Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

وفاق المدارس کی خدمت میں عرض گزارش


میرے محترم قارئین کرام!

دراصل متحدہ مجلسِ عمل کے نام سے قائم شدہ اتحاد نے نقصان ہی پہنچایا ہے کہ اس کی آڑ میں ایک دہشت گرد اور فرقہ پرست گروہ اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے، اس نقصان کا اندازہ اس بات سے لگایا جائے کہ پاکستان کی سر زمین پر خصوصاً کراچی میں گزشتہ چند سالوں سے مسلسل چن چن کر علمائے کرام کو جن میں اکثر جید اور بزرگ تھے جن کے کوئی سیاسی مقاصد تھے نہ ذاتی دشمنی، کس نے اور کس جرم میں انہیں شہید کیا؟

آج متحدہ مجلس کے علماء ان شہداء کی شہادت پر اخبارات و رسائل میں بیانات دیتے ہیں اور خصوصی شمارے نکالتے ہیں تو مجھے حیرت ہوتی ہے کیونکہ ان علماء کی شہادت میں خفیہ ایجنسیوں کی تحقیقات کے مطابق تحریک جعفریہ کراچی کہ دہشت گردوں کا ہاتھ تھا، علماء کی شہادتوں کے اس سلسلے کو دیکھ کر ہر کوئی دکھی اور فکر مند تھے ایسے میں مداری سے تعلق رکھنے والے غیر سیاسی علماء سے امید تھی کہ وہ اس غیر فطری اتحاد اور اس کی آڑ میں ایک اقلیت کو ملنے والے تحفظ پر کھل کر مجلسِ عمل کے زعماء سے بات کریں گے، لیکن ہمارا یہ یوں خواب چکنا چور ہو گیا کے مدارسِ دینیہ کے وفاقوں نے ایک اتحاد "اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ" کے نام سے قائم کیا افسوسناک خبر یہ تھی کہ مدارس کی ڈگری کو تسلیم کرکے تمام وفاقوں کو ایک بورڈ کی شکل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے، جب وفاق کے ناموں کی فہرست پڑھی تو اس میں "وفاق المدارس شیعہ" بھی شامل تھا، اس مقصد کے لیے حکومت نے مولانا حنیف جالندھری کی قیادت میں علماء کرام سے مذاکرے شروع کر لیے تھے مدارسِ اسلامیہ کی ڈگریوں کا مسئلہ ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے لیکن اس کی آڑ میں سوادِ اعظم کے وفاق المدارس العربیہ کے ساتھ ساتھ وفاق الشیعہ کو بھی وہی اہمیت دینا ایک لمحہ فکریہ ہے؟

دنیا کے کسی ملک میں اقلیت کو اس قدر اہمیت اور اکثریت کو نہیں گردانا جاتا پھر وفاق المدارس شیعہ کے مرکز "جامعۃ المنتظر" کہ مہتمم رسوائے زمانہ نجفی ملعون نے ائمہ کرام، فقہائے عظام کو نعوذباللہ شیطان اور فقہ اسلامی کو شیطانی فقہ، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو نعوذباللہ شیطان کے پیروکار قرار دیا ہو، بخاری شریف جیسے عظیمُ المرتبت کتبِ احادیث کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہو، ایسے افراد اور فرقوں کو اسلامی وفاقوں میں شمار کرنا اور اس کی ڈگری کو وفاق المدارس کی ڈگری کے ہم پلہ قرار دلوانا کون سی اسلام کی خدمت ہے؟

کیا ہمارے محترم علماءِ وفاق المدارس نے علمائے اسلام کے اس متفقہ فتویٰ سے رجوع کر لیا ہے جس میں شیعہ کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر اسلام سے خارج قرار دیا گیا تھا؟ یقیناً ایسا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا تو آخر کیوں علمائے کرام اس طرف سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں؟

کیا مسلمانِ پاکستان ان محترم علمائے کرام سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب نہیں کہ جس مذہب کو ہم حق سمجھ کر اس کی تعلیم دیتے ہیں اس کے مخالفین (شیعہ) کو اس قدر عزت و افزائی اور پشت پناہی مذہب اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کیوں کر ہو سکتی ہے؟ علمبرداروں کو تو چلو سیاسی مجبوریاں ہیں آپ کو کیا مجبوری ہے؟ کوئی ہے جو ان سوالوں کا جواب دے کر مسلمانان پاکستان کو مطمئن کر سکیں؟

 شیعہ اثناء عشری بااتفاقِ امت کافر ہیں، ان کے وجوہِ کفر اور عقائدِ کفریہ کو علماء نے مستقل کتابوں میں جمع کر دیا ہے، اور جب یہ لوگ کافر و مرتد ٹھہرے تو ان کو اسلامی اداروں کا رکن بنایا جائے گا تو گویا خود علمائے اسلام ان کو ایک عزت دینے کے عہدہ پر جگہ دے رہے ہیں، اس سے عوام پر یہ اثر ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو مثل علمائے اسلام کے مقتداء سمجھنے لگتے ہیں اور ان کے فتوے ماننے لگتے ہیں جو سراسر زلالت و گمراہی ہے، اور جس قدر مصالح ان لوگوں کی شرکت میں پیشِ نظر ہیں اس سے بہت زیادہ نقصاناتِ شدیدہ کا خطرہ ہی نہیں بلکہ یقین ہے،اس لیے ہرگز ان لوگوں کو اسلامی اتحاد مجالس میں شریک نہیں کرنا چاہیئے۔