Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ پر سبائی فتنہ میں حصہ لینے اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف ہنگامہ برپا کرنے کا اتہام:

  علی محمد الصلابی

ان اتہامات اور افترأات میں مؤرخین نے ان روایات پر اعتماد کیا ہے جن میں سے ایک بھی سند و متن میں طعن سے خالی نہیں۔ سبائی فتنہ کو ہوا دینے، حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف ہنگامہ برپا کرنے اور بغاوت و عصیان کی فضا عام کرنے کے سلسلہ میں حضرت عمارؓ کی طرف مختلف تہمتیں منسوب ہیں۔ ان روایات میں بعض کے اندر یہ مذکور ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ نے انہیں مصر اس غرض سے روانہ کیا تاکہ وہ وہاں کا جائزہ لیں کیوں کہ حضرت عثمان غنیؓ کو یہ خبر پہنچی تھی کہ عوام بغاوت پر اتر آئی ہے اور وہاں سبائی حضرت عمارؓ کو اپنی طرف مائل کرنے اور ان پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں، یہ روایت جسے طبری نے بیان کیا ہے

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 348)

اس کی سند میں شعیب بن ابراہیم تمیمی کوفی ہے جو سیف کی کتابوں کا راوی ہے۔ اس کے اندر جہالت پائی جاتی ہے۔ اس کے بارے میں راوی کا کہنا ہے: یہ معروف نہیں، اس سے جو احادیث و اخبار مروی ہیں، ان میں نکارت ہے اور ان روایات میں سلف پر حملے ہیں۔

(استشہاد عثمان و وقعۃ الجمل: صفحہ 30) 

 اس کو عمر بن شبہ نے تاریخ المدینہ میں روایت کیا ہے اور اس میں عمر کا شیخ علی بن عاصم ہے، اس کے بارے میں امام علی بن مدینی کہتے ہیں کثیر الاغلاط ہے اور جب اس کی غلطی کی تصحیح کی جاتی تھی تو رجوع نہیں کرتا تھا اور حدیث میں معروف تھا اور منکر احادیث روایت کرتا تھا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 9 صفحہ 253) 

امام یحییٰ بن معین نے فرمایا: ’’لیس بشی‘‘ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 9 صفحہ 255)

 (کسی کام کا نہیں) اور ایک مرتبہ فرمایا: ’’کذاب لیس بشی''

(سیر اعلام النبلاء: جلد 9 صفحہ 257)

امام نسائی نے فرمایا: متروک الحدیث ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 9 صفحہ 255)

امام بخاریؒ نے فرمایا: محدثین کے نزدیک قوی نہیں،

محدثین نے اس پر کلام کیا ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 9 صفحہ 255) 

کچھ حضرات نے کلام کرنے میں نرمی اختیار کی ہے۔ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں صدوق ہے، غلطی کرتا ہے اور اس پر اصرار کرتا ہے۔ تشیع کے ساتھ متہم ہے۔ (تہذیب التہذیب: صفحہ 403)

جس روایت کی سند کا یہ حال ہو اس پر اطمینان نہیں کیا جا سکتا خاص کر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کا ورع و تقویٰ معروف ہے جس کے ساتھ یہ باور نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آپ اس طرح کی دلدل میں پھنسیں گے جس میں صرف سبائی یہودی حاقد ہی اتر سکتا ہے۔ اللہ کی پناہ! صحابی رسول اس مستویٰ کو نہیں پہنچ سکتا۔ خالد غیث فرماتے ہیں: یہ روایت صحیح طریق سے ثابت نہیں مزید برآں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت اس روایت کے معارض ہے۔

(استشہاد عثمان و وقعۃ الجمل: صفحہ 86)

اس سلسلہ کی باطل روایات میں وہ روایت بھی ہے جو سعید بن مسیبؒ کی طرف منسوب ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ پر دوسرے ناراض ہونے والوں کے ساتھ صحابہ کرامؓ بھی ناراض ہوئے اور سخت غضب ناک ہوئے، خاص کر حضرت ابوذر غفاری، عبداللہ بن مسعود، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہم۔

(تاریخ دمشق: جلد 39 صفحہ 415، عمار بن یاسر: صفحہ 144)

اس روایت میں آفت یہ ہے کہ اس میں تدلیس سے کام لیا گیا ہے اور تدلیس بھی کوئی معمولی نہیں انتہائی خطرناک ہے، اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے، اس کی سند سے اسماعیل بن یحییٰ بن عبیداللہ جو متہم بالوضع والکذب ہے ساقط کر دیا گیا ہے اسی لیے علمائے حدیث نے اس روایت کی تضعیف کی ہے اور محمد بن عیسیٰ بن سمیع کے ترجمہ میں (جو ابن ابی ذئب سے اس کا راوی ہے) اس روایت کے کھوٹے پن کو ظاہر کیا ہے۔ امام بخاریؒ ابن سمیع کے بارے میں فرماتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ ابن سمیع نے ابن ابی ذئب سے اس حدیث کو نہیں سنا ہے یعنی قتلِ عثمانؓ کے سلسلہ میں زہری کی حدیث کو۔ اور ابن حبان فرماتے ہیں: ابن سمیع نے ابن ابی ذئب سے منکر حدیث بیان کی ہے اور وہ قتل عثمانؓ کی حدیث ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی کتاب میں عن اسماعیل بن یحییٰ عن ابن ابی ذئب تھا لیکن اس نے اسماعیل بن یحییٰ کا نام سند سے ساقط کر دیا اور اسماعیل ذاہب الحدیث ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 16۔17، التاریخ الکبیر: البخاری: جلد 1 صفحہ 203، التہذیب: جلد 9 صفحہ 391، تہذیب التہذیب: جلد 9 صفحہ 392)

ڈاکٹر یوسف العش فرماتے ہیں جو روایت سعید بن مسیبؒ کی طرف منسوب ہے اس کو رد کرنا واجب ہے کیوں کہ تحقیق کے بعد اس کا موضوع ہونا واضح ہے چنانچہ امام حاکم نے بیان کیا ہے کہ اس کی سند کے ایک راوی نے سند میں سے ایک واہی شخص کو ساقط کر دیا ہے اور یہ روایت منکر ہے اور حقیقت میں اس سے اس احترام کا پتہ نہیں چلتا ہے جو سعید بن مسیبؒ کے یہاں ان کے دوسرے اقوال میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سلسلہ میں پایا جاتا ہے۔ (الدولۃ الامویۃ: صفحہ 39)