Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتنہ شہادت سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال

  علی محمد الصلابی

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ:

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: علی و عثمان رضی اللہ عنہما کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی، تو حضرت انسؓ نے فرمایا: لوگ جھوٹ کہتے ہیں ان دونوں کی محبت ہمارے دلوں میں ایک ساتھ جمع ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 25، تہذیب التہذیب: ابن حجر: جلد 7 صفحہ 141)

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ:

خالد بن ربیع سے روایت ہے کہ جب حضرت حذیفہؓ کی بیماری کی خبر آئی تو حضرت ابو مسعود انصاریؓ کچھ لوگوں کے ساتھ مدائن روانہ ہوئے پھر جب حضرت عثمانؓ کی شہادت کا ذکر کیا گیا تو حضرت حذیفہؓ نے فرمایا: اے اللہ! میں وہاں موجود نہ تھا، نہ میں نے قتل کیا اور نہ میں اس سے راضی ہوں۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 27) 

امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر حضرت حذیفہؓ کو پہنچی تو حضرت حذیفہؓ نے فرمایا: اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ میں خون عثمان سے بری الذمہ ہوں، جن لوگوں نے حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کیا ہے اگر صحیح کیا ہے تو میں ان سے بری الذمہ ہوں اور اگر غلط کیا ہے تو تو خون عثمان سے میری برأت جانتا ہے اور عنقریب عرب جان لیں گے اگر انہوں نے آپ کو شہید کر کے صحیح کیا ہے تو ہم ان سے دودھ دوہیں گے اور اگر غلط کیا ہے تو اس سے خون دوہیں گے چنانچہ لوگوں نے اس سے خون ہی دوہا، اس کے بعد ان سے تلواریں نہیں ہٹیں اور قتل و خونریزی بند نہیں ہوئی۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 28، تاریخ دمشق: صفحہ 388)

ابن عساکر جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت حذیفہؓ سے ملاقات کی اور ان کے سامنے امیر المؤمنین عثمانؓ کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: لوگ ان کو شہید کر کے رہیں گے، میں نے کہا: تو پھر وہ (عثمانؓ) کہاں ہوں گے؟ فرمایا: جنت میں۔ میں نے کہا: آپ کے قاتلین کہاں ہوں گے؟ فرمایا: جہنم میں۔

(تاریخ دمشق: صفحہ 388، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 28)

حضرت ام سلیم انصاریہ رضی اللہ عنہا:

جب حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کی خبر آپؓ کو پہنچی تو فرمایا: اللہ آپ پر رحم فرمائے یہ لوگ حضرت عثمان غنیؓ کے بعد خون ہی دوہیں گے۔ (البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 195)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ:

ابو مریم سے روایت ہے فرماتے ہیں جس دن حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی اس دن حضرت ابوہریرہؓ کو دیکھا آپؓ کی دو چوٹیاں تھیں ان دونوں کو پکڑ کر فرما رہے تھے اللہ کی قسم عثمان کو ناحق شہید کیا گیا ہے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 31، تاریخ دمشق: صفحہ 493) 

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ:

علامہ ابن کثیرؒ روایت کرتے ہیں کہ ابوبکرہؓ نے فرمایا: میں آسمان سے زمین پر پھینک دیا جاؤں یہ میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ میں حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت میں شریک کیا جاؤں۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 31، تاریخ دمشق: صفحہ 493)

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ:

ابو عثمان نہدی سے روایت ہے کہ ابو موسیٰ اشعریؓ نے فرمایا: اگر عثمان غنیؓ کی شہادت ہدایت ہوتی تو امت اس کے ذریعہ سے دودھ دوہتی لیکن یہ ضلالت تھی جس کی وجہ سے امت کو خون دوہنا پڑا۔

(تاریخ المدینۃ: جلد 4 صفحہ 1245)

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ:

ابن عساکر اپنی سند سے حضرت سمرہ بن جندبؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: یقیناً اسلام مضبوط قلعہ میں محفوظ تھا، لوگوں نے حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کر کے اسلام میں دراڑ پیدا کر دی اور اس میں نشتر لگا دیا وہ لوگ اس دراڑ کو پر نہ کر سکے یا قیامت تک وہ اس دراڑ کو پر نہیں کر سکتے۔ مدینہ والوں میں خلافت تھی انہوں نے اس کو مدینہ سے نکال دیا اور یہ ان میں لوٹ نہیں سکتی۔

(تاریخ دمشق: صفحہ 328، تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 31) 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما:

ابو نعیم نے معرفۃ الصحابہ میں اپنی سند سے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: حضرت عثمان بن عفان ذوالنورینؓ مظلوم شہید ہوئے، آپ کو دہرا اجر دیا گیا۔

(معرفۃ الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 245، المعجم الکبیر: جلد 1 صفحہ 46)

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ:

حضرت عبداللہ بن سلامؓ نے فرمایا: حضرت عثمان غنیؓ کو شہید نہ کرو اگر تم نے ایسا کیا تو کبھی ایک ساتھ نماز نہ پڑھ سکو گے۔

(معرفۃ الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 245، المعجم الکبیر: جلد 1 صفحہ 46)

 اور ایک روایت میں ہے: اللہ کی قسم تم خونِ عثمانؓ کو ایک سینگی بھر بھی بہاؤ گے تو اللہ سے دور ہو جاؤ گے۔

[(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 3 صفحہ 34، فضائل الصحابۃ: اسنادہ حسن)

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما:

طلق بن خشاف سے روایت ہے کہ ہم مدینہ گئے، ہمارے ساتھ قرط بن خیثمہ تھے ہم سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے ملے، آپ سے قرط نے کہا: امیر المؤمنین عثمانؓ کو کیوں شہید کیا گیا؟ فرمایا: مظلوم شہید ہوئے۔ (الطبقات: جلد 3 صفحہ 81)

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ:

یزید بن ابی عبیدہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت ہوئی تو حضرت سلمہ بن اکوعؓ جو بدری صحابی ہیں، مدینہ چھوڑ کر ربذہ چلے گئے اور موت سے کچھ دن قبل تک وہیں رہے۔

(تاریخ المدینۃ: جلد 4 صفحہ 145)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما:

ابو حازم سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے پاس تھا آپؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کا تذکرہ فرمایا، حضرت عثمان غنیؓ کے فضائل و مناقب اور قرابت کا ذکر اس طرح کیا کہ وہ شیشہ سے بھی صاف و ستھرا تھا پھر حضرت علی بن ابی طالبؓ کا تذکرہ کیا، حضرت عثمان غنیؓ کے فضائل و سبقت و قرابت کا ذکر اس طرح کیا کہ وہ شیشہ سے بھی صاف و ستھرا تھا۔ پھر فرمایا جو شخص ان دونوں کا تذکرہ کرے اس کو اس طرح ان کا تذکرہ کرنا چاہیے ورنہ نہ کرے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 379)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حضرت عثمان غنیؓ کو برا بھلا نہ کہو، ہم انہیں اپنے بہترین لوگوں میں شمار کرتے تھے۔

(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 379، فضائل الصحابۃ: اسنادہ صحیح)