Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خونِ عثمان رضی اللہ عنہ سے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی برأت

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسنؓ کے ساتھ جب حضرت عمارؓ اہل کوفہ کو قتل پر آمادہ کرنے کے لیے آئے تو مسروق اور ابو موسیٰ اشعریؓ نے آپ کو اس سے متہم کیا، لیکن اس اتہام پر مشتمل اس روایت کی سند مجہول راوی شعیب اور ضعیف راوی سیف کی وجہ سے ساقط قرار پاتی ہے اور صحیح بخاری کی روایت میں ان چیزوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لہٰذا یہ زیادتی قبول نہیں کی جا سکتی خاص کر جب کہ اس کے اندر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما جیسے صحابی پر طعن کیا گیا ہے جو نبی کریمﷺ کی زبان اطہر سے شیطان سے محفوظ قرار دیے جا چکے ہیں۔ (البخاری: 3743) 

اور جن کا رگ و ریشہ ایمان سے پر تھا۔

(عمار بن یاسر: صفحہ 147)

علماء نے اس طرح کے اتہامات کو باطل قرار دیا ہے جو حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اس کی لپیٹ میں اجلہ صحابہ کرامؓ کا ایک گروہ آجاتا ہے۔ علامہ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں: بعض لوگ جو یہ بیان کرتے ہیں کہ بعض صحابہ نے حضرت عثمان غنیؓ کو باغیوں کے حوالہ کر دیا اور ان کے قتل سے راضی رہے، کسی صحابی کے بارے میں یہ کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ صحابہ نے اس کو ناپسند کیا، ناراض ہوئے اور ایسا کرنے والوں کو برا بھلا کہا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 207)

اور قاضی ابوبکر ابن العربیؒ فرماتے ہیں: یہ بھی اس باب میں بیان کی جانے والی روایات کے مشابہ ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ اہل حق کا راستہ اختیار کیا جائے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی صحابی نے نہ آپ کے خلاف حصہ لیا اور نہ آپ کے دفاع سے پیچھے ہٹا اگر آپ ان صحابہ سے مدد چاہتے اور ان کو دفاع کی اجازت دیتے تو ایک ہزار یا چار ہزار اجنبی بیس ہزار یا اس سے زیادہ مقامی لوگوں پر غالب نہیں آ سکتے تھے، لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے خود اپنے آپ کو اس مصیبت میں ڈالا۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 129)

(کیوں کہ آپ اپنی خاطر مسلمانوں کا خون بہانا نہیں چاہتے تھے۔) 

نیز فرماتے ہیں: سرکشوں اور جاہلوں نے یہ بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ وہ یہ باور کرائیں کہ ہر جلیل القدر صحابی عثمان غنیؓ کے خلاف ہنگامہ برپا کرنے والا اور لوگوں کو بھڑکانے والا تھا اور جو کچھ ہوا اس سے راضی تھا اور ان حضرات نے فصاحت و بلاغت اور امثال پر مشتمل ایک خط گھڑا اور اسے حضرت عثمان غنیؓ کی طرف منسوب کر دیا جس کے اندر یہ دکھایا کہ حضرت عثمانؓ حضرت علیؓ سے فریاد کر رہے ہیں۔ یہ سب موضوع اور من گھڑت ہے، اس سے مقصود سلف صالحین اور خلفائے راشدینؓ کے سلسلہ میں مسلمانوں کے دلوں میں بغض و حسد اور غیظ و غضب بھرنا ہے۔ اس سے یہ بات نکھر کر ہمارے سامنے آتی ہے کہ عثمانؓ مظلوم ہیں جب کہ بلاحجت و دلیل صحابہ کرامؓ کو متہم کیا گیا ہے اور تمام کے تمام صحابہ کرامؓ ان کے خون سے بری ہیں کیوں کہ انہوں نے آپ کے ارادہ کے مطابق عمل کیا اور اپنے آپ کو باغیوں کے حوالہ کر دینے کے سلسلہ میں آپ کی رائے کو مانا۔

(العواصم من القواصم: صفحہ 132)