استشہاد عثمان رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابی1: محاصرہ کا آخری دن اور خواب:
محاصرہ کے آخری دن جس دن آپ کی شہادت ہوئی، آپ اس رات سوئے اور صبح لوگوں سے بیان کرنے لگے کہ یہ لوگ آج مجھے قتل کر دیں گے۔
(الطبقات: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 75، فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 172)
پھر حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: میں نے خواب میں رسول اللہﷺ کو دیکھا اور آپﷺ کے ساتھ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما تھے، نبی کریمﷺ نے فرمایا: اے عثمان! ہمارے ساتھ افطاری کرنا۔ آپ نے صبح روزہ رکھا اور پھر اسی دن آپ شہید کر دیے گئے۔
(الطبقات: جلد 3 75 یہ حسن لغیرہ ہے۔ فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 175)
2: شہادت کي تفصیلات:
باغیوں نے گھر پر دھاوا بول دیا، ان کے مقابلہ میں حسن بن علی، عبداللہ بن زبیر، محمد بن طلحہ، مروان بن حکم، سعید بن العاص رضی اللہ عنہم اور ان کے ساتھ جو ابنائے صحابہ تھے ڈٹ گئے اور قتال شروع ہو گیا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے آواز لگائی: اللہ! اللہ! تم لوگ میری نصرت سے آزاد ہو۔ لیکن ان نوجوانوں نے بات نہ مانی، حضرت عثمان غنیؓ کے غلام نصرت کے لیے پہنچے، آپ نے انہیں روک دیا، بلکہ یہ اعلان کر دیا کہ جو اپنا ہاتھ روک لے، وہ آزاد ہے۔
(الدولۃ الاسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 283)، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 190)
حضرت عثمان غنیؓ نے پوری وضاحت اصرار اور سختی سے کہا اور آپ خلیفہ تھے آپ کی اطاعت واجب تھی: میں ہر اس شخص پر لازم قرار دیتا ہوں جو یہ سمجھتا ہے کہ میری سمع و اطاعت اس پر واجب ہے کہ وہ اپنا ہاتھ اور اسلحہ روک لے۔
(العواصم من القواصم: صفحہ 133)
آپ نے ایسا اس لیے کیا کہ نبی کریمﷺ کی جانب سے شہادت کی خبر پر آپ کو مکمل یقین تھا کہ وہ شہید کیے جائیں گے، اس لیے آپ نے چاہا کہ ان کے سبب خون نہ بہایا جائے اور مسلمانوں کے درمیان فتنہ کا سبب نہ بنیں۔
(الدولۃ الاسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 283)
مغیرہ بن اخنس بن شریق حج میں تھے۔ حج کے بعد حجاج کی ایک جماعت کے ساتھ جلدی مدینہ روانہ ہوئے اور حضرت عثمان غنیؓ کے پاس شہادت سے پہلے پہنچ گئے اور گھر میں پہنچ کر دفاع میں ڈٹ گئے اور عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: امیر المؤمنین! اگر ہم نے آپ کو چھوڑ دیا تو کل کے دن اللہ کے حضور کیا عذر پیش کریں گے حالاں کہ ہم اس کی طاقت رکھتے ہیں کہ مرتے دم تک ان کو آپ تک نہ پہنچنے دیں؟ باغی آگے بڑھے اور دروازہ اور سائبان کو آگ لگا دی، گھر میں جو لوگ تھے بھڑک اٹھے اس وقت حضرت عثمان غنیؓ نماز میں تھے آپ نے انہیں روکا، لیکن مغیرہ بن اخنس، حسن بن علی، محمد بن طلحہ، سعید بن العاص، مروان بن الحکم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم نے ڈٹ کر قتال کیا، حضرت عثمان غنیؓ بار بار انہیں قتال سے رک جانے کا حکم دیتے اور پھر نماز میں لگ جاتے آپ نے سورۂ طہٰ شروع کی:
طٰهٰ ۞مَاۤاَنۡزَلۡـنَا عَلَيۡكَ الۡـقُرۡاٰنَ لِتَشۡقٰٓى۞اِلَّا تَذۡكِرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى۞(سورۃ طه آیت 3)
