شہادت کی تاریخ، شہادت کے وقت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی عمر، نماز جنازہ اور تدفین
علی محمد الصلابی1: شہادت کی تاریخ:
حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے سن کی تحدید میں بلاشبہ اجماع ہے اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں کہ سیدنا عثمان بن عفانؓ کا قتل 35ھ میں ہوا، صرف مصعب بن عبداللہ سے مروی ہے کہ آپ کا قتل 36ھ میں پیش آیا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 435، 436)
لیکن یہ قول شاذ اور اجماع کے خلاف ہے، قول اول کے قائلین جم غفیر ہیں۔ عبداللہ بن عمرو بن عثمان، عامر بن شراحیل شعبی، نافع مولیٰ ابن عمر، مخرمہ بن سلیمان وغیرہ بہت سے لوگوں کا یہی کہنا ہے۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 193، 194)
مہینہ کی تعیین میں مؤرخین کا کوئی اختلاف نہیں کہ آپ ذوالحجہ میں شہید ہوئے، البتہ دن اور وقت کی تحدید میں اختلاف ہے، لیکن میرے نزدیک علماء کے اقوال میں سے جو راجح ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے 18 ذی الحجہ 35ھ کو جام شہادت نوش فرمایا۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 435)
رہا دن کی تحدید کہ کون سا دن تھا؟ تو اس سلسلہ میں تین اقوال وارد ہیں اور ان اقوال میں سے جو قول میرے نزدیک راجح ہے وہ جمہور کا قول ہے کہ یہ دن جمعہ کا دن تھا، کیوں کہ یہ جمہور کا قول ہے اور اس کے برخلاف کوئی قول اس سے قوی نہیں ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 436)
اور حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کا واقعہ صبح کے وقت پیش آیا جمہور کی یہی رائے ہے اور اس کے برخلاف اس سے قوی تر کوئی قول نہیں ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 437)
2۔ شہادت کے وقت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی عمر:
شہادت کے وقت حضرت عثمان غنیؓ کی عمر کے سلسلہ میں روایات میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف قدیم ہے۔ یہاں تک کہ امام طبری رحمۃاللہ کہتے ہیں: آپ کی مدت حیات کی تحدید میں ہم سے قبل سلف کا اختلاف ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 438)
میرا میلان اس طرف ہے کہ آپ کی عمر شہادت کے وقت 82 سال تھی، یہی جمہور کا قول ہے اور مختلف اسباب سے یہ راجح قرار پاتا ہے:
• حضرت عثمان غنیؓ کے سن ولادت کا سن شہادت سے مقارنہ کیا جائے تو اسی قول کی تائید ہوتی ہے۔ آپ کی ولادت عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی اور شہادت 35ھ میں ہوئی۔ حضرت عثمان غنیؓ کی ولادت کی تاریخ کی شہادت کی تاریخ سے تفریق کرنے سے شہادت کے وقت آپؓ کی عمر کا پتہ چل جاتا ہے کہ 82 سال تھی۔
• یہی جمہور کا قول ہے اور اس کے خلاف کوئی قوی ترین قول نہیں ہے۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 204)
