حضرت مولانا حبیب الرحمٰن قاسمی صاحب کا فتویٰ (استاد دار…

حضرت مولانا حبیب الرحمٰن قاسمی صاحب کا فتویٰ (استاد دار العلوم دیوبند)


صفحہ 3 از 4

اسی طرح تیسری آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں اور ان سے بغض و عناد کو برا سمجھتے ہوئے اس سے محفوظ رہنے کی بارگاہِ خداوندی میں دعا کرتے ہیں، وہی زمرہ مؤمنین میں داخل ہیں، اس کے برعکس جو گروہ اس مقدس جماعت سے محبت کی بجائے عداوت رکھتا ہے اور ان کے حق میں دعائے خیر کے بجائے لعن و طعن کی زبان دراز کرتا ہے وہ اہلِ اسلام کے زمرے سے خارج ہے، کیونکہ ان آیات میں مستحقین غنیمت کے جن تین طبقوں کا اللہ جل شانہ نے ذکر فرمایا یہ لعن و طعن کرنے والے ان سے خارج ہیں۔

اس موقع پر بغرض اختصار ان پانچ آیات پر اکتفاء کیا جا رہا ہے، ورنہ قرآنِ مجید میں حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل و مناقب سے متعلق سینکڑوں آیات موجود ہیں۔

شان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین حدیث شریف میں:

حضور اکرمﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بالخصوص حضراتِ خلفائے ثلاثہؓ حضرت صدیقِ اکبرؓ سیدنا فاروقِ اعظمؓ اور سیدنا عثمانِ غنیؓ کے فضائل و مناقب اور خصوصیات اس کثرت و شدت اور تواتر و تسلسل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں کہ ان سب کو جمع کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

لہٰذا ان بے شمار احادیث میں سے چند کو یہاں نقل کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں پہلے ان حدیث کو پیش کیا جائے گا جن سے پوری جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی منقبت و فضیلت ثابت ہوتی ہے، پھر خلفائے ثلاثہؓ کے فضائل میں وارد احادیث ذکر کی جائیں گی:

1: عن جابرؓ قال قال رسول اللہﷺ ان اللہ اختار اصحابی عل الثقلین سوی النبیین و المرسلین۔

 ترجمہ: حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ حضرات انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے میرے اصحاب کو تمام انسانوں و جناتوں پر فضیلت دی ہے۔

اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ تمام حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ تعالیٰ کے منتخب برگزیدہ ہیں، نبیوں اور رسولوں کے بعد انسانوں اور جناتوں میں سے کوئی بھی ان کے مقام اور مرتبے کو نہیں پا سکتا۔

2: عن انسؓ قال: قال رسول اللہﷺ اصحابی فی امتی کالملح فی الطعام لا یصلح الطعام الا بالملح۔

 ترجمہ: حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں میرے صحابہ کا مقام ایسا ہے جیسے کھانے میں نمک، کہ کھانا بغیر نمک کے بہتر نہیں ہوتا۔

اس ارشادِ عالیہ کے ذریعے حضور اکرمﷺ نے امتِ مسلمہ کے سامنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اہمیت ایک مثال کے ذریعے سے واضح فرمائی ہے کہ جس طرح لذیذ سے لذیذ تر کھانا بے نمک کے پھیکا اور بے مزہ ہوتا ہے، بعینہٖ یہی حال امت کا ہے کہ اس کی اصلاح و فلاح اور اس کا تمام شرف و مجد انہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس جماعت کا مرہونِ منت ہے اگر اس جماعت کو درمیان سے الگ کر دیا جائے تو امت کے سارے محاسن و فضائل بے حیثیت ہو جائیں گے، ان دو حدیثوں کے بعد وہ احادیث نقل کی جا رہی ہیں جو خاص طور پر خلفائے ثلاثہؓ کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں۔

1: حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ نبیوں اور رسولوں کے علاوہ درمیانی عمر کے تمام اگلے و پچھلے جنتیوں کے سردار ہیں۔

 اس حدیث شریف سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ حضور اکرمﷺ کے بعد سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ تمام لوگوں سے افضل ہیں، یہی بات قرآنِ مجید اور دیگر احادیثِ نبویہ، آثارِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعینؒ سے بھی ثابت ہے، اور اسی پر اہلِ سنت والجماعت کا اجماع ہے۔

2: ایک حدیث شریف میں حضور اکرمﷺ نے فرمایا: میرے بعد سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی اقتدا کرو کیونکہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی دراز شدہ رسی ہیں، جس نے ان دونوں کو پکڑ لیا اس نے مضبوط حلقہ تھام لیا۔

اس سے معلوم ہوا کہ حضراتِ شیخینؓ کا طریقہ معیار دین ہے اور ان کے طریقے پر چلنا درحقیقت دینِ اسلام پر چلنا ہے۔

3: ایک موقع پر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے حق کو عمرؓ کے زبان اور دل پر رکھ دیا ہے۔

4: حضورِ اکرمﷺ نے فرمایا: ہر نبی کے لیے جنت میں ایک ساتھی ہے اور میرے جنت کے رفیق عثمانؓ ہے۔

اس حدیث شریف سے عثمانِ غنیؓ کا نہ صرف جنتی ہونا ثابت ہوتا ہے بلکہ ان کی بلندی درجات پر بھی یہ حدیث شریف دلالت کر رہی ہے۔

5: امام احمدؒ اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر جب حضورِ اکرمﷺ نے لشکر کی تیاری اور سامان جنگ کی فراہمی کا کام شروع فرمایا تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اشرفی لے کر خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوئے حضور اکرمﷺ کی گود مبارک میں ڈال دیا، راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس وقت دیکھا کہ حضورِ اکرمﷺ مسرت سے ان اشرفیوں کو الٹ پلٹ رہے تھے، اور زبان وحی ترجمان پر یہ الفاظ جاری تھے: ماضر عثمان ما عمل بعد الیوم مرتین، عثمان آج کے بعد جو بھی کام کریں گے وہ ان کے لیے مضرت رساں نہیں ہوگا، حضورِ اکرمﷺ نے اس جملے کو بطورِ تاکید دو مرتبہ فرمایا۔

 اس حدیث پاک میں حضرت عثمانِ غنیؓ کے صدقہ کی قبولیت کی بشارت کے ساتھ ان مخالفین اور ناقدین کے خیالات کی تردید بھی فرمایا دی گئی جو مفسدین کی افتراء پردازیوں سے متاثر ہو کر یا اپنی کجروی کے زیرِ اثر سیدنا عثمانِ غنیؓ کی شانِ اقدس میں طعن و تشنیع کرتے ہیں۔

جس کا حاصل یہ ہے کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ ان تمام اتہامات سے پاک اور بری ہیں جو معاندین ان پر ناحق تھوپ رہے ہیں، لیکن بالفرض یہ باتیں اگر کسی حد تک ثابت بھی ہو جائیں تو آپؓ کی عظمتِ شان اور کثرتِ طاعات کی بناء پر کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔

صفحہ 3 از 4