حضرت مولانا مفتی محمد زہیر صاحب کا فتویٰ: مفتی جامعہ علوم…

حضرت مولانا مفتی محمد زہیر صاحب کا فتویٰ: مفتی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی


صفحہ 4 از 4
2: اس تحریک کو لے کر چلنے والا اگر اسلام اور عقیدہ اہلِ سنت کا مدعی ہے تو اس پر لازم ہے کہ فوراً توبہ کر لے اور اپنے ایمان کو بچانے کی سعی کرے ورنہ اس تحریک کے سبب سے وہ اہلِ سنت سے خارج ہو جائے گا رہا یہ کہ وہ پھر کس زمرہ میں شامل ہوگا مذکورہ بالا تقریر کی روشنی میں ادنیٰ فہم رکھنے والا شخص بھی اس کو سمجھ سکتا ہے کیونکہ اہلِ سنت کے نزدیک کفر و اسلام کے درمیان ایسی کوئی گھاٹی نہیں جس سے آدمی اہلِ سنت کے زمرے سے نکل کر بھی خالص مسلمان رہ جائے۔
اور اگر وہ شخص منع کرنے کے باوجود اور شیعہ و آغا خانیوں کے عقائد سے مطلع ہونے کے باوجود اپنی اس تحریک پر جما رہے اور اصرار کرتا رہے تو یہ شخص دینِ اسلام اور مسلمانوں کا غدار شمار ہوگا مسلمانوں کو چاہیئے کہ اس سے قطع تعلق کرلیں کیونکہ ایسے شخص سے تعلق آدمی کے ایمان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے حضورِ اکرمﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ناراضگی کا سبب تو ہے ہی۔

(فتاویٰ بینات: جلد 1 صفحہ 185، 195)

صفحہ 4 از 4