حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خون سے محمد بن ابی بکر کی برأت
علی محمد الصلابیحضرت عثمان غنیؓ کا قاتل ایک مصری شخص تھا روایات میں اس کا نام مذکور نہیں۔ روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اصل میں سدوسی تھا، کالے رنگ کا تھا، کالے پن کی وجہ سے اس کا لقب جبلہ تھا نیز اس کو ’’الموت الاسود‘‘ (کالی موت) کا لقب بھی دیا گیا ہے اور محب الدین خطیب کی تحقیق یہ ہے کہ عبداللہ بن سبا قاتل تھا چنانچہ کہتے ہیں کہ یہ ثابت ہے کہ عبداللہ بن سبا فسطاط سے مدینہ آتے وقت مصری باغیوں کے ساتھ تھا۔ ہر کردار میں جو اس نے ادا کیا اس کی یہی کوشش رہی کہ وہ پردہ کے پیچھے رہے، عین ممکن ہے ’’الموت الاسود‘‘ اسی کا اسم مستعار ہو اور اس کے ذریعہ سے اپنی طرف اشارہ مقصود ہو تاکہ اسلام کو منہدم کرنے کے لیے اپنی دسیسہ کاریوں کو بروئے کار لا سکے۔
(العواصم من القواصم بحوالہ فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 207)
اس تحقیق پر یہ شہادت ہے کہ عبداللہ بن سبا کالا تھا، سیدنا علیؓ سے صحیح سند سے ثابت ہے کہ آپؓ نے اس کو خبث اور کالے پن سے متصف کیا چنانچہ سیدنا علیؓ نے اس سے متعلق فرمایا: ’’الخبیث الاسود‘‘ (خبیث کالا)
(لسان المیزان: جلد 3 صفحہ 290)
حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے سلسلہ میں محمد بن ابی بکر کو متہم کرنا باطل ہے کیوں کہ اس سلسلہ میں روایات ضعیف ہیں اور متن شاذ ہیں بلکہ صحیح روایات کے خلاف ہیں اس لیے کہ صحیح روایات میں یہ بیان ہوا ہے کہ آپ کا قاتل ایک مصری شخص ہے۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 209)
اور ڈاکٹر یحییٰ الیحیٰی نے کئی اسباب ذکر کیے ہیں جن سے حضرت عثمان غنیؓ کے خون سے محمد بن ابی بکر کی برأت راجح قرار پاتی ہے،
من جملہ ان اسباب کے یہ ہیں:
ا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا قاتلینِ عثمانؓ سے قصاص کے مطالبہ کے لیے بصرہ تشریف لے گئیں اگر آپ کا بھائی بھی انہی قاتلین میں سے ہوتا تو کبھی بعد میں اس کے قتل پر غمگین نہ ہوتیں۔ اس کی تفصیل ان شاءاللہ علی بن ابی طالبؓ سے متعلق تفصیل کے وقت آئے گی۔
ب۔ قاتلین عثمانؓ پر حضرت علیؓ کی لعنت اور ان سے برأت کا اظہار اس بات کا متقاضی ہے کہ آپ انہیں اپنے سے قریب نہ کرتے اور نہ ان کو کوئی عہدہ عطا کرتے لیکن آپ نے محمد بن ابی بکر کو مصر کا گورنر مقرر کیا اگر وہ قاتلین میں سے ہوتے تو آپ ایسا نہ کرتے۔
ج۔ ابن عساکر نے اپنی سند سے محمد بن طلحہ بن مصرف سے روایت کی ہے کہ میں نے ام المؤمنین صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کے غلام کنانہ سے سنا کہ میں حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے موقع پر موجود تھا، اس وقت میری عمر چودہ سال تھی۔ ام المؤمنین صفیہؓ نے ان سے دریافت کیا کیا محمد بن ابی بکر کا ہاتھ حضرت عثمان غنیؓ کے خون سے آلودہ ہوا، انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ وہ داخل تو ہوئے لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے کہا: بھتیجے تو میرا ساتھی (قاتل) نہیں۔ وہ باہر آ گئے۔ اور ان کا ہاتھ آپ کے خون سے آلودہ نہ ہوا۔
(مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 243)
اس کی شاہد وہ روایت ہے جسے خلیفہ بن خیاط اور طبری نے ایسی سند سے حسن بصری رحمۃاللہ سے روایت کیا
جس کے رواۃ ثقہ ہیں اور حسن بصری رحمۃاللہ شہادت کے وقت وہاں موجود تھے۔
(مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 244، تہذیب الکمال: جلد 6 صفحہ 97)
فرماتے ہیں: محمد بن ابی بکر نے حضرت عثمان غنیؓ کی داڑھی پکڑ لی تو حضرت عثمان غنیؓ نے کہا: تو نے میری ایسی چیز پکڑی ہے یا ایسی جگہ بیٹھے ہو جہاں تمہارے والد نہیں بیٹھ سکتے تھے، پھر وہ چھوڑ کر چلے گئے۔
(مرویات ابی مخنف فی تاریخ الطبری: صفحہ 244)
اس سے حضرت عثمان غنیؓ کے خون سے محمد بن ابی بکر کی برأت ظاہر ہوتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح بھیڑیا حضرت یوسف علیہ السلام کے خون سے بری الذمہ تھا اور یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ان کے متہم ہونے کا سبب قتل سے قبل حضرت عثمان غنیؓ کے پاس ان کا جانا ہے۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 209)
علامہ ابنِ کثیر رحمۃاللہ نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت عثمان غنیؓ نے ان سے گفتگو کی تو انہیں شرم آ گئی، لوٹ گئے اور اپنے کیے پر نادم ہوئے اور اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور دوسروں کو روکنے لگے، لیکن ان کا روکنا فائدہ مند نہ ہوا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 7 صفحہ 193)