حضرت مولانا مفتی محمد زہیر صاحب کا فتویٰ: مفتی جامعہ علوم…

حضرت مولانا مفتی محمد زہیر صاحب کا فتویٰ: مفتی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی


صفحہ 1 از 4
سنی شیعہ اور اسماعیلی اتحاد کی تحریک ایک تنقیدی جائزہ:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین وہ مفتیانِ شرع متین درجِ ذیل پمفلٹ کے بارے میں جس کا عنوان ہے "سنی شیعہ اور اسماعیلی اتحاد" اس کو پمفلٹ کے مند درجات کچھ یوں ہے:
ہم سب سنی، شیعہ اور اسماعیلی ایک اللہ ایک رسولﷺ اور ایک قرآن پر ایمان رکھتے ہیں۔ نادرن ایریا میں ہم سب کا تعاون و محبت مدتوں سے مثالی رہا ہے ہم ایک دوسرے کی عبادت گاہوں میں اپنی اپنی نمازیں ادا کرتے رہے ہیں لیکن گزشتہ چند ماہ سے اسلام دشمن سازشوں کے جال میں پھنس کر ہمارے درمیان جو قتل و غارت گری ہوئی ہم سب اس پر شرمندہ اور معذرت خواہ ہیں۔
علامہ عارف الحسینی کے قتل کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاریوں سے ہم سب کو یقین محکم ہو گیا ہے کہ جس طرح ایک ملزم نے افغانستان سے چھ لاکھ روپے کے عوض علامہ عارف الحسینی کو قتل کیا ہے اسی طرح افغانستان اور روسی سازشوں کے تحت ملک کے اس انتہائی اہم اور احساسِ سرحدی علاقے میں بھائیوں کو بھائیوں سے لڑایا گیا ہے خلفائے راشدینؓ کے خلاف بہتان طرازیاں اور امام باڑے یا جماعت خانے کا جلایا جانا سب کچھ گھناؤنی سازش کا نتیجہ تھا جس کا ہم سب شکار ہوئے ہم سب اپنی اپنی غلطیوں پر نادم اور شرمندہ ہے اور ایک دوسرے کو کھلے دل سے معاف کر کے گلے لگاتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں ایک دوسرے مذہب کے بتوں تک کو برا کہنے سے منع کیا گیا ہے کہ وہ جواب میں اللہ تعالیٰ کو برا کہیں گے افواہیں یہاں تک پھیلی ہوئی ہیں کہ ہم میں سے بعض مکاتبِ فکر نے قرآنِ مجید میں تحریف کی سازش کی ہے تاکہ ہم کو ایک دوسرے سے بدظن کر کے لڑایا جا سکے ہم سب مشترکہ طور پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ قرآنِ مجید کی تحریف کرنے والا بھی اسلام کے دائرے سے خارج ہے:
1: دشمنانِ اسلام اور پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہم سب نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام مساجد امام باڑے اور جماعت خانوں کے دروازے سب سنی شیعہ اور اسماعیلیوں کے لیے کھلے رہیں گے کسی بھی مکتبِ فکر کا مسلمان کسی بھی عبادت گاہ میں جا کر اپنے مسلک سے نماز ادا کر سکتا ہے۔
2: قرآنِ مجید میں تحریف کے الزام کو رد کرنے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ مساجد میں امام باڑوں اور جماعت خانوں میں قرآنِ مجید کے مخلوط مدارس قائم کیے جائیں جہاں سب مکاتب فکر کے بچے اور بڑے حضرات قرآنِ مجید پڑھیں۔
3: خلفائے راشدینؓ پر تبراء بھیجنے والوں کا محاسبہ خود شیعہ برادری بھی کرے گی اور سنی حضرات پر امن عزاداری کو یقینی بنانے میں پوری مدد دیں گے کیونکہ کسی کے بھی بزرگوں یا شعائرِ مذہب کی تضحیک لازماً کشیدگی پیدا کرے گی۔
4: اگر آپ اپنی آبادی کی مسجد، امام باڑے، جماعت خانے میں قرآنِ مجید کا مخلوط مدرسہ قائم کرنا چاہیں تو ہم ہر طرح کا مالی اور اخلاقی تعاون پیش کریں گے۔
5: اگر اپ اپنی آبادی کی مسجد امام باڑے جماعت خانے میں ڈسپنسری قائم کرنا چاہیں تو بھی ہماری ممکنہ امداد حاضر ہے۔
6: کسی بھی مکتبِ فکر کے لوگوں کو دوسرے مکتبِ فکر سے کوئی شکایت پیدا ہو تو وہ راست اقدام سوچنے کی بجائے زیرِ دستخطی سے رابطہ کریں تاکہ متعلقہ مکتبِ فکر کے بزرگوں سے مل کر شکایت کنندہ کی تکلیف دور کی جا سکے یقین کیجیئے کہ ہر مکتبِ فکر کے بزرگ انتہائی درد مند اور خدا خوفی والے لوگ ہیں۔
اس کے ثبوت میں ہم علی آباد (ہنزہ) میں مسجدِ قباء کی مثال پیش کرتے ہیں جہاں اسماعیلیوں کی شکایت پر سنی منتظمین نے فوراً امام مسجد کو علیحدہ کر دیا اسی طرح علامہ آغا حامد دشمنانِ اسلام کی سازش ناکام بنانے اور اخوت اور رواداری کی فضاء کے لیے بے چین ہیں ہم سب کو دشمنانِ اسلام کے سامنے مذاق نہیں بننا چاہیئے اور مل کر اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑو اور متفرق نہ ہو جاؤ پر عمل پیرا ہونا چاہیئے۔
 مندرجہ بالا پمفلٹ کی عبارت کے مضمون، تحریک اور ایسے عمل پر کیا حکم ہے؟ مزید یہ کہ جو صاحب ایسے امور کو لے کر چلے اور رجوع نہ کرے اس کا کیا حکم ہے؟
جواب: منسلکہ پمفلٹ "سنی شیعہ اسماعیلی اتحاد" کے مضمون کا حکم بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ تین امور کا تذکرہ ہو جائے تاکہ اس پمفلٹ کے بارے میں ایک عام آدمی کو بھی نتیجہ اخذ کرنے میں سہولت ہو اور وہ امورِ ثلاثہ یہ ہیں:
1: فرقہ شیعہ و فرقہ اسماعیلیہ آغاخانی کے مختصر عقائد اور پھر اہلِ سنت کے عقائد سے موازنہ۔ 
2: اس پمفلٹ کے مندرجات پر نقد و تبصرہ۔
3: اتحاد کے لیے شرائط۔
نوٹ آخری امر کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ عام لوگوں کا تاثر یہ ہے کہ اختلاف چھوٹے طبقے کے پیدا کردہ ہیں ہر طبقہ کے بڑے اس بات کے متمنی ہیں کہ اتفاق و اتحاد رہے۔
شیعہ کے عقائد:
ان کی بنیادی عقائدِ ثلاثہ یہ ہیں:
1: عقیدہ امامت:
اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے انبیاء کرام علیہم السلام "مبعوث من اللہ" اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں ایسے ہی ائمہ معصومین بھی ان پر وحی نازل ہوتی ہے اور ان کو حسبِ منشاء قرآنِ پاک میں تبدیلی کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
2: بغض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین:
ان کا دوسرا بڑا عقیدہ یا اُصول صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض و عداوت ہے ان کے نزدیک تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ما سوائے حضرت مقدادؓ اور حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ کے بعد وصال النبیﷺ مرتد ہو گئے تھے اور ان تین حضرات نے بھی بشمول حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طوعاً و کرہاً ایک مرتد سیدنا ابوبکرصدیقؓ کی بیعت کر لی تھی۔ (العیاذ باللہ)
3: تحریف قرآن پاک:
تیسرا بنیادی عقیدہ جو پہلے دو کا نتیجہ ہے وہ ہے تحریفِ قرآن، ان کے نزدیک موجودہ قرآن حضرت عثمانِ غنیؓ کا تحریف کردہ ہے (العیاذ باللہ) اور اصلی قرآن ائمہ کے پاس اباعن جد منتقل ہوتا رہا ہے اور اب امام مہدی کے پاس ہے اس کے 40 پارے ہیں اور وہ ایک "غار سر من راہ" میں اس قران کو لیے بیٹھے ہیں اپنے ظہور کے بعد ان کو لائیں گے اور نافذ کریں گے۔
اسماعیلیوں کے عقائد:
1: عقیدہ امامت:
صفحہ 1 از 4