خون عثمان رضی اللہ عنہ سے برأت سے متعلق صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال
علی محمد الصلابیاہل بیت کی طرف سے مدح سرائی اور حضرت عثمان غنیؓ کے خون سے ان کی برأت
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا:
• فاطمہ بنت عبدالرحمٰن یشکریہ اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ان کو ان کے چچا نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا انہوں نے جا کر عرض کیا: آپ کا ایک بیٹا آپ کو سلام کہتا ہے اور آپ سے حضرت عثمان غنیؓ سے متعلق دریافت کرتا ہے جن کے بارے میں لوگ بہت سی باتیں کر رہے ہیں تو ام المؤمنین نے فرمایا: اللہ کی اس پر لعنت ہو جو عثمان غنیؓ پر لعنت کرے۔ اللہ کی قسم وہ رسول اللہﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہﷺ میری طرف اپنی پیٹھ ٹیکے ہوئے تھے اور جبریل علیہ السلام قرآن کی وحی لے کر آپ کے پاس آئے تھے اور رسول اللہﷺ آپ سے کہہ رہے تھے: عثمان لکھو۔ اور اللہ تعالیٰ یہ مقام اسی کو عطا کرتا ہے جو اللہ و رسول کے نزدیک مکرم و معزز ہو۔
(المسند: جلد 6 صفحہ 250، 261)، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 378، البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 219)
• مسروق روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان غنیؓ شہید ہو گئے تو حضرت عائشہؓ نے کہا تم لوگ حضرت عثمان غنیؓ سے ایسے دور رہے جیسے صاف کپڑا میل سے دور رہتا ہے، پھر ان سے قریب ہوئے تو انہیں بھیڑ کی طرح ذبح کر دیا۔
مسروق نے کہا: یہ آپ کا کام ہے آپ نے لوگوں کے نام خطوط لکھ کر خروج کرنے کا حکم دیا۔ ام المؤمنین عائشہؓ نے فرمایا: نہیں اس ذات کی قسم جس پر مومن ایمان رکھتے ہیں اور جس کے ساتھ کافر کفر کرتے ہیں، اب تک میں نے کوئی تحریر نہیں لکھی ہے۔
(فتنۃ مقتل عثمان: جلد 1 صفحہ 391، تاریخ خلیفۃ: صفحہ 176 اسنادہ صحیح)
سبائیوں کی کذب بیانی اس سے قبل گزر چکی ہے کہ صوبوں کے لوگوں کے نام جعلی خطوط ام المؤمنین عائشہؓ کی طرف سے روانہ کرتے تھے۔
• مکہ سے مدینہ حج کے بعد لوٹتے ہوئے جب حضرت عائشہؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر سنی تو فوراً مکہ واپس ہو گئیں اور جا کر حجر اسماعیل میں پردہ کر کے بیٹھ گئیں، لوگ آپؓ کے پاس جمع ہو گئے۔ ام المؤمنین عائشہؓ نے فرمایا:
’’لوگو! صوبوں کے لوگوں، چشموں پر رہنے والوں اور اہل مدینہ کے غلاموں میں سے فسادی کمینے جمع ہوئے۔ ان فسادیوں نے ابھی کل اس مقتول (عثمان رضی اللہ عنہ ) پر چال بازی، کم سنوں کو عہدہ دینے اور چراگاہوں کو خاص کر لینے کا اتہام لگایا حالاں کہ ایسی عمر والوں کو پہلے عہدے دیے جا چکے تھے اور چراگاہوں کو خاص کیا جا چکا تھا، اور یہی مناسب تھا چنانچہ آپ نے سابقین کی اتباع کی اور ان لوگوں کو چراگاہوں سے ان کی اصلاح کی خاطر روکا اور جب ان کے پاس کوئی حجت و عذر باقی نہ رہا تو یہ ہنگامہ پر اتر آئے اور عدوان و سرکشی میں جلدی کی اور ان کے قول و فعل میں تضاد ہوا، خون حرام کو بہایا، بلد حرام کی حرمت پامال کی، محترم مال کو لوٹ لیا اور ماہ حرام کی حرمت پامال کی۔ اللہ کی قسم عثمانؓ کی ایک انگلی کا باقی رہنا اس سے بہتر ہے کہ زمین ان جیسے لوگوں کو اپنے اندر سمولے، لہٰذا تم ان کے خلاف متحد ہو کر نجات طلب کرو تاکہ دوسرے ڈریں اور بعد والوں کی جمعیت منتشر ہو۔ اللہ کی قسم جو ظلم انہوں نے عثمانؓ پر ڈھایا ہے اگر یہ عام گناہ ہوتا تو اس سے صفائی ممکن تھی جس طرح سونا میل کچیل سے صاف ہو جاتا ہے یا کپڑا گندگی سے صاف ہو جاتا ہے، اگر اس کو یہ دھو لیتے جس طرح کپڑا پانی سے دھو لیا جاتا ہے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 473، 474)