3۔ نماز جنازہ اور تدفین: صحابہ کی ایک جماعت نے شہادت ہی کے روز حضرت عثمان غنیؓ کو غسل و کفن دیا اور آپؓ کا جنازہ اٹھایا، ان میں سے حکیم بن حزام، حویطب بن عبدالعزیٰ، ابوالجہم بن حذیفہ، نیار بن مسلم اسلمی، جبیر بن مطعم، زبیر بن عوام، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم تھے اور آپ کے اصحاب و خواتین کی ایک جماعت تھی ان میں سے آپ کی دو بیویاں نائلہ اور ام البنین بنت عتبہ بن حصین تھیں اور بچے بھی تھے۔ آپ کی نماز جنازہ جبیر بن مطعم نے پڑھائی۔ زبیر بن عوام، حکیم بن حزام، مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کا نام بھی اس سلسلہ میں مروی ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 199)
لیکن میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ آپ کی نماز جنازہ حضرت زبیر بن العوامؓ نے پڑھائی اور آپؓ کو دفن کیا، حضرت عثمان غنیؓ نے اس کی وصیت کی تھی۔
(الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد: جلد 1 صفحہ 555)اس کے رجال ثقات ہیں لیکن سند منقطع ہے۔)
حضرت عثمان غنیؓ کو رات میں دفن کیا گیا۔ ابن سعدؒ اور ذہبیؒ کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے، ان دونوں نے ذکر کیا ہے کہ آپ کو مغرب و عشاء کے مابین دفن کیا گیا۔
(الطبقات: جلد 3 صفحہ 78، تاریخ الاسلام: عہد الخلفاء: جلد 1 صفحہ 48)
رہی طبرانی کی روایت جس میں عبدالملک بن الماجشون کہتے ہیں کہ میں نے امام مالک کو کہتے ہوئے سنا کہ جب حضرت عثمان غنیؓ شہید ہوئے تو تین دن تک بنو فلاں کے گھورے پر پڑے رہے۔
(المعجم الکبیر: جلد 1 صفحہ 78، استشہاد عثمان: صفحہ 194)
تو یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف اور متن کے اعتبار سے باطل ہے اس کی سند میں دو علّتیں ہیں:
• عبدالملک بن ماجشون ضعیف ہے یہ امام مالک رحمۃاللہ سے مناکیر روایت کرتا ہے۔
• یہ روایت مرسل ہے کیوں کہ امام مالک رحمۃاللہ قتلِ عثمانؓ کے وقت موجود نہ تھے کیوں کہ آپ کی ولادت 93ھ میں ہوئی ہے۔
(تہذیب التہذیب: ابن حجر: جلد 6 صفحہ 408)
رہا اس روایت کا متن؛ تو یہ باطل ہے اس سلسلہ میں ابن حزم رحمۃاللہ فرماتے ہیں: جو لوگ کہتے ہیں کہ آپؓ تین دن تک گھورے پر پڑے رہے تو یہ محض جھوٹ ہے، موضوع اور بہتان ہے، یہ ان لوگوں کی پیداوار ہے جن کو حیا نہیں۔ رسول اللہﷺ نے تو بدر کے دن کفار قریش کے مقتولین کو کنویں میں ڈالنے کا حکم فرمایا تھا اور پھر ان کے اوپر مٹی ڈال دی تھی حالاں کہ وہ اللہ کی بدترین مخلوق تھے، اسی طرح آپﷺ نے بنو قریظہ کے مقتولین کے لیے خندق کھودنے کا حکم فرمایا تھا اور وہ ان لوگوں میں بدترین لوگ تھے، جنھیں زمین میں دفن کیا گیا، مومن ہو یا کافر اس کو دفن کرنا مسلمانوں پر فرض ہے۔ تو حیا مند انسان کے لیے کیسے جائز ہے کہ وہ حضرت علیؓ (جو امام وقت تھے) اور مدینہ میں موجود صحابہ کرامؓ کی طرف منسوب کرے کہ انہوں نے ایک میّت کو تین دن تک گھورے پر پھینکے رکھا دفن نہیں کیا۔(الفصل: جلد 4 صفحہ 239، 240)
کسی انسان کی عقل میں جو رفض و تشیع سے محفوظ ہو، یہ بات گھس نہیں سکتی کہ ان حضرات صحابہ کرامؓ نے تین دن تک اپنے امام کو بغیر دفن کے چھوڑے رکھا۔ باغی جو حضرت عثمان غنیؓ کے محاصرہ قتل کے لیے آئے تھے ان کی قوت کچھ بھی رہی ہو کیوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت بیان کی ہے اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے، یہ روایات جنھوں نے اسلامی تاریخ کو مسخ کیا ہے روافض کی دسیسہ کاریوں کا نتیجہ ہیں۔ (عقیدۃ اہل السنۃ: جلد 3 صفحہ 1091)