Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

علی بن حسین (زین العابدین) رحمۃاللہ

  علی محمد الصلابی

علی بن حسین رحمۃاللہ سے ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے سلسلہ میں روافض کے قول سے برأت ثابت ہے۔ چنانچہ ابو نعیم نے اپنی سند سے محمد بن علی (الباقر) سے روایت کی ہے وہ اپنے والد علی بن حسین (زین العابدین) سے روایت کرتے ہیں کہ عراق کے کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخیاں کیں پھر حضرت عثمان غنیؓ کا ذکر چھیڑا تو انہوں (علی بن حسین زین العابدین) نے ان سے کہا: کیا تم لوگ مہاجرین اولین میں سے ہو؟ (جن کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے) 

(العقیدۃ فی اہل ا لبیت: صفحہ 335، و تہذیب تاریخ دمشق: جلد 6 صفحہ 21) 

لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُهٰجِرِيۡنَ الَّذِيۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِيَارِهِمۡ وَاَمۡوَالِهِمۡ يَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا وَّيَنۡصُرُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ‌اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوۡنَ‌۞(سورۃ الحشر آیت 8)

ترجمہ: (نیز یہ مال فیئ) ان حاجت مند مہاجرین کا حق ہے جنہیں اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے بےدخل کیا گیا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلب گار ہیں، اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو راست باز ہیں۔

ان لوگوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم ان لوگوں میں سے ہو جن کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِيۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالۡاِيۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّوۡنَ مَنۡ هَاجَرَ اِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُوۡنَ فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَيُـؤۡثِرُوۡنَ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٌ وَمَنۡ يُّوۡقَ شُحَّ نَـفۡسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‌۞ (سورۃ الحشر آیت 9)

ترجمہ: (اور یہ مال فیئ) ان لوگوں کا حق ہے جو پہلے ہی سے اس جگہ (یعنی مدینہ میں) ایمان کے ساتھ مقیم ہیں۔ جو کوئی ان کے پاس ہجرت کے آتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں، اور جو کچھ ان (مہاجرین) کو دیا جاتا ہے، یہ اپنے سینوں میں اس کی کوئی خواہش بھی محسوس نہیں کرتے، اور ان کو اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے ان پر تنگ دستی کی حالت گزر رہی ہو۔ اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہو جائیں، وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔

ان حضرات نے کہا: نہیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: تم لوگوں نے اس بات کا اقرار کیا اور شہادت دی کہ نہ تو تم ان لوگوں میں سے ہو اور نہ ان لوگوں میں سے اور میں شہادت دیتا ہوں کہ تم لوگ تیسرے گروہ میں سے بھی نہیں ہو جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡلَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞ (سورۃ الحشر آیت 10)

ترجمہ: اور (یہ مال فیئ) ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمائیے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔ 

تم لوگ میرے پاس سے ہٹ جاؤ، اللہ تمہارے اندر برکت نہ دے اور نہ تمہارے گھروں کے قریب برکت

دے، تم اسلام کا استہزاء کرنے والے ہو، تم اسلام کے اہل نہیں۔

(العقیدۃ فی اہل البیت: صفحہ 236) البدایۃ والنہایۃ: جلد 9 صفحہ 112) الجامع الاحکام القرآن: 18، 31ـ32)