مولانا علی شیر حیدری شہید رحمۃ اللہ کے فرمودات - فتاویٰ جات…

مولانا علی شیر حیدری شہید رحمۃ اللہ کے فرمودات


صفحہ 2 از 2

 صدیقِ اکبرؓ گواہ پیش کر! یا رسول اللہ گواہ نہیں ہے اچھا گواہ نہیں ہے، پھر تو مقدمہ آپ کے خلاف ہے حضرت جبرائیل علیہ السلام پہنچ گئے یا رسول اللہﷺ ٹھہریے ٹھہریے اور کوئی گواہ نہیں اللہ رب العزت فرماتے ہیں میں خود گواہ ہوں اور کسی نے نہیں سنا اللہ تعالیٰ نے سنا ہے۔

لَقَدْ سَمِـعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ الخ۔

(سورۃ آلِ عمران: آیت 181) 

انہوں نے گستاخی کی اللہ تعالیٰ کو فقیر کہا خود کو غنی کہا اللہ تعالیٰ نے خود سنا ہے کوئی گواہ ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ خود گواہ ہے (سبحان اللہ) اب جنابِ رسالتِ مآبﷺ لاکھ گواہوں کی گواہی اس گواہی کا مقابلہ نہیں کر سکتی جو اللہ تعالیٰ کی خاطر غیرت دکھاتے ہیں اللہ ان کی حفاظت خود کرتا ہے خود گواہ اور محافظ بن کر آتا ہے۔

(خطباتِ حیدری: جلد 1 صفحہ 289)

سوال: حضرت مولانا اعظم طارق شہیدؒ نے متحدہ مجلسِ عمل کے ساتھ اتحاد کیوں نہ کیا؟

جواب: حضرت مولانا علی شیر حیدری شہیدؒ:

اچھا اور ٹھیک کیا! جب علماء نے شیعہ کو دینی جماعت کہہ کر اپنے ساتھ رکھا تو ہم ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تھے۔

سوال: شیعہ کے ساتھ آپ اتحاد ناجائز کہتے ہیں حالانکہ آپ نے خود ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ علماء بورڈ میں ان کے ساتھ اتحاد کیا تھا؟

جواب: حضرت مولانا علی شیر حیدری شہیدؒ:

فرق ضرور سمجھیں ہم ملی یکجہتی کونسل میں بحیثیتِ فریقِ مخالف کے اکٹھے بیٹھے تھے آمنے سامنے عدالت میں ملزم اور مدعی کا اکٹھا ہونا اس کو اتحاد نہیں کہتے ملی یکجہتی کونسل میں بحیثیتِ ملزم اور مدعی کے اکٹھے تھے یہ اور بات ہے اور ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں یہ اور بات ہے۔ 

وہاں اگر ہم سپاہِ صحابہؓ والے نا بیٹھتے تو گند کو واضح تیرا باپ کرتا؟ عدالت میں دشمنوں کے سامنے فیصلے میں تو بیٹھتا؟

یاد رکھیں جی غیرت ہے یہ جرآت ہے اور دشمن کے ساتھ مل کر غیرت ڈبو کر اور ساتھ دوستی کا ہاتھ ملا لینا یہ بے غیرتی ہے یہ ذلت ہے یہ بڑا فرق ہے۔

وہاں بیٹھنے والوں نے ان کے کفر پر بحث کی تھی، کتابیں پیش کی تھیں، مسائل کھلے تھے اور دشمن کو نیچا ہونا پڑا تھا، ذلیل ہونا پڑا تھا، وہاں سامنے نہ آنا، سامنے نہ بیٹھنا وہ ذلت تھی اور یہاں ساتھ بیٹھنا ذلت ہے۔

اگر عدالت میں سپاہِ صحابہؓ کی قیادت نہ ہوتی تو دلائل کون دیتا؟ اگر سپاہِ صحابہؓ کی قیادت نہ ہوتی تو ان کو ملی یکجہتی کونسل اور علماء بورڈ میں ذلیل کون کرتا؟ وہاں ان کی حقیقت کون کھولتا؟

شیعہ کے ساتھ اتحاد کرنے والوں کی خدمت میں عرض اور گزارش

اگر گستاخانِ رسولﷺ کے خلاف تحریک چلانے کے لیے اتحاد ضروری ہے تو پھر آسیہ مسیح کے خلاف جلوس نکالنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیونکہ شیعہ خود قادیانیوں سلمان رشدی اور آسیہ ملعون سے ہی زیادہ سخت گستاخ ہیں کیا گستاخانِ رسولﷺ کو ساتھ ملا کر گستاخانِ رسولﷺ کے خلاف تحریک چلانا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ بدترین مذاق نہیں ہے۔ 

شیعہ کے کفر کی وجوہات میں سے جہاں تحریفِ قرآن اور تکفیرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہے تو وہاں ایک بڑی وجہ انکا عقیدہ امامت بھی ہے جو ختمِ نبوت کی نفی کرتا ہے۔ 

چنانچہ شیعہ قادیانیوں کی طرح لفظی طور پر ختمِ نبوت کے قائل ہیں اور حضورﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں لیکن انہوں نے نبوتِ محمدیہﷺ کے مقابلے میں ایک متوازی نظام عقیدہ امامت کے نام سے وضع کر لیا ہے ان کے نزدیک امامت کا وہی تصور ہے جو نبوت کا ہے۔

سپاہِ صحابہؓ کا نظریہ یہ ہے کہ غلبہِ اسلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمنوں کے عقیدہ بداء، عقیدہ تحریفِ قرآن اور عقیدہ تکفیرِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں ممکن ہی نہیں ایسے عقائد جن کا کفر واضح اور کھلا ہے ان کو اسلام قرار دے کر اور اسلامی تحریکوں میں ساتھ لے کر آپ اسلام کا غلبہ کیونکر کر سکتے ہیں؟ غلبہ اسلام کے لیے ہمیں تمام رکاوٹوں کو دور کر کے آگے بڑھنا ہے۔


صفحہ 2 از 2