حضرت مولانا حبیب الرحمٰن قاسمی صاحب کا فتویٰ (استاد دار…

حضرت مولانا حبیب الرحمٰن قاسمی صاحب کا فتویٰ (استاد دار العلوم دیوبند)


صفحہ 1 از 4

شان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن کریم و احادیث مبارکہ کی روشنی میں، اور گستاخان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اتحاد کرنے کا حکم:

شان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن کریم میں:

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جس مقدس جماعت کا نام ہے وہ امت کے عام افراد کی طرح نہیں ہے بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حضورﷺ اور امت کے درمیان ایک مقدس واسطہ ہونے کی حیثیت سے ایک خاص مقام و مرتبہ کے مالک ہیں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ امتیاز اللہ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کی جانب سے عطاء ہوا ہے، ذیل میں اس امتیاز و خصوصیت کی تھوڑی سی تفصیل پیش کی جا رہی ہے:

1: وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰلِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ۞

(سورۃ التوبہ: آیت 100)

ترجمہ: اور جو مہاجرین اور انصار (ایمان لانے میں سب سے) سابق اور مقدم ہیں (اور بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

 اس آیت میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دو طبقے بیان کیے گئے ہیں ایک سابقین اولین کا اور دوسرا بعد میں آنے والوں کا، اور دونوں طبقوں کے متعلق یہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہیں، اور ان کے لیے جنت کا مقام و دوام ہے۔

حضرت شاہ عبدالعزیزؒ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جو شخص قرآن پر ایمان رکھتا ہے، جب اس کے علم میں یہ بات آگئی کہ اللہ تعالیٰ نے بعض بندوں کو دوامی طور پر جنتی فرمایا ہے تو اب ان کے حق میں جتنے بھی اعتراضات ہیں سب ساقط ہو گئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ عالمُ الغیب ہے وہ خوب جانتا ہے فلاں بندہ سے فلاں وقت میں نیکی اور فلاں وقت میں گناہ صادر ہوگا، اس کے باوجود جب باری تعالیٰ یہ اطلاع دیتا ہے کہ میں نے اسے جنتی بنا دیا تو اسی کے ضمن میں اس بات کا اشارہ ہو گیا کہ اس کی تمام لغزشیں معاف کر دی گئیں، لہٰذا اب کسی شخص کو ان مغفور بندوں کے حق میں لعن طعن کرنا جنابِ باری تعالیٰ پر اعتراض کرنے کے مرادف ہوگا، اس لیے کہ ان حضرات پر اعتراض کرنے والا گویا یہ کہہ رہا ہے کہ یہ بندہ تو گنہگار ہے پھر اللہ جل شانہ نے اسے کیسے جنتی بنا دیا، اور ظاہر ہے کہ اللہ جل شانہ پر اعتراض کفر ہے۔

2: وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ۞ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعۡمَةً وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ۞

(سورۃ الحجرات: آیت 7، 8)

ترجمہ: لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے دلوں میں محبوب بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں مزین کر دیا اور کفر، فسق اور نافرمانی کو تمہارے لیے ناپسند کر دیا، ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل و نعمت سے ہدایت یافتہ ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا حکمت والا ہے۔

اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ بلا استثناء تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں میں ایمان کی محبت اور کفر و فسق اور نافرمانی سے نفرت اور کراہت منجانب اللہ راسخ کر دی گئی تھی، اور لفظ الی سے مستفاد ہوتا ہے کہ یہ ایمان کی محبت اور کفر وغیرہ سے کراہیت انتہاء درجہ کو پہنچی ہوئی تھی، کیونکہ الی عربی میں انتہاء اور غایت کا معنیٰ بیان کرنے کے لیے وضع کیا گیا نیز اسی آیت پاک سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جو لغزشیں صادر ہوئی ہیں وہ ضعف ایمان اور فسق و عصیان کو مستحسن سمجھتے ہوئے صادر نہیں ہوئی ہیں بلکہ ان کا صدور بتقضائے بشریت ہوا ہے، اس لیے ان لغزشوں کو بنیاد بنا کر ان حضرات کی شان میں لعن طعن کرنا اور ان کے بارے میں تنقید و تنقیص کا رویہ اختیار کرنا جہالت و زندقہ ہے۔

3: وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ۞

(سورۃ الانفال: آیت 74)

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کی مدد کی وہی ہیں سچے مسلمان، ان کے لیے مغفرت ہے اور باعزت رزق ہے۔ اسی سورت کے شروع میں ارشاد خداوندی ہے:

الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقۡنٰهُمۡ يُنۡفِقُوۡنَ۞ اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا لَهُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ وَمَغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ‌۞

(سورۃ الانفال: آیت 3، 4)

ترجمہ: وہ لوگ جو نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہم نے ان کو جو روزی دے رکھی ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں وہی سچے مسلمان ہیں، ان کے واسطے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی۔

ان دونوں آیات سے معلوم ہوا کہ حضرات مہاجرینؓ و انصارؓ کے اعمال ظاہرہ نماز، حج، روزہ، زکوٰۃ، جہاد وغیرہ قطعی طور پر نفاق و مکر کی بناء پر نہیں تھے، ان کا ایمان اللہ تعالیٰ جل جلالہ کے نزدیک محقق و ثابت تھا، اس لیے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص خلفائے ثلاثہؓ کی جانب نفاق کی نسبت کرنا خدائے بزرگ و برتر کے ساتھ معارضہ کرنا ہے۔

صفحہ 1 از 4