استشہاد عثمان رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

استشہاد عثمان رضی اللہ عنہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَآ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ فَقَدِ اهۡتَدَوْاوَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّمَا هُمۡ فِىۡ شِقَاقٍ‌فَسَيَكۡفِيۡکَهُمُ اللّٰهُ وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ۞(سورۃ البقرة آیت 137)

ترجمہ: اس کے بعد اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جیسے تم ایمان لائے ہو تو یہ راہ راست پر آجائیں گے۔ اور اگر یہ منہ موڑ لیں تو درحقیقت وہ دشمنی میں پڑ گئے ہیں۔ اب اللہ تمہاری حمایت میں عنقریب ان سے نمٹ لے گا، اور وہ ہر بات سننے والا، ہر بات جاننے والا ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ جس نے سب سے پہلے حضرت عثمان غنیؓ پروار کیا اس کا نام رومان یمانی تھا اس نے لاٹھی سے آپؓ کو مارا اور جب باغی آپؓ کو شہید کرنے کے لیے پہنچے تو آپؓ نے یہ اشعار پڑھے:

اری الموت لا یبقی عزیزا و لم یدع

لعاد ملاذا فی البلاد و مرتقی

’’موت کسی طاقتور سے طاقتور کو بھی نہیں چھوڑتی، اور نہ دنیا میں دوبارہ آنے کا موقع دیتی ہے۔‘‘

نیز فرمایا:

یبیت اہل الحصن و الحصن مغلق

و یاتی الجبال فی شماریخہا العلی

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد ۱ صفحہ 191، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 192)

’’قلعہ والے تو قلعہ بند ہو کر رات گزارتے ہیں اور بلند ہمت والے ہی پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچتے ہیں۔‘‘

جب باغیوں نے آپ کو گھیر لیا تو آپ کی بیوی نائلہ بنت قرافصہ نے کہا: خواہ ان کو قتل کرو یا چھوڑ دو، یہ ایک رکعت میں پوری رات گزار دیتے تھے اور اس میں پورا قرآن پڑھ لیتے تھے۔

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 76، فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 191)

نائلہ نے اپنے شوہر حضرت عثمان غنیؓ کا دفاع کیا آپ کو اپنے جسم سے ڈھانپ لیا اور اپنے ہاتھ سے تلوار روکی۔ سودان بن حمران نے عمداً ان کی انگلیوں پر وار کیا اور آپ کی انگلیاں کٹ گئیں وہ پیچھے ہٹیں تو ان کی سرین پر مارا۔

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 406، 407)

حضرت عثمان غنیؓ کے ایک غلام نے جب یہ صورت حال دیکھی تو حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت سے پریشان ہو گیا، اس کا نام نجیح تھا، اس سے برداشت نہ ہوا اور سودان بن حمران پر حملہ کر کے اس کو قتل کر دیا اور جب قتیرہ بن فلان سکونی نے دیکھا کہ نجیح نے حمران کو قتل کر دیا ہے تو اس نے نجیح پر وار کر کے اسے شہید کر دیا اور پھر حضرت عثمان غنیؓ کے دوسرے غلام صبیح نے قتیرہ کو قتل کر دیا اس طرح گھر میں چار قتل ہوئے دو شہید اور دو مجرم۔ شہیدوں میں سیدنا عثمان بن عفانؓ اور آپ کے غلام نجیح تھے اور مجرموں میں سودان سکونی اور قتیرہ سکونی تھے۔

جب سبائی حضرت عثمان غنیؓ کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو سبائیوں کے منادی نے اعلان کیا: ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس شخص کا خون ہمارے لیے حلال ہو اور مال حرام ہو، معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا مال ہمارے لیے حلال ہے لہٰذا گھر میں جو کچھ ہے لوٹ لو، اس کے بعد سبائیوں نے گھر میں فساد برپا کر دیا جو کچھ گھر میں تھا سب لوٹ لیا، عورتوں کے زیور تک اتروا لیے، سبائیوں کا ایک فرد کلثوم تجیبی حضرت عثمانؓ کی بیوی نائلہ کی طرف جھپٹا اور ان کے جسم سے چادر چھین لی اور ان کے سرین پر مارا اور کہا: تیری ماں برباد، کتنی بڑی تیری سرین ہے‘‘حضرت عثمان غنیؓ کے ایک غلام صبیح نے اس کی یہ حرکت دیکھی اور اس کے یہ ناشائستہ کلمات نائلہ کے حق میں سنے تو تلوار اٹھائی اور اس کو قتل کر دیا۔

(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 191، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 192) 

پھر ایک سبائی نے اس غلام پر حملہ کر کے اسے شہید کر دیا۔ 

جب سبائی امیر المؤمنین عثمانؓ کا گھر لوٹ چکے تو اعلان کیا: بیت المال کو مت چھوڑو، خبردار کوئی تم سے پہلے وہاں نہ پہنچنے پائے، اس میں جو کچھ ہو اس کو لے لو، بیت المال کے محافظین نے ان کی یہ باتیں سنیں اور بیت المال میں غلہ کی صرف دو بوریاں تھیں، محافظین نے آپس میں کہا: یہ لوگ دنیا کے بھوکے ہیں لہٰذا اپنی جانوں کو بچاؤ، سبائی بیت المال پر ٹوٹ پڑے اور اس میں جو کچھ تھا اس کو لوٹ لیا۔

(الطبقات: جلد 3 صفحہ 76، فتنۃ مقتل عثمان: جلد 11 صفحہ 191)

سبائی باغیوں کی مرادیں پوری ہو گئیں، انہوں نے امیر المؤمنین کو شہید کر دیا، حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد سبائیوں کے پیروکاروں میں سے بہت سے فسادی سوچ میں پڑ گئے، ان کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ قضیہ امیر المؤمنین کی شہادت تک پہنچ جائے گا، ان کے سبائی شیاطین نے ان کو غافل کر دیا اور حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف ہنگامہ کھڑا کرنے کے لیے انہیں استعمال کیا، بلکہ ان لوگوں نے آپ کے قتل کو قبیح جانا اور اس کو ناپسند کیا اور اس پر یہ لوگ نادم ہوئے اور ان کی وہی کیفیت ہوئی جو بنی اسرائیل کی بچھڑے کی عبادت کے وقت ہوئی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَاتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰى مِنۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًاجَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ‌اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا اِتَّخَذُوۡهُ وَكَانُوۡاظٰلِمِيۡنَ۞وَلَـمَّا سُقِطَ فِىۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَرَاَوۡااَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَيَغۡفِرۡلَـنَا لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ۞ (سورۃ الأعراف آیت 148، 149)

ترجمہ: اور موسیٰ کی قوم نے ان کے جانے کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا (بچھڑا کیا تھا؟) ایک بےجان جسم جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ بھلا کیا انہوں نے اتنا بھی نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے، اور نہ انہیں کوئی راستہ بتاسکتا ہے؟ (مگر) اسے معبود بنا لیا، اور (خود اپنی جانوں کے لیے) ظالم بن بیٹھے۔ اور جب اپنے کیے پر پچھتائے، اور سمجھ گئے کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے: اگر اللہ نے ہم پر رحم نہ فرمایا، اور ہماری بخشش نہ کی تو یقیناً ہم برباد ہوجائیں گے۔

صفحہ 2 از 3