شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا موقف
علی محمد الصلابیبعض کتب تاریخ نے حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے موقف کو مسخ کر کے پیش کیا ہے اس کا سبب وہ رافضی روایات ہیں جنھیں بہت سے مؤرخین نے ذکر کیا ہے، جو بھی تاریخ طبری اور دیگر کتب تاریخ میں ابو مخنف، واقدی اور ابن اعثم وغیرہ کی روایات کا تتبع کرے گا وہ یہ محسوس کرے گا کہ صحابہ ہی اس سازش کو حرکت دے رہے تھے اور اس فتنہ کو بھڑکا رہے تھے۔ ابو مخنف شیعی اتجاہ کا حامل ہے، خلیفہ راشد عثمان رضی اللہ عنہ پر یہ اتہام لگانے میں ذرا بھی خوف نہیں کھاتا کہ آپ کی غلطیاں اور لغزشیں بہت زیادہ تھیں اور آپ کے ساتھ جو کچھ ہوا آپ اس کے مستحق تھے اور یہ شخص اپنی مرویات میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی تصویر حضرت عثمانؓ کے مخالفین و معاندین کی شکل میں پیش کرتا ہے اور واقدی کی روایات ابو مخنف کی روایات سے ذرا بھی مختلف نہیں۔ ان روایات کے مطابق حضرت عمرو بن العاصؓ مدینہ پہنچتے ہیں اور حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف اعتراضات اور طعن و تشنیع کی بوچھاڑ شروع کر دیتے ہیں، اور ایسی رافضی روایات کی بھرمار ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف سازش سے متہم کرتی ہیں اور یہ باور کراتی ہیں کہ انہوں نے ہی لوگوں کو بھڑکایا اور فتنہ کو حرکت دی لیکن یہ سب سراپا جھوٹ اور کذب بیانی ہے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 14ـ 18)
ان رافضی موضوع اور ضعیف روایات کے بر خلاف الحمدللہ محدثین کرام کی کتابوں نے صحیح روایات کو محفوظ کر رکھا ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عثمان غنیؓ کا ساتھ دینے والے، آپؓ کی نصرت و تائید اور آپؓ کی طرف سے دفاع کرنے والے تھے اور قاتلینِ عثمانؓ سے اپنی برأت کا اظہار کرتے تھے اور حادثہ قتل کے بعد قصاص کے مطالبہ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس سے یہ بات بعید از قیاس قرار پاتی ہے کہ انہوں نے فتنہ کو ہوا دینے اور اس کو بھڑکانے میں کسی طرح کا ساتھ دیا ہو۔ (ایضًا)
تمام صحابہ رضی اللہ عنہم حضرت عثمان غنیؓ کے خون سے بری ہیں جو بھی اس کے برخلاف کہتا ہے اس کی بات باطل ہے اس پر وہ کوئی دلیل قائم نہیں کر سکتا ہے جو صحت کے درجہ کو پہنچ رہی ہو۔ اسی لیے خلیفہ بن خیاط نے اپنی تاریخ میں عبدالاعلیٰ بن الہیثم سے روایت کی ہے جو اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حسن بصریؒ سے کہا: کیا حضرت عثمانؓ کے قاتلین میں مہاجرین و انصار میں سے کوئی تھا؟ تو حسن بصری رحمۃاللہ نے فرمایا: نہیں یہ تو مصر کے اجڈ لوگ تھے۔
اور امام نووی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: حضرت عثمان غنیؓ کے قتل میں کوئی صحابی شریک نہ تھا۔ آپ کو قتل کرنے والے رذیل اور نچلے طبقہ کے ناکارہ، بے وقوف، کمینے اور فسادی لوگ تھے جو مصر سے جتھا بنا کر اس مقصد سے آئے تھے۔ مدینہ میں موجود صحابہ دفاع سے عاجز رہے اور ان لوگوں نے آپ کا محاصرہ کر کے قتل کر دیا۔
(شہید الدار عثمان بن عفان: صفحہ 148)
اور حضرت زبیر بن عوامؓ نے قاتلین سے متعلق فرمایا: یہ صوبوں کے نچلے طبقہ کے فسادی لوگ تھے۔
ام المؤمنین عائشہؓ فرماتی ہیں: یہ اجنبی اور قبائل سے نکلے ہوئے لوگ تھے۔
(شرح النووی علی صحیح مسلم: جلد 5 صفحہ 148، کتاب فضائل الصحابۃ)
ابن سعدؒ فرماتے ہیں: یہ ادنیٰ درجے کے اور کمینے لوگ تھے جو شر پر متفق تھے۔
(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 71، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 481)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں: یہ خارجی، مفسد، گمراہ، باغی، زیادتی کرنے والے اور ظالم لوگ تھے۔
(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 189ـ206)
علامہ ذہبی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: یہ شر اور بد اخلاقی کے سرغنہ تھے۔
(دول الاسلام الذہبی: جلد 1 صفحہ 12)
ابن عماد حنبلی رحمۃاللہ فرماتے ہیں: یہ رذیل اور قبائل کے اوباش لوگ تھے۔
(شذرات الذہب: جلد 1 صفحہ 40، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 482)
حضرت عثمان غنیؓ کے محاصرہ سے لے کر ظالمانہ شہادت تک کے واقعات ان اوصاف پر شاہد ہیں۔ آپ سے ان کمینوں نے کھانا پانی روک دیا جب کہ آپ نے اپنے مال خاص سے مسلمانوں کی پیاس مفت بجھائی۔
(دیکھیے: تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 482، البخاری: کتاب مناقب عثمان: جلد 4 صفحہ 202)
اور جب بھی مدینہ میں قحط اور بھکمری پڑی اپنا مال لوگوں پر بے دریغ خرچ کیا اور جب مسلمانوں کو کوئی مصیبت آئی یا کسی پریشانی سے دوچار ہوئے تو جود و سخا کے دہانے کھول دیے۔ (التمہید والبیان: صفحہ 242)
حضرت علیؓ نے باغیوں کو سرزنش کرتے ہوئے کہا تھا: لوگو! جو حرکت تم کر رہے ہو یہ نہ مسلمانوں کے فعل سے میل کھاتی ہے اور نہ کافروں کے، ان سے پانی اور کھانا مت روکو، روم و فارس والے قیدیوں کو بھی کھلاتے پلاتے ہیں۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 400)
صحیح روایات اور تاریخی واقعات اس بات پر شاہد ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے اور آپؓ کے خلاف فتنہ میں شرکت سے بالکل بری تھے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 18)