خونِ عثمان رضی اللہ عنہ سے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی برأت
علی محمد الصلابیجب حضرت عثمان غنیؓ کا محاصرہ کر لیا گیا تو حضرت عمرو بن العاصؓ مدینہ سے شام کے لیے روانہ ہو گئے اور فرمایا: اے مدینہ والو! جو بھی مدینہ میں رہے گا اور اس کے رہتے ہوئے ان (عثمانؓ) کو قتل کر دیا گیا تو اس پر اللہ تعالیٰ ذلت و رسوائی مسلط کر دے گا۔ اور جو ان کی مدد نہ کر سکے وہ مدینہ سے بھاگ جائے۔ آپ گئے اور آپ کے ساتھ آپ کے بیٹے عبداللہ اور محمد بھی گئے اور آپ کے بعد حسان بن ثابتؓ روانہ ہوئے اور جن کو اللہ نے چاہا وہ ان کے پیچھے روانہ ہوئے۔
(تاریخ الطبری بحوالہ عمرو بن العاص: الغضبان: صفحہ 464)
جب آپ کو حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت اور حضرت علیؓ کی بیعت کی خبر ملی تو فرمایا: میں ابو عبداللہ ہوں، یہ ایسی جنگ ہے جس میں کسی زخم کو کوئی کھجلائے گا تو وہ اسے تازہ کر دے گا، اللہ تعالیٰ عثمانؓ پر رحم کرے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ سلامہ بن زنباع جذامی نے کہا: اے عرب! تمہارے اور عرب کے درمیان دروازہ تھا تو جب دروازہ ٹوٹ جائے تو دوسرا دروازہ بنا لو۔ حضرت عمروؓ نے فرمایا: یہی ہم چاہتے ہیں اور دروازہ کے لائق ستالی جیسا شخص ہی ہو گا جو حق کو گڑھے سے نکال لے گا اور لوگ برابر عدل میں رہیں گے، پھر حضرت عمرو بن العاصؓ نے یہ اشعار پڑھے
فیالہف نفسی علی مالک
ایصرف مالک حفظ القدر
’’مالک (کی موت) پر مجھے بہت افسوس ہے۔ کیا مالک تقدیر کو نہیں بدل سکتے تھے؟‘‘انزع من الحراودی بہم
فاعذرہم ام بقومی سکر
’’کیا شدید اندھیرے نے انہیں ہلاکت میں ڈال دیا، تو میں انہیں معذور سمجھوں، یا میری قوم کے لوگ مدہوش ہیں؟‘‘
پھر آپ پیدل روتے ہوئے چل دیے اور یہ کہتے رہے: ہائے عثمان! میں حیا اور دین کو آپ کی موت کی خبر دیتا ہوں یہاں تک کہ آپ دمشق پہنچ گئے۔
(تاریخ الطبری بحوالہ عمرو بن العاص: الغضبان: صفحہ 481)
یہ ہے حضرت عمرو بن العاصؓ کی سچی اور روشن تصویر جس کے اندر آپؓ کی شخصیت اور آپؓ کی زندگی کے خدوخال اور حضرت عثمان غنیؓ کے ساتھ قرب نمایاں ہے۔ رہی وہ تصویر جس کے اندر حضرت عمرو بن العاصؓ کے کردار کو مسخ کر کے مصلحت پرست، خود غرض، دنیا دار کی شکل میں پیش کیا گیا ہے وہ متروک اور ضعیف ہے جسے واقدی نے موسیٰ بن یعقوب سے روایت کیا ہے۔
(عمرو بن العاص: الغضبان: صفحہ 481)
ان ضعیف و سقیم روایات سے مؤلفین اور مؤرخین کی ایک جماعت متاثر ہے جس کی وجہ سے انہوں نے حضرت عمرو بن العاصؓ کو تحت الثریٰ پہنچا دیا ہے جیسے محمود بن شیت خطاب (سفراء النبیﷺ: محمود شیت خطاب: صفحہ 508)، عبدالخالق سید ابو رابیہ (عمرو بن العاصؓ: عبدالخالق ابورابیہ: صفحہ 316)
اور عباس محمود عقاد، عقاد تو سند کو دیکھنا ہی نہیں چاہتا اور اپنے قارئین کو بے وقوف بناتا ہے اور ان کے سامنے معاویہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کو موقع پرست اور مصلحت پرست کی شکل میں پیش کرتا ہے اگرچہ تمام تاریخی ناقدین ان روایات کے بطلان پر متفق ہو جائیں جن سے عقاد نے اپنے تجزیہ میں استدلال کیا ہے تو اس کی عقاد کو کوئی پروا نہیں، چنانچہ ان ضعیف، واہی اور ناقابل حجت روایات کو ذکر کرنے کے بعد عقاد کا کہنا ہے کہ تاریخی ناقدین اس گفتگو کی صداقت اور ان کلمات کی صحت سے متعلق جو چاہیں کہیں، اس کی نقل ثابت نہیں، اس کی سند ثابت نہیں اور نہ نص ثابت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں (اگرچہ تمام کتب تاریخ اس کی تردید کریں) کہ دونوں (یعنی معاویہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما) کے مابین سلطنت اور ولایت پر معاونت و سودا بازی کا اتفاق طے پایا اور دونوں کے مابین اس حصہ پر سودا بازی ہوئی جو بعد میں دونوں کو حاصل ہوا۔ اگر یہ نہ ہوتا تو کبھی دونوں میں اتفاق نہ ہوتا۔
(عمرو بن العاص: العقاد: صفحہ 231، 232)
حضرت عمرو بن العاصؓ کی حقیقی شخصیت یہ ہے کہ آپ اصول پسند آدمی تھے۔ حضرت عثمانؓ کی نصرت و امداد نہ کر سکے تو مدینہ کو خیرباد کہہ دیا اور جب ان کی شہادت ہوئی تو خوب روئے کیوں کہ آپ ان کے قریبی ساتھی، دوست اور مشیر تھے۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں گورنر و حاکم نہ ہونے کے باوجود شوریٰ میں شریک ہوتے تھے۔ اور آپ معاویہؓ کے پاس اس غرض سے پہنچے تاکہ ان کے ساتھ مل کر قاتلین عثمان سے جنگ کر کے خلیفہ شہید کا بدلہ لے سکیں۔
(عمرو بن العاص: الغضبان: صفحہ 489۔490)
حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت ان مجرم قاتلین کے خلاف آپ کے غصہ کو بھڑکانے کے لیے کافی تھی اور ایسی صورت میں ان مجرموں سے بدلہ لینے کے لیے جنھوں نے حرم رسول کی بےحرمتی کی تھی، خلیفہ کو لوگوں کی نظروں کے سامنے شہید کیا تھا مدینہ کے علاوہ دوسری جگہ کا انتخاب ضروری تھا، اور حضرت عثمان غنیؓ کی خاطر حضرت عمروؓ کے غصہ ہونے میں کون سا تعجب ہے؟ اگر ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کو اس سلسلہ میں شک ہے تو اس کی بنیاد وہ جھوٹی روایات ہیں جو یہ تصویر پیش کرتی ہیں کہ عمرو بن العاصؓ کے پیشِ نظر صرف حکومت و اقتدار تھا۔
(عمرو بن العاص: الغضبان: صفحہ 492)