مذکورہ معتبر روایات کی روشنی میں ام المؤمنین عائشہ اور امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہما کے مابین تعلقات کی جو بہترین تصویر ہمارے سامنے آتی ہے اس کے بالکل برعکس طبری وغیرہ میں ایسی دوسری روایات موجود ہیں جو دونوں کے مابین تعلقات کی بالکل مختلف تصویر پیش کرتی ہیں اور سبائیوں کی چال بازیوں اور کھیل کو سمجھتے ہوئے حضرت عثمان غنیؓ اور حرمات الٰہی کے دفاع میں جو بلند و حسین اور جذبہ و شعور سے پر کردار ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ نے پیش کیا اس کو مسخ کرتی ہیں۔
(دورالمرأۃ السیاسی فی عہد النبی و الخلفاء الراشدین: صفحہ 352)
عقد الفرید، اغانی، تاریخ یعقوبی، تاریخ مسعودی اور انساب اشراف میں جو روایات وارد ہیں اور حضرت عثمان بن عفانؓ کی زندگی میں ام المؤمنین عائشہؓ کی سیاسی کردار کے سلسلہ میں جو استدلالات پیش کیے گئے ہیں وہ عائشہ صدیقہؓ کے سیاسی موقف کے خلاف ہیں اور وہ سب ناقابل اعتماد ہیں کیوں کہ صحیح روایات کے خلاف ہیں اور ان کی بنیاد واہی اور کمزور روایات پر ہے۔
(ان باطل استدلالات کے سلسلہ میں دیکھیے: الصدیقۃ بنت الصدیق: العقاد: صفحہ (116۔124)
ان میں سے اکثر روایات بغیر سند کی ہیں اور جو باسند ہیں ان کی سندیں مجروح ہیں، ان سے استدلال نہیں کیا جا سکتا، یہ ناقابل حجت ہیں اور جب ان کا مقارنہ دوسری صحیح اور حقیقت سے قریب تر روایات سے کیا جائے تو ان کا متن باطل قرار پاتا ہے۔
(دورالمرأۃ السیاسی: صفحہ 370)
سیدہ اسماء محمد احمد نے ان روایات کے اسانید و متون کی تحقیق کی ہے جن کے اندر حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف رونما ہونے والے فتنہ میں ام المؤمنین عائشہؓ کے سیاسی کردار سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ انہوں نے ان روایات پر نقد و جرح کی ہے جو طبری وغیرہ میں امیر المؤمنین عثمانؓ اور ام المؤمنین عائشہؓ کے مابین سیاسی اختلاف بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے ان روایات کے کھوٹ اور کذب کو واضح کیا ہے اور پھر فرماتی ہیں کہ مناسب تو یہ تھا کہ ان تمام روایات کے ذکر سے اعراض کیا جاتا جیسا کہ ابھی میں نے ذکر کیا کیوں کہ معتبر طریق سے یہ ہم تک نہیں پہنچی ہیں، جن طرق سے یہ روایات ہم تک پہنچی ہیں ان کے رواۃ سب تشیع، رفض اور کذب سے متہم ہیں، لیکن ہم نے اس لیے ان روایات کو یہاں پیش کیا ہے کیوں کہ اولاً یہ روایات اکثر جدید تالیفات میں عام ہیں اور ثانیاً ان روایات کا عدم ثبوت اور ساقط الاعتبار ہونا بیان کرنا مقصود ہے جیسا کہ ہمارے سامنے یہ حقیقت واضح ہوئی۔ ان روایات نے حضرت عثمان غنیؓ اور ام المؤمنین عائشہؓ کے مابین اور حضرت عثمان غنیؓ اور تمام صحابہؓ کے مابین اختلاف کی ایسی تاریخ پیدا کرنا چاہی ہے جس کا سرے سے وجود نہیں۔
(دورالمرأۃ السیاسی: صفحہ 370)
اگر یہ بات صحیح ہوتی کہ انہوں نے باغیوں کے ساتھ حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف بغاوت کو ہوا دینے پر اتفاق کیا تھا تو ایسی صورت میں ان سے یہ توقع تھی کہ وہ ان باغیوں کے لیے کوئی عذر تلاش کرتیں، لیکن ایسی کوئی بات ان سے ثابت نہیں ہے، اور شہادتِ عثمانؓ کے سلسلہ میں ام المؤمنین عائشہؓ کے موقف سے متعلق یہ روایات اگر صحیح ہوتیں تو یہ روایات ام المؤمنین عائشہؓ اور ان کے ہم نوا صحابہ رضی اللہ عنہم کی عدالت کے اسقاط اور انہیں ناقابل اعتبار قرار دینے کے لیے کافی ہوتیں لیکن کسی قیمت پر ہم اس کو قبول نہیں کر سکتے کیوں کہ ان کی عدالت کے اثبات کے لیے سچی خبر اللہ و رسولﷺ سے ثابت ہے جو ان روایات کے ابطال و تردید کے لیے کافی ہے۔ لیکن ان روایات اور ان پر قائم استدلالات کے بطلان و سقوط کے باوجود ہم نے ان روایات کے سلسلہ میں توقف اختیار کیا تاکہ دینی، علمی اور تاریخی دلائل ایک ساتھ جمع ہو جائیں اور ایک دوسرے کو تقویت پہنچائیں۔
(دورۃ المرأۃ السیاسی: صفحہ 371)