Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کتاب میں مذکور بعض مقامات کا تعارف

  علی محمد الصلابی

1: طبرستان: یہ بحر قزوین کے جنوب میں واقع ہے اس کا صدر مقام ہمدان ہے۔ یہ دو کلمات سے مرکب ہے ’’طبر‘‘ فارسی میں کلھاڑی کو کہتے ہیں اور ’’زنان‘‘ کا معنی ہے خواتین، اس طرح طبرستان طبر+زنان (میرے خیال میں طبر+آستان کا مرکب ہے، آستان بمعنیٰ سر زمین، یعنی کلھاڑیوں کی سر زمین، جیسے ہندوستان، پاکستان، گلستان، جیسا کہ مؤلف نے خود ’’سجستان‘‘ میں ذکر کیا ہے۔

کا مرکب ہے۔ 

2: آذربیجان: اصل کلمہ اتروباتن ہے جس کا معنیٰ ہے آگ کی زمین۔ یہ بحر قزوین کے مغرب میں واقع ہے اس کا صدر مقام اردبیل ہے۔ 

3: آرمینیہ: یہ بہت بڑا علاقہ ہے جو بحر اسود کے جنوب میں ایشیائے کوچک کے مشرق میں واقع ہے۔ چوں کہ اس کے باشندے ارمن ہیں اس لیے اس کو آرمینیہ کہا جاتا ہے۔ یہ پورپین ہندو قبائل ہیں، انہوں نے چوتھی صدی عیسوی کے آغاز میں نصرانیت کو قبول کر لیا تھا۔ اس کے بعد منوفیستی مذہب کو اختیار کیا۔ آرمینیہ کے باشندوں نے اسلامی فتوحات کا مقابلہ کیا اور اپنے نصرانی دین پر باقی رہے۔ 

4: طخارستان: یہ علاقہ ماوراء النہر کے جنوب مغرب میں واقع ہے، اس کا صدر مقام بلخ ہے۔ اس کے اکثر علاقے افغانستان میں داخل ہیں اس کے اہم مراکز قندوز اور خوست ہیں۔ 

5: خراسان: اس کے معنیٰ ہیں سورج کے نکلنے کی جگہ، ایران کی پہاڑی سے مشرق میں واقع ہے، اس کا صدر مقام مرو ہے۔ 

6: سجستان: یہ علاقہ خراسان کے جنوب میں واقع ہے اس کا صدر مقام بست ہے۔ اس کا لفظی ترجمہ ہے کتوں کی سر زمین۔ کیوں کہ سگ کے معنیٰ فارسی میں کتا اور آستان کے معنیٰ علاقہ کے ہیں، لیکن اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہاں ساگا (اسکیشیین) نامی قوم آباد ہے اسی لیے اس کو سجستان کہا گیا اور اب اس کو سیستان کہا جاتا ہے۔ 

7: بلاد ماوراء النہر: جیحوں (آمودریا) اور سیحون (سردریا) ان دونوں دریاؤں کے مابین علاقے کو بلاد ماوراء النہر کہا جاتا ہے۔ اس کے شہروں میں سے بخار، سمرقند اور تاشقند ہیں اور موجودہ دور میں یہ علاقہ ترکمانستان ازبکستان اور تاجکستان جمہوریاؤں کے ضمن میں واقع ہے۔ 

8: جرجان: یہ علاقہ بحر قزوین کے مشرق میں واقع ہے۔ ماضی میں اس کا نام باختر یا بیکٹریا تھا جہاں زردشت نے اپنی دعوت کی بشارت سنائی تھی۔ 

9: خوزستان: یہ علاقہ ایرانی پہاڑی کے مغرب جنوب میں واقع ہے۔ عراق کی سرحد اس سے ملتی ہے، اہواز اس کا قصبہ ہے، عربوں نے اس کو عربستان کا نام دیا تھا۔ رضا شاہ پہلوی نے 1925ء میں اس عربی حاکم شیخ خزعل کعبی کو گرفتار کر کے قبضہ کر لیا۔ یہ علاقہ پٹرول سے مالا مال ہے۔