گئے اور اپنے آباء کے حکم سے حضرت عثمان غنیؓ کے دروازے پر بیٹھ کر پہرہ دینے لگے اور بہت سے لوگ ان کے ساتھ مل گئے۔ حضرت عثمان غنیؓ نے گھر کو لازم پکڑ لیا یہاں تک کہ موت کا وقت آگیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 399، 400)