Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

دوسرے فتنوں کے برپا ہونے میں شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کا اثر

  علی محمد الصلابی

شہادتِ عثمانؓ رضی اللہ عنہ کا فتنہ دوسرے بہت سے فتنوں کے برپا ہونے کا سبب ثابت ہوا اور اس کا پر تو ان فتنوں پر پڑا جو اس کے بعد پیدا ہوئے۔ لوگوں کے دل بدل گئے، جھوٹ عام ہوا، عقیدہ و شریعت میں اسلام سے انحراف کا آغاز ہوا۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 590)

حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت لوگوں کے درمیان فتنوں کے برپا ہونے میں عظیم ترین سبب قرار پائی، اور اس کے سبب سے امت آج تک افتراق و اختلاف کا شکار ہے۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 25 صفحہ 162)

 دلوں میں افتراق رونما ہوا، بڑی مصیبتیں ہوئیں، شرپسند غالب آئے خیر پسند ذلیل ہوئے، فتنہ میں ان لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جو اس سے عاجز تھے، اور خیر و اصلاح سے وہ لوگ عاجز آ گئے جن کی فطرت و عادت خیر و فلاح کی آماجگاہ تھی۔ لوگوں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے بیعت کی سیدنا علیؓ اس وقت خلافت کے سبب سے زیادہ مستحق تھے اور جو باقی تھے ان میں افضل تھے، لیکن دلوں میں افتراق و اختلاف پیدا ہو چکا تھا، فتنہ کی آگ بھڑک اٹھی تھی لہٰذا اتفاق پیدا نہ ہوا جماعت منظم نہ ہوئی، خلیفہ اور امت کے اچھے لوگ چاہتے ہوئے بھی اپنے مقاصد خیر کو پورا نہ کر سکے اور فتنہ و افتراق میں بہت سی اقوام داخل ہو گئیں۔

(مجموع الفتاویٰ: جلد 25 صفحہ 162) 

حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کے آخری سالوں میں آہستہ آہستہ اسلامی فتوحات میں ضعف پیدا ہونا شروع ہوا، جب سبائی فتنہ نے اسلامی شہروں اور مرکز خلافت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے وقت اسلامی فتوحات کا سلسلہ بند ہو گیا اور یہ سلسلہ بند رہا بلکہ بعض مقامات پر مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا یہاں تک کہ حضرت امیر معاویہؓ کی خلافت کا آغاز ہوا اور عالم اسلام کے اندر استقرار پیدا ہوا، امن و امان بحال ہوا اور پھر مشرق و مغرب اور شمال میں اسلامی فتوحات کا سلسلہ پورے آب و تاب سے شروع ہوا۔

(احداث و احادیث فتنۃ الہرج: صفحہ 591)