حضرت مولانا حبیب الرحمٰن قاسمی صاحب کا فتویٰ (استاد دار…

حضرت مولانا حبیب الرحمٰن قاسمی صاحب کا فتویٰ (استاد دار العلوم دیوبند)


صفحہ 2 از 4

4: مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ذٰلِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا۞

(سورۃ الفتح: آیت 29)

ترجمہ: محمد اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں مہربان ہیں (اے مخاطب) تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع میں ہیں اور کبھی سجدے میں، ڈھونڈتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی خوشی کو، ان کی نشانی سجدوں کے اثر سے ان کے چہرے پر نمایاں ہے، یہ مثال ہے ان کی تورات میں اور انجیل میں، ان کی مثال ہے جیسے کھیتی نے نکالا اپنا پٹھا پھر اس کی کمر مضبوط کی پھر موٹا ہوا پھر کھڑا ہو گیا اپنی جڑ پر، بھلا لگتا ہے کھیتی والوں کو، تاکہ جلائے اس سے جی کافروں کا، وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان سے جو یقین لاتے ہیں اور کیے ہیں بھلے کام معافی کا اور بڑے ثواب کا۔

امام قرطبیؒ اور عامہ مفسرین کہتے ہیں کہہ: وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ: عام ہے، اس میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین داخل ہیں اس آیتِ کریمہ میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت، ان کی پاک باطنی اور مدح و ثنا خود مالک کائنات نے فرمائی۔

حضرت ابو عروہ زبیریؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن امام مالکؒ کی مجلس میں ایک شخص کے متعلق یہ ذکر آیا کہ وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہتا ہے امام مالکؒ نے یہ آیت: لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ الخ تک تلاوت کی اور پھر فرمایا کہ جس شخص کے دل میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کے متعلق غیظ ہو وہ اس آیت کی زد میں ہے، یعنی اس کا ایمان خطرے میں ہے، کیونکہ آیت میں کسی صحابی سے غیظ، کفار کی علامت قرار دی گئی ہے۔

5: لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌۞

(سورۃ الحشر: آیت 8)

ترجمہ: (اور مال غنیمت حق) ان مفلس مہاجرین کا ہے جو جدا کر دیئے گئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے، اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضا مندی کے طالب ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (کے دین) کی مدد کرتے ہیں، یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں۔ 

6: وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَـفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‌۞ 

(سورۃ الحشر: آیت 9)

ترجمہ: اور ان لوگوں کا (بھی حق ہے) جو دار السلام میں اور ایمان میں مہاجرین سے پہلے قرار پکڑے ہیں، جو ان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے یہ لوگ محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ ملتا ہے اس سے یہ انصار لوگ اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں پاتے اور (مہاجرین کو) اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ ان پر فاقہ ہی ہو اور واقعی جو شخص طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جائے ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

7: وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡلَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞

(سورۃ الحشر: آیت 10)

ترجمہ: (اور ان لوگوں کا بھی اس مالِ فئی میں حق ہے) جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو (بھی) جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں ہمارے دلوں میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ آنے دیجیے، اے ہمارے رب آپ بڑے شفیق و رحیم ہیں۔ 

ان آیات میں اللہ جل شانہ نے عہدِ رسالتﷺ کے تمام موجود اور آئندہ آنے والے مسلمانوں کو تین طبقوں میں تقسیم کر کے ہر طبقے کا الگ الگ ذکر کیا ہے۔

 پہلا مہاجرینؓ کا طبقہ ہے جنہوں نے محض اللہ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے ہجرت کی، کسی دنیاوی غرض کے لیے ان کی ہجرت نہیں تھی جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ ان کی شان میں فرما رہے ہیں: اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌۞ یعنی یہ حضرات اپنے قول ایمان اور فعل ہجرت میں سچے ہیں۔

دوسرا طبقہ حضرات انصارؓ کا ہے جن کی صفات بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ مہاجرین سے محبت رکھتے ہیں اور ان پر حسد نہیں کرتے ہیں، ان صفات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‌۞ یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

تیسرا طبقہ ان مؤمنین کا ہے جو مہاجرینؓ اور انصارؓ کے بعد قیامت تک آنے والا ہے، اس طبقے کے بارے میں فرمایا کہ مہاجرینؓ اور انصارؓ کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور اس بات کی بھی دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں ان کی طرف سے کینہ و عداوت نہ ڈالیے، یقیناً آپ مہربان اور رحمت کرنے والے ہیں، لہٰذا اپنے فضل و رحمت سے ہماری دعا قبول کر لیجئے۔

ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ فلاح پانے والے وہی لوگ ہیں جو حضراتِ مہاجرینؓ سے محبت رکھتے ہیں اور ان کی شان میں طعن و تشنیع نہیں کرتے، کیونکہ طعن و تشنیع تقاضائے محبت کے خلاف ہے، جس سے معلوم ہوا کہ خلفائے اربعہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جو مہاجرین اولین میں یقینی طور پر شامل ہیں کی محبت فلاح کی ضامن اور ان سے بغض و عناد خسران کا سبب ہے۔

صفحہ 2 از 4