ترجمہ: طہ۔ ہم نے تم پر قرآن اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم تکلیف اٹھاؤ۔ البتہ یہ اس شخص کے لیے ایک نصیحت ہے جو ڈرتا ہو۔
آپ سریع القرأت تھے، اس ہنگامہ سے آپ پریشانی میں مبتلا نہیں ہوئے، اپنی قرأت میں لگے رہے، نہ غلطی کی نہ اٹکے یہاں تک کہ باغیوں کے پہنچنے سے قبل سورت کے آخر تک تلاوت مکمل کی پھر بیٹھے اور یہ آیت تلاوت کی:
قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ سُنَنٌ فَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُالۡمُكَذِّبِيۡنَ ۞ (سورۃ آل عمران آیت 137)
ترجمہ: تم سے پہلے بہت سے واقعات گزر چکے ہیں، اب تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جنہوں نے (پیغمبروں کو) جھٹلایا تھا ان کا انجام کیسا ہوا؟
اس دن قریش کے چار نوجوان زخمی ہوئے: حسن بن علی، عبداللہ بن زبیر، محمد بن حاطب، مروان بن الحکم رضی اللہ عنہم (فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 169 روایت صحیح ہے۔ تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 404)
اور مغیرہ بن اخنس، نیار بن عبداللہ اسلمی (الخلفاء الراشدون: الخالدی: صفحہ 184، 185، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 196)
اور زیاد فہریؓ شہید ہوئے۔ حضرت عثمان غنیؓ دفاع کرنے والوں کو عدم قتال پر مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گئے اور انہیں گھر سے باہر چلے جانے کا حکم دے دیا اور پھر آپ کے اور باغیوں کے درمیان راستہ صاف ہو گیا، گھر میں صرف حضرت عثمان غنیؓ اور آپ کے اہل خانہ بچے اور دفاع کرنے والا کوئی نہ رہا اور گھر کا دروازہ کھول دیا گیا۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 188)
گھر سے جب دفاع کرنے والے نکل گئے تو حضرت عثمان غنیؓ نے قرآن کھولا اور تلاوت شروع کر دی۔ اس وقت آپؓ روزہ سے تھے، اسی دوران باغیوں میں سے ایک شخص جس کا نام روایات میں مذکور نہیں، آپ کے پاس پہنچا جب حضرت عثمان غنیؓ نے اس کو دیکھا تو فرمایا: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 405، 406)
یہ سن کر وہ شخص واپس چلا گیا، اس کا واپس ہونا تھا کہ ایک دوسرا شخص داخل ہوا، وہ بنی سدوس کا فرد تھا اس کو الموت الاسود (کالی موت) کہا جاتا تھا اس نے تلوار سے مارنے سے قبل آپ کا گلا دبوچ لیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اللہ کی قسم! ان کے گلے سے ملائم کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی۔ میں نے ان کا گلا دبایا تو میں نے ان کی جان کو جسم میں ادھر سے ادھر جن کی طرح بھاگتے ہوئے پایا،
(تاریخ ابن خیاط: صفحہ 174، 175، إسنادہ صحیح اور حسن)
پھر اس نے حضرت عثمان غنیؓ کو تلوار سے مارا آپ نے اپنے ہاتھ سے تلوار کو روکا آپ کا ہاتھ کٹ گیا۔ اس موقع پر حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم یہ پہلی ہتھیلی ہے جس نے مفصلات کو ضبط تحریر کیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 398)
آپ کاتبین وحی میں سے تھے، آپ پہلے شخص ہیں جنھوں نے رسول اللہﷺ کی املاء سے مصحف لکھا، آپ کو اس حال میں شہید کیا گیا کہ مصحف آپ کے سامنے تھا، ہاتھ کٹتے ہی مصحف پر خون کے چھینٹے پڑ گئے اور خون کے چھینٹے اس آیت پر پڑے:
فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَآ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ فَقَدِ اهۡتَدَوْاوَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا هُمۡ فِىۡ شِقَاقٍفَسَيَكۡفِيۡکَهُمُ اللّٰهُ وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ۞(سورۃ البقرة آیت 137)
ترجمہ: اس کے بعد اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو تو یہ راہ راست پر آجائیں گے۔ اور اگر یہ منہ موڑ لیں تو درحقیقت وہ دشمنی میں پڑ گئے ہیں۔ اب اللہ تمہاری حمایت میں عنقریب ان سے نمٹ لے گا، اور وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ جس نے سب سے پہلے حضرت عثمان غنیؓ پروار کیا اس کا نام رومان یمانی تھا اس نے لاٹھی سے آپؓ کو مارا اور جب باغی آپؓ کو شہید کرنے کے لیے پہنچے تو آپؓ نے یہ اشعار پڑھے:
اری الموت لا یبقی عزیزا و لم یدع
لعاد ملاذا فی البلاد و مرتقی
’’موت کسی طاقتور سے طاقتور کو بھی نہیں چھوڑتی، اور نہ دنیا میں دوبارہ آنے کا موقع دیتی ہے۔‘‘
نیز فرمایا:
یبیت اہل الحصن و الحصن مغلق
و یاتی الجبال فی شماریخہا العلی
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد ۱ صفحہ 191، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 192)
’’قلعہ والے تو قلعہ بند ہو کر رات گزارتے ہیں اور بلند ہمت والے ہی پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچتے ہیں۔‘‘
جب باغیوں نے آپ کو گھیر لیا تو آپ کی بیوی نائلہ بنت قرافصہ نے کہا: خواہ ان کو قتل کرو یا چھوڑ دو، یہ ایک رکعت میں پوری رات گزار دیتے تھے اور اس میں پورا قرآن پڑھ لیتے تھے۔
(الطبقات: جلد 3 صفحہ 76، فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 191)
نائلہ نے اپنے شوہر حضرت عثمان غنیؓ کا دفاع کیا آپ کو اپنے جسم سے ڈھانپ لیا اور اپنے ہاتھ سے تلوار روکی۔ سودان بن حمران نے عمداً ان کی انگلیوں پر وار کیا اور آپ کی انگلیاں کٹ گئیں وہ پیچھے ہٹیں تو ان کی سرین پر مارا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 406، 407)
حضرت عثمان غنیؓ کے ایک غلام نے جب یہ صورت حال دیکھی تو حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت سے پریشان ہو گیا، اس کا نام نجیح تھا، اس سے برداشت نہ ہوا اور سودان بن حمران پر حملہ کر کے اس کو قتل کر دیا اور جب قتیرہ بن فلان سکونی نے دیکھا کہ نجیح نے حمران کو قتل کر دیا ہے تو اس نے نجیح پر وار کر کے اسے شہید کر دیا اور پھر حضرت عثمان غنیؓ کے دوسرے غلام صبیح نے قتیرہ کو قتل کر دیا اس طرح گھر میں چار قتل ہوئے دو شہید اور دو مجرم۔ شہیدوں میں سیدنا عثمان بن عفانؓ اور آپ کے غلام نجیح تھے اور مجرموں میں سودان سکونی اور قتیرہ سکونی تھے۔
جب سبائی حضرت عثمان غنیؓ کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو سبائیوں کے منادی نے اعلان کیا: ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس شخص کا خون ہمارے لیے حلال ہو اور مال حرام ہو، معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا مال ہمارے لیے حلال ہے لہٰذا گھر میں جو کچھ ہے لوٹ لو، اس کے بعد سبائیوں نے گھر میں فساد برپا کر دیا جو کچھ گھر میں تھا سب لوٹ لیا، عورتوں کے زیور تک اتروا لیے، سبائیوں کا ایک فرد کلثوم تجیبی حضرت عثمانؓ کی بیوی نائلہ کی طرف جھپٹا اور ان کے جسم سے چادر چھین لی اور ان کے سرین پر مارا اور کہا: تیری ماں برباد، کتنی بڑی تیری سرین ہے‘‘حضرت عثمان غنیؓ کے ایک غلام صبیح نے اس کی یہ حرکت دیکھی اور اس کے یہ ناشائستہ کلمات نائلہ کے حق میں سنے تو تلوار اٹھائی اور اس کو قتل کر دیا۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 191، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 192)
پھر ایک سبائی نے اس غلام پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا۔
جب سبائی امیر المؤمنین عثمانؓ کا گھر لوٹ چکے تو اعلان کیا: بیت المال کو مت چھوڑو، خبردار کوئی تم سے پہلے وہاں نہ پہنچنے پائے، اس میں جو کچھ ہو اس کو لے لو، بیت المال کے محافظین نے ان کی یہ باتیں سنیں اور بیت المال میں غلہ کی صرف دو بوریاں تھیں، محافظین نے آپس میں کہا: یہ لوگ دنیا کے بھوکے ہیں لہٰذا اپنی جانوں کو بچاؤ، سبائی بیت المال پر ٹوٹ پڑے اور اس میں جو کچھ تھا اس کو لوٹ لیا۔
(الطبقات: جلد 3 صفحہ 76، فتنۃ مقتل عثمان: جلد 11 صفحہ 191)
سبائی باغیوں کی مرادیں پوری ہو گئیں، انہوں نے امیر المؤمنین کو شہید کر دیا، حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد سبائیوں کے پیروکاروں میں سے بہت سے فسادی سوچ میں پڑ گئے، ان کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ قضیہ امیر المؤمنین کی شہادت تک پہنچ جائے گا، ان کے سبائی شیاطین نے ان کو غافل کر دیا اور حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف ہنگامہ کھڑا کرنے کے لیے انہیں استعمال کیا، بلکہ ان لوگوں نے آپ کے قتل کو قبیح جانا اور اس کو ناپسند کیا اور اس پر یہ لوگ نادم ہوئے اور ان کی وہی کیفیت ہوئی جو بنی اسرائیل کی بچھڑے کی عبادت کے وقت ہوئی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰى مِنۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًاجَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌاَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا اِتَّخَذُوۡهُ وَكَانُوۡاظٰلِمِيۡنَ۞وَلَـمَّا سُقِطَ فِىۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَرَاَوۡااَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَيَغۡفِرۡلَـنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ۞ (سورۃ الأعراف آیت 148، 149)
ترجمہ: اور موسیٰ کی قوم نے ان کے جانے کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا (بچھڑا کیا تھا؟) ایک بےجان جسم جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ بھلا کیا انہوں نے اتنا بھی نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے، اور نہ انہیں کوئی راستہ بتاسکتا ہے؟ (مگر) اسے معبود بنا لیا، اور (خود اپنی جانوں کے لیے) ظالم بن بیٹھے۔ اور جب اپنے کیے پر پچھتائے، اور سمجھ گئے کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے: اگر اللہ نے ہم پر رحم نہ فرمایا، اور ہماری بخشش نہ کی تو یقیناً ہم برباد ہوجائیں گے۔
مدینہ میں صالحین اپنے خلیفہ کی شہادت سے غمگین ہوئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھنے اور رونے لگے۔ لیکن کیا کر سکتے تھے؟ مدینہ پر سبائی باغی قابض تھے، اور اس میں فساد برپا کر رکھا تھا، اس کے باشندوں کو کچھ کرنے سے روکتے تھے۔ اور مدینہ کا بالفعل حاکم مصری باغیوں کا امیر غافقی بن حرب عکی تھا اور ان کے ساتھ ان کا منصوبہ ساز شیطان عبداللہ بن سبا تھا وہ یہودی اور شیطانی مقاصد و اہداف کی تکمیل پر شاداں و فرحاں تھا۔