حضرت مولانا مفتی محمد زہیر صاحب کا فتویٰ: مفتی جامعہ علوم…

حضرت مولانا مفتی محمد زہیر صاحب کا فتویٰ: مفتی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی


صفحہ 2 از 4
آغا خانی اپنے امام حاضر کو صرف معصوم ہی نہیں مانتے بلکہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کا امام حاضر ہے، خدا کا مظہر ہے خدا تعالیٰ اپنی تمام الہٰی طاقتوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے امام حاضر میں حلول کرتا ہے اس لیے ان کے نزدیک امام حاضر ہی خدا ہے وہی مستحق دعا عبادت ہے (العیاذ باللہ)
2: بغض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین:
اس عقیدہ میں اسماعیلی بھی شیعہ ہی کی طرح ہیں کیونکہ وہ بھی اکابر اصحابِ ثلاثہؓ کو غاصب ظالم اور خائن کہتے ہیں (العیاذ باللہ)
3ـ تحریف قرآن:
ان کے نزدیک بھی قرآنِ پاک میں(معاذ اللہ) حضرت عثمانِ غنیؓ نے تحریف کی ہے اصل قرآن تو 40 پارے ہیں 30 تو موجودہ اور باقی 10 پارے امام حاضر کی زبان ہیں۔ (العیاذ باللہ)
ہم نے مذکورہ دونوں فرقوں کے تین بنیادی عقیدوں کو تو ذکر کیا ہے لیکن کلمہ کا نہیں کیونکہ وہ تو عقیدے کا مظہر ہی ہوتا ہے لہٰذا اس کا بھی ذکر کر دیتے ہیں۔
شیعہ کا کلمہ:
"لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ وصی رسول اللہ و خلیفۃ بلا فصل" یہ کلمہ دینیات برائے نہم و دہم کہ جدا شیعہ نصاب جاری کردہ حکومتِ پاکستان سے لیا گیا ہے لیکن انہی کا کلمہ ایرانی رسالہ وحدت اسلامی کے سالانہ 1984ء میں یوں درج ہے "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ علی ولی اللہ خمینی حجۃ اللہ"

اسماعیلی کلمہ:"اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ واشہد ان علی اللہ"
اب دوسری طرف اہلِ سنت کے ہاں نہ تو عقیدہ تحریفِ قرآن ہے اور نہ بغضِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور نہ ہی امامت کا تصور بلکہ یہ سب چیزیں ان کے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج کرنے والی ہیں، اہلِ سنت کے ہاں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثل النجوم ہیں ان کی اقتداء ہی میں ہدایت مضمر ہے وہ موجودہ قرآن پاک ہی کو منزل من اللہ جانتے ہیں اور اسی بناء پر ان کے ہاں بنیادی عقیدہ توحید و رسالت کا ہے اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین علیٰ حسب المراتب شرفِ صحابیت کے مشرف ہونے کے باعث ان کے سر کے تاج ہیں۔
لہٰذا یہ بات ثابت ہوئی اہلِ سنت کے ساتھ ان دونوں گروہوں کا اختلاف اصولی ہے اور کفر و اسلام کا اختلاف ہے کوئی فروغی اختلاف نہیں کیونکہ تحریفِ قرآن کا قائل اور سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی صحابیت کا منکر باجماعِ اہلِ اسلام کافر ہے۔
ایک بات کی وضاحت:
یہاں ایک بات کا تذکرہ مفید ہوگا وہ یہ کہ جب امتِ مسلمہ قادیانیوں کو ایک مرزا کے نبی ماننے پر کافر و مرتد کہتی ہیں تو شیعہ اور آغا خانی تو بطریقِ اولیٰ اس کے مستحق ہوں گے کیونکہ وہ بارہ اماموں کو نبی بلکہ ان سے بھی بڑھ کر مانتے ہیں۔ 
اگر کسی خیر خواہ کو یہ اشکال ہو کہ وہ تو ان عقائد سے برأت کا اظہار کرتے ہیں تو اس سلسلے میں واضح ہو کہ ان دونوں فرقوں کے مذہب کا بنیادی جزو ہے "تقیہ" جس کے معنیٰ ہیں اپنے عقائد کو چھپانا تو وہ اس اظہارِ برأت میں اسی تقیہ سے کام لیتے ہیں ویسے بھی جب کوئی شخص کسی مذہب کا متبع و پیروکار ہو تو اس کی بات کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ اس مذہب کے ائمہ و مجتہدین کی بات دیکھی جاتی ہے۔

لہٰذا مذکورہ دونوں فرقوں کے اماموں اور بڑے علماء کی باتوں کو دیکھا جائے گا جیسا کہ صاحبِ اصولِ کافی جس کے بارے میں ملتِ شیعہ کا خیال ہے کہ اس نے گیارہویں، بارہویں امام کا زمانہ پایا ہے یا موجودہ دور میں خمینی اور پیشواء ملا باقر مجلسی ملعون۔ 
اگر کوئی ان سے برات کا اظہار کرے تو وہ شیعہ یا اسماعیلی ہی نہیں اور اس کا ان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا صحیح نہیں لہٰذا برأت کا عذر، عذرِ لنگ ہے۔
منسلکہ پمفلٹ کی حقیقت:
 منسلک پمفلٹ جھوٹ کا پلندہ، کذب و افتراء کا طومار اور اہلِ سنت عوام کو دھوکہ دینے کے لیے تقیہ کی سیاہ نقاب ہے یہ اہلِ سنت کی تحریک ہرگز نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر شیعہ اور اسماعیلی اپنے کفریہ عقائد کو چھوڑ دیں تو وہ خود اسلام میں داخل ہو جائیں گے، اس صورت میں اس تحریک اور اتحاد کو سنی شیعہ اسماعیلی اتحاد قرار دینا غلط ہوگا بلکہ اس کو "انتقال شیعہ والاسماعیلیین الی اھل السنۃ" کہنا ہوگا اور اگر انہوں نے اپنے عقائد کو نہیں چھوڑا جیسا کہ پمفلٹ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور اس کا نام بھی اس کی طرف مشعر اور اس کے لیے مثبت ہے تو پھر یہ کفر و اسلام کے اتحاد کی کوشش ہے کیونکہ شیعت اور آغا خانیت خالص کفر ہے جیسا کہ ان کے عقائد سے واضح ہو چکا ہے۔
اور جہاں تک اس کے مندرجہ جات پر تفصیلی جائزہ کی بات ہے تو اس سلسلے میں گزارش ہے کہ پہلا پیراگراف تو سفید جھوٹ ہے، کیونکہ نادرن ایریا میں مسلمانوں، شیعوں آغا خانیوں کے مابین دشمنی تو مثالی کہی جا سکتی ہے ان کے مابین محبت کا دعویٰ کرنا روزِ روشن کو شبِ تاریک قرار دینے کے مترادف ہے۔
پھر دوسرے پیرا گراف میں سازشوں کو فقط روس اور افغانستان کی طرف منسوب کرنا گویا عام مشاہدہ کا انکار کرنا ہے کیونکہ سرکاری تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسے واقعات میں ایران ملوث ہے جیسا کہ مرحوم صدر ضیاء الحق نے اپنے ایک بیان میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا تھا۔
 تیسرے پیرا گراف میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف بہتان تراشی کو سازش کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے حالانکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دشمنی اور بعضِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شیعہ اور آغا خانیوں کا جزو ایمان ہے اب اگر یہ سازش ہے تو پمفلٹ لکھنے والوں کو گویا اس کا اقرار ہے کہ شیعہ اور آغا خانی مذہب خود اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔
صفحہ 2 از 4