دوسروں پر ظلم و زیادتی دنیا و آخرت میں ہلاکت کا سبب ہے
علی محمد الصلابییقیناً دوسروں پر ناحق ظلم و زیادتی دنیا و آخرت میں ہلاکت کا سبب ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَتِلۡكَ الۡقُرٰٓى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا۞ (سورۃ الكهف آیت 59)
ترجمہ: یہ ساری بستیاں (تمہارے سامنے) ہیں، جب انہوں نے ظلم کی روش اپنائی تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، اور ان کی ہلاکت کے لیے (بھی) ہم نے ایک وقت مقرر کیا ہوا تھا۔
حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف خروج کرنے والے ان ظالم باغیوں کے حالات کا جو بھی جائزہ لے گا اس کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے ان ظالموں کو نہیں بخشا بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی دنیا میں رسوا و ذلیل کیا اور انتقام لیا، ان میں سے کوئی بھی نہ بچ سکا۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ: جلد 1 صفحہ 483)
خلیفہ بن خیاط اپنی تاریخ میں بہ سند صحیح عمران بن حدیر سے روایت کرتے ہیں کہ غالباً عبداللہ بن شقیق نے مجھ سے بیان کیا کہ عثمانؓ کے خون کا پہلا قطرہ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللّٰهُ ( اللہ تعالیٰ ان سے عنقریب آپ کی کفایت کرے گا۔) (سورۃ البقرہ آیت 137) پر پڑا۔ ابوحریث نے بیان کیا کہ وہ اور سہیل نمیری گئے تو لوگوں نے انہیں وہ مصحف (قرآن) دکھایا جس میں خون کا قطرہ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللّٰهُ پر موجود تھا مٹایا نہیں گیا تھا۔
اور تاریخ ابن عساکر میں محمد بن سیرینؒ سے مروی ہے کہ میں کعبہ کا طواف کر رہا تھا اسی دوران ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اللہ! مجھے بخش دے اور میں نہیں گمان کرتا کہ تو مجھے بخشے گا۔ میں نے اس سے کہا، اللہ کے بندے میں تجھے کیا کہتے ہوئے سن رہا ہوں، ایسا تو کوئی نہیں کہتا۔ اس نے کہا کہ میں نے اللہ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر مجھے قدرت ہوئی تو میں عثمان کے چہرے پر طمانچہ لگاؤں گا۔ جب وہ شہید ہو گئے اور ان کی چارپائی گھر میں رکھی گئی لوگ آتے رہے اور آپ پر جنازہ پڑھتے رہے تو میں بھی داخل ہوا گویا کہ میں جنازہ پڑھنا چاہتا ہوں، میں نے دیکھا کہ جگہ خالی ہے کفن کا کپڑا اٹھایا اور چہرہ پر طمانچہ مار دیا اور پھر کپڑا ڈھانک دیا۔ اب میرا یہ دایاں ہاتھ سوکھ گیا ہے۔ محمد بن سیرین رحمۃاللہ کا بیان ہے کہ میں نے اس کے ہاتھ کو لکڑی کی طرح سوکھا ہوا دیکھا۔
(سیر الشہداء دروس وعبر للسحیبانی: صفحہ 67، تاریخ دمشق: صفحہ 458 تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 485)
ان ظالموں کے ظلم کی پاداش میں صرف مسلمانوں کا ان کے خلاف قیامت تک کے لیے تلوار کھینچ لینا کافی ہے۔
قاسم بن محمد رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد اور بیعت خلافت سے قبل حضرت علیؓ کا گزر مدینہ میں دو آدمیوں کے پاس سے ہوا، وہ دونوں کہہ رہے تھے: بیضاء کا بیٹا شہید ہو گیا، اسلام و عرب میں آپ کے مقام کا کیا کہنا، پھر اللہ کی قسم اب یہ جگہ کوئی پُر نہیں کر سکتا۔ حضرت علیؓ نے کہا: تم دونوں نے کیا کہا؟ انہوں نے اپنی بات دہرائی، سیدنا علیؓ نے فرمایا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم مردوں کے بعد مرد پیدا ہوتے رہیں گے اور لشکر کے بعد لشکر وجود میں آتے رہیں گے یہاں تک کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آئیں گے۔
(تحقیق مواقف الصحابۃ: جلد 1 صفحہ 48، التمہید والبیان: صفحہ 233)