امام شعبی کی مرسل روایت اہل سنت کے ہاں صحیح کا درجہ رکھتی…

امام شعبی کی مرسل روایت اہل سنت کے ہاں صحیح کا درجہ رکھتی ہے اور قبول کی جاتی ہے۔

  نقیہ کاظمی

کیا سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے ناراض ہوئیں؟

ایک منصف مزاج انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ صرف ایک حدیث یا ایک روایت سے کوئی نتیجہ نکال کر خود فیصلہ کر لے۔

یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی واقعے کو جانچنے کے لیے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جائے، تا کہ ہر ایک راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی حاصل ہوسکے۔

سیدہ فاطمہؓ کی طرف سے سیدنا ابوبکر صدیقؓ سے مطالبہ فدک کی روایات احادیث و روایات و تاریخ کی مندرجہ ذیل باسند کتب سے قریباً 36 مواضع سے دریافت ہوئی ہیں۔

اسماء کُتب:

1: المصنّف لعبد الرزاق (ایک عدد)

2: بخاری شریف میں (5 عدد)

3:مسلم شریف میں (2 عدد)

4:  مُسند امام احمد میں (5 عدد)

5:طبقات ابن سعد میں (2 عدد)

6:مسند ابی عوانہ اسفرائینی میں( 3 عدد)

7:  ترمذی شریف میں (2 عدد)

8:ابوداؤد شریف میں (4 عدد)

9:  نسائی شریف میں (ایک عدد)

10:المننتقیٰ لابن جارود میں (ایک عدد)

11: شرح معانی الآثار طحاوی میں (ایک عدد)

12:مشکل الآثار طحاوی میں (ایک عدد)

13: السنن الکُبری للبیہقی میں (6 عدد)

14: تاریخ الامم و الملوک لابن جزیر طبری میں (ایک عدد)

15:فتوح البلدان بلاذری میں (ایک عدد)

ان مقامات میں مذکورہ روایت بعض جگہ مفصل ہیں اور بعض مواضع میں مجمل ہیں اور تفکر سے واضح ہوا ہے کہ مندرجہ 36 مواضع میں قریباً 11 عدد مطالبہ فدک کی وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابن شہاب زہری نہیں ہے اور دیگر صحابہ کرامؓ مثلاً حضرت ابوہریرہؓ، حضرت ابو طفیل عامر بن واثلہؓ، حضرت ام ہانیؓ وغیرہم سے مروی ہیں یعنی حضرت عائشہؓ سے منقول نہیں۔ یہاں کسی ایک مقام میں بھی رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں۔

اس کے ماسوا 25 مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے، دو طرح کی روایات ہیں۔

 1⃣ :ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہؓ کا کوئی تذکرہ نہیں۔

   ایسے مقامات تقریباً نو عدد ہیں۔

 2⃣ :دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریباً سولہ مقامات ہیں۔

 تحقیق کے مطابق تقریباً 16 مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے۔

 جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہؓ کا غضبناک ہو جانا، ناراض ہوجانا، حضرت ابوبکرؓ کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے، ان تمام روایات میں ابن شہاب الزہری ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے۔

  کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہؓ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت ابن شہاب الزہری کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو۔

اب ہم آتے ہیں کہ

 کس قانون کے تحت ہم یہ کہتے ہیں کہ ناراضگی سیدہ فاطمہؓ اصل روایت میں ابن شہاب الزہری کا ظن (گمان) ہے۔

1⃣:  اگر واقعی سیدہ فاطمہؓ غضب ناک ہوئی ہوتیں تو اصل روایت میں بزبان خاتون جنت حضرت ابوبکرؓ کے خلاف ایک دو جملے ضرور موجود ہوتے۔ 

 اگر شیعہ بضد ہیں کہ اس حدیث سے سیدہ فاطمہؓ کا ناراض ہوجانا ہی ثابت کرنا ہے تو ان سوالوں کے جواب دیں۔ 

 اگر واقعی سیدہ فاطمہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ پر ناراض ہوئیں تو نص حدیث سے سیدہ فاطمہؓ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے الفاظ دکھائیں ؟ 

 غور فرمائیں...! اس حدیث میں غضبت علی ابی بکر صدیق یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔ 

ملت شیعہ سے سوال کیا سیدہ فاطمہؓ نے خود کبھی فرمایا کہ میں حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ناراض ہوں؟؟